جی این این سوشل

کھیل

ٹی 20ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے نمیبیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی

آسٹریلیا نے نمیبیا کو شکست دے کر سپر ایٹ کیلئے کوالیفائی کرلیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ٹی 20ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے نمیبیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
ٹی 20ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے نمیبیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی

ٹی 20 ورلڈ کپ میں آسٹریلیا نے نمیبیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر سپر ایٹ کے لیے کوالیفائی کرلیا۔

بہترین کارکردگی پر ایڈم زیمپا کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔

آسٹریلیا نے 73 رنز کا ہدف 5 اعشاریہ 4 اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کیا۔

ٹریویس ہیڈ 34 اور مچل مارش 18 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، آوٹ ہونے والے واحد کھلاڑی ڈیوڈ وارنر تھے وہ 20 رنز اسکور کر سکے، انہیں ڈیوڈ ویسے نے پویلین کی راہ دکھائی۔

اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے چوبیسویں میچ میں آسٹریلیا نے نمیبیا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

نمیبیا کی جانب سے اننگز کا آغاز اچھا نہ تھا اور 21 رنز پر اس کے 5 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے اور پوری ٹیم سترہویں اوور میں 72 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

جرہارڈ 36 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ مائیکل لین ونگن 10 رنز اسکور کرسکے، اس کے علاوہ نمیبیا کا کوئی بھی کھلاڑی ڈبل فیگر میں داخل نہ ہوسکا۔

آسٹریلیا کی جانب سے سب سے کامیاب بولر ایڈم زمپا رہے جنہوں نے 4 اوورز میں 12 رنز کے عوض 4 وکٹ حاصل کیے۔

مارکس اسٹونیس اور جوش ہیزل ووڈ نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ایک ایک وکٹ پیٹ کمنز اور نیتھن ایلیز کے حصے میں آئی۔

نارتھ ساؤنڈ میں جاری میچ میں سابق عالمی چیمپئن آسٹریلیا جیت کے ساتھ ہی سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلے گا۔

آسٹریلیا ایونٹ میں اب تک دو میچوں میں دو جیت کے ساتھ سپر ایٹ مرحلے کے لیے فیورٹ ہے۔

یاد رہے کہ ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا نے افتتاحی میچ میں اومان کو شکست دینے کے بعد روایتی حریف انگلینڈ کو 36 رنز سے ہرایا تھا۔

پاکستان

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، جسٹس بابر ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس بابرستار نے کہا ہے کہ صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کررہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منوراقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ لائیو کال کو مانیٹر کرسکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 2013 میں نئی پالیسی آئی، وزارتِ داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ضرورت پڑنے پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارتِ داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، وزارتِ داخلہ کے ایک سیکشن افسر نے ایس او پی جاری کردیا اور سیکشن افسر کے ایس او پی کے تحت آپ ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ اُن میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کام کرنے کیا میکانزم ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، جس پر پولیس وکیل نے کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جستس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟

ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے پوچھا کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے۔

وکیل ٹیلی کام کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابتآڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

کراچی میں لیاقت آباد کے علاقے میں کھدائی کے دوران عمارت گر گئی

کباڑی گلی میں بلڈنگ زمین بوس ہونے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،ریسکیو حکام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کراچی میں لیاقت آباد کے علاقے میں کھدائی کے دوران عمارت گر گئی

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں عمارت کے نیچے قائم دکان میں کھدائی کے دوران عمارت گرگئی۔واقعہ لیاقت آباد 10 نمبر میں بورے خان سینٹر پر زیر تعمیر عمارت کو حادثہ پیش آیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق کباڑی گلی میں بلڈنگ زمین بوس ہونے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، عہدیداروں کے مطابق عمارت کے نیچے قائم دکان میں کھدائی کا کام چل رہا تھا۔

یاد رہے کہ لیاقت آباد 10 نمبر میں گلیاں انتہائی تنگ ہیں اور بیشتر رہائشی عمارتیں کثیرمنزلہ عمارتوں پر مشتمل ہیں۔ ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

کوشش ہوگی اگلے آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنائیں، وزیر خزانہ

پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کوتیزی سے آگے بڑھایاجائےگا، محمد اورنگزیب

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کوشش ہوگی اگلے آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنائیں، وزیر خزانہ

وزیرخزانہ و سینیٹرمحمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کوشش ہوگی اگلے آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنائیں، حکومت ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنا چاہتی ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ کہ حکومت نے نکات پر عملدرآمد کا آغاز کردیاہے، بجٹ سےمتعلق تجاویز کاخیرمقدم کرتے ہیں، حکومت ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجٹیلائزیشن کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کوتیزی سے آگے بڑھایاجائےگا۔ قیمتوں میں بگاڑ پیدا کرنے والی سبسڈی کا خاتمہ کیا جائےگا، حکومت ٹیکس ٹوجی ڈی پی کو 13فیصد بڑھانے کیلئے پرعزم ہے، زراعت،تعلیم اور صحت کے شعبے حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومتی اخراجات میں سادگی اور کفایت شعاری لائیں گے، دودھ، سٹیشنری، ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز سمیت بعض ضروری اشیاء پر ٹیکس استثنا برقرار رکھا جائے گا، قومی سلامتی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائے گی، اقتصادی مسائل کے حل، معیشت کی ترقی اور معاشی استحکام کیلئے قومی اتفاق رائے ضروری ہے، تمام شراکت داروں کو مل کر ملکی مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے صحت،زراعت اور دیگر شعبوں میں ہر ممکن حد تک ریلیف دیا، سٹیشنری کیلئے ٹیکس استثنی برقرار رکھاگیا ہے،حکومت ٹیکس ٹی جی ڈی پی 13فیصد تک بڑھانے کیلئے پرُعزم ہے، ایف بی آر نے مشکل حالات کے باوجود ٹیکس آمدن میں30فیصداضافہ کیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ میں ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات کیلئے7ارب مختص کیے، وقت آگیا ہے جو دکاندار تاجر دوست سکیم کا حصہ نہیں بنے ان کے خلاف کارروائی کی جائے، پاکستان میں دوست ممالک کی سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی ہماری اہم ترین ترجیح ہے، ہماری مسلح افواج دہشتگردوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں، حکومت جامع منصوبے کے ذریعے چینی باشندوں کی سکیورٹی کو یقینی بنارہی ہے، سی پیک فیز2پر عملدرآمد تیز کرنے کیلئے حکومت اقدامات اٹھارہی ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ کوشش کریں گے اگلے آئی ایم ایف پروگرام کو پاکستان کا آخری پروگرام بنائیں گے، چھوٹے اور درمیانے پیمانے کی صنعت کو ترقی دیکر برآمدات میں اضافہ کریں گے، اشرافیہ اور ملکی وسائل کا استحصال کرنے والوں کی مراعات کو ختم کیاجائےگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll