جی این این سوشل

علاقائی

ڈاکٹر محمد یوسف کی تصنیف ریسرچ اور تہذیب کے لیے اہم سنگ میل ہے،صوبائی وزیر تعلیم

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ اس کتاب کی صورت میں ڈاکٹر یوسف بشیر نے گلوبل ساؤتھ کی ثقافتی تاریخ کو محفوظ کردیا ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ڈاکٹر محمد یوسف کی تصنیف ریسرچ  اور تہذیب کے لیے اہم سنگ میل ہے،صوبائی وزیر تعلیم
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر


لاہور : ڈاکٹر محمد یوسف کی تصنیف ریسرچ ،ثقافت اور تہذیب کے لیے اہم سنگ میل ہے ۔ 
ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہا کہ یہ تحقیقی کام قابل ستائش ہے اور عالمی جنوبی خطے کے اسکالرز کے لیے مشعل راہ ہے ۔
معروف محقق ،استاد اور میڈیا سکالر پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف بشیر کی تدوین کردہ کتاب ،،دی کنسٹرکشن آف کلچر اینڈ کمیونیکیشن ان گلوبل ساؤتھ کی تعارفی تقریب قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن میں منعقد ہوئی ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ اس کتاب کی صورت میں ڈاکٹر یوسف بشیر نے گلوبل ساؤتھ کی ثقافتی تاریخ کو محفوظ کردیا ہے ۔اس طرح کے تحقیقی کام کی ہرصورت میں بھرپور حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے ۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر چئیر پرسن پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر محمد یوسف کے تخلیقی کام کو سراہا اور اس کتاب کو عالمی جنوبی خطے کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے اہم دستاویز اور سنگ میل قرار دیا ۔

پروفیسر ڈاکٹر نوشینہ سلیم ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف کمیونیکیشن نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں فخر ہے کہ صاحب کتاب ان کے شاگردوں میں سے ہیں ۔کاشف منظور ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریز نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف بشیر کی کاوش لائق تحسین اور اس کے زریعے بہت سے مسائل کا حل مل سکتا ہے ۔پروفیسر ڈاکٹر زاہد بلال نے کہا کہ آج ہمیں اپنے کلچر اور اقدار سے جڑنے کی ضرورت ہے ۔

کتاب کے ایڈیٹر ڈاکٹر محمد یوسف نے کہا   کی ہم نے اس کتاب میں مغرب کے برعکس دوسرے ممالک میں تخلق ہونے والے علم اور اسکی تدوین کا خلاصہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ کا مرزا محمد یسین بیگ نے کہا کہ ایسی کتب سے مقامی منظر نامے کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔دیگر مقررین میں ڈاکٹر مبینہ افتخار  نے اپنی پی ایچ ڈی ڈگری کے سفر کا تذکرہ  کرتے ہرے بتایا کہ ڈاکٹر محمد یوسف نے انکے زندگی کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر مرتضی عاشق نے کہا یہ کتاب پاکستان میں اساتذہ اور طلبا کے لیے ریفریس کا کام کرے گئی۔

دنیا

بنگلہ دیش میں کرفیو نافذ، فوج طلب کر لی گئی، مظاہروں میں 105 ہلاک

حکومت کے کرفیو نافذ کرنے اور فوج طلب کرنے کے اقدامات کے باوجود، بنگلہ دیش میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بنگلہ دیش میں کرفیو نافذ، فوج طلب کر لی گئی، مظاہروں میں 105 ہلاک

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کے مظاہروں کے شدت اختیار کرنے کے بعد حکومت نے ملک بھر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور فوج طلب کر لی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بنگلہ دیش کی حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں کرفیو نافذ کرکے فوج کو طلب کر لیا ہے۔

حکومت کے ترجمان نعیم الاسلام خان نے کہا کہ حکومت نے کرفیو نافذ کرنے اور سویلین حکام کی مدد کے لیے فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرفیو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

رواں ہفتے بنگلہ دیش میں طلبہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 105 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ مظاہرے 15 سال اقتدار میں رہنے کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج ہیں۔

اس سے قبل دارالحکومت ڈھاکا میں پولیس نے مزید تشدد کو روکنے کی کوشش میں ایک دن کے لیے تمام عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا سخت قدم اٹھایا تھا۔

بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ اس نظام کے تحت، 1971 کی جنگ میں پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے والے بنگلہ دیشیوں کے بچوں اور خاندانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں کچھ حصے مختص ہیں۔ تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام سے میرٹ پر مبنی بھرتی کا عمل متاثر ہوتا ہے اور اس سے دیگر امیدواروں کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔

حکومت کے کرفیو نافذ کرنے اور فوج طلب کرنے کے اقدامات کے باوجود، بنگلہ دیش میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔ کئی شہروں میں مظاہرے جاری ہیں اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے بنگلہ دیش میں تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مظاہرین کے ساتھ پرامن طریقے سے بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ابو ظہبی پورٹس کا کراچی بندرگاہ پر25کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

ابو ظہبی پورٹس پاکستان کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ، وفد کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسر خریم عزیز خان نے کی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ابو ظہبی پورٹس کا کراچی بندرگاہ پر25کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

ابو ظہبی پورٹس پاکستان اگلے 10 سال میں کراچی بندر گاہ پر 25 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

ابو ظہبی پورٹس پاکستان کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ۔ وفد کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسر خریم عزیز خان نے کی۔

ملاقات کے دوران انھیں بتایاگیا کہ تمام ضروری سہولیات سے لیس جدید کثیر المقاصد ٹرمینل آئندہ دو سال میں مکمل کرلیاجائے گا اس منصوبے پر تیرہ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ٹرمینل منصوبے میں ایسس کنٹرول کی تعمیر ، خود کار دروازے ، دوسومیٹرز تک برتھ کی توسیع ، کرین ریل ٹریک اور دیگر ڈھانچہ جاتی کام شامل ہے۔

ٹرمینل پر نئے ڈھانچے کی تعمیر سے ایک لاکھ بیس ہزار ٹن تک کے مال برادر بحری جہاز لنگر انداز ہوسکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا ابو ظہبیپورٹس کے ساتھ معاہدے کا مقصد شفافیت ، فعالیت اور بندرگاہ کی کارکردگی کوبڑھانا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بندرگاہ پر اشیا اور کنٹینرز کی نقل وحمل کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید مشینری سے بہتر بنایاجائے گا۔

شہبازشریف نے کہا کہ بندرگاہوں پر کنٹینر کے نظام کو بہتر بنا کر کلیئرنس کے لیے درکاروقت کو کم کیاجاسکتا ہے ۔

وزیراعظم نے منصوبے کو فعال کرنے اور ٹرمینل سے اشیا کواٹھانے کے لیے ریلوے حکام کو مال برادر بوگیوں اور ضروری سازوسامان کی فراہمی کی بھی ہدایت کی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کیلئے خوشخبری

ویزہ سروس بند ہونے سے تعلیم کے حصول کیلئے جرمنی جانیوالے طالبعلموں کو مشکلات کا سامنا رہا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کیلئے خوشخبری

کراچی : جرمنی جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے اچھی خبر آگئی ، جس سے تعلیم کے حصول کیلئے جانیوالے طالبعلموں کو در مشکلات دور ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق جرمن قونصل خانے کراچی نے ویزہ سروس بحال کردی اور جرمنی میں تعلیم کے حصول اور ویزے کے خواہشمندوں سے درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ شروع کردیا۔

قونصل خانے کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ویزے کا اجراء بھی شروع کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 9جولائی کو جرمن قونصل خانے کی جانب سے غیر معینہ مدت کیلئے اپنی ویزہ سروس معطل کردی تھی تاہم اس دوران یورپی شہریوں کیلئے ویزہ سروس بحال تھی۔

ویزہ سروس بند ہونے سے تعلیم کے حصول کیلئے جرمنی جانیوالے طالبعلموں کو مشکلات کا سامنا رہا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll