جی این این سوشل

دنیا

2024 میں 18 لاکھ سے زیادہ افراد نے حج ادا کیا، سعودی شماریات اتھارٹی

16 لاکھ 11 ہزار 310 عازمین حج دنیا بھر کے ملکوں سے حج کرنے تشریف لائے، اتھارٹی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

2024 میں 18 لاکھ سے زیادہ افراد نے حج ادا کیا، سعودی شماریات اتھارٹی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے مطابق اس سال 1445 ہجری کے دوران حجاج کرام کی کل تعداد 18 لاکھ 33 ہزار 164 رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 16 لاکھ 11 ہزار 310 عازمین حج دنیا بھر کے ملکوں سے حج کرنے تشریف لائے تھے جبکہ  ملکی حجاج کرام کی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار 854 رہی۔ ان ملکی حجاج میں سعودی شہری اور سعودی رہائشی دونوں طرح کے افراد شامل ہیں۔

اتھارٹی نے رواں سال کے حج کے لیے اپنے اعدادوشمار کے نتائج میں عندیہ دیا ہے کہ اندرون و بیرون ملک مقیم عازمین حج کی مجموعی تعداد میں سے مرد عازمین حج کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 137 رہی اور خواتین کی تعداد 8 لاکھ 75 ہزار 27 رہی۔

 مملکت کے باہر سے آنے والے عازمین حج میں سے عرب ملکوں سے آنے والے عازمین کا تناسب 22.3 فیصد رہا۔ ایشیائی ممالک سے 63.3 فیصد، افریقی ملکوں سے 22.3 فیصد اور یورپی، شمالی و جنوبی امریکہ و آسٹریلیا سے آنے والے حجاج کرام کی تعداد 3.2 فیصد تھی۔

مملکت سے باہر سے آنے والے عازمین حج میں سے 15 لاکھ 46 ہزار345 ایئرپورٹس کے ذریعے پہنچے۔ 60 ہزار 251 حجاج کرام بری راستوں اور 4 ہزار 714 حجاج کرام بحری پورٹس سے سعودی عرب داخل ہوئے۔

 

تجارت

شہباز حکومت 18 ماہ چلے گی، فچ کی پیشگوئی

 پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے، رپورٹ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شہباز حکومت 18 ماہ چلے گی، فچ کی پیشگوئی

معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے پاکستان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے اور پاکستان کی موجودہ مسلم لیگی حکومت 18 ماہ تک برقرار رہے گی۔

فچ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کی شرح کم ہوسکتی ہے اور رواں مالی سال کے اختتام تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے شرح سود میں کمی کی توقع ہے۔

فچ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو 14فیصد لائے، حکومت پاکستان نے بجٹ میں مشکل ترین معاشی اہداف مقرر کیے ہیں، حکومت پاکستان مالیاتی خسارہ 7.4 سےکم کرکے 6.7 فیصد پر لانا چاہتی ہے۔

فچ رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کے مشکل معاشی فیصلےآئی ایم ایف کےساتھ پروگرام کی راہ ہموارکررہےہیں، پاکستان کی معیشت کے لیے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ معاشی رسک ہے، پاکستان کی زراعت کے لیے سیلاب اور خشک سالی معاشی رسک ہے۔

فچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے فروری کے الیکشن میں آزاد امیدواروں کو بڑی کامیابی ملی، جیتے والے آزاد امیدوار کو جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی، پاکستان کے شہروں میں مظاہرے معاشی سرگرمیاں متاثر کر سکتے ہیں۔

فچ نے پیش گوئی کی کہ بانی پی ٹی آئی مستقبل قریب میں زیر حراست ہی رہیں گے اور پاکستان کی موجودہ مسلم لیگی حکومت 18 ماہ تک برقرار رہے گی۔

فچ نے مزید کی پیش گوئی کی کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر ساری معاشی اصلاحات کرے گی اور موجودہ حکومت ختم ہوئی پاکستان میں ٹیکنوکریٹ کی حکومت آئے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہا تھا کہ نئے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) پروگرام سے پاکستان کےلیے فنڈنگ کے امکانات میں بہتری آئے گی۔

موڈیز کے مطابق پاکستان کی بیرونی پوزیشن اب بھی نازک ہے، بلند بیرونی مالیاتی ضروریات کے ساتھ اگلے 3 سے 5سال پالیسیوں میں مشکلات درپیش ہونگی، کمزور گورننس اور اعلیٰ سماجی تناؤ حکومت کی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں، عمر ایوب

غریب پہلے ہی مہنگائی میں پس رہے ہیں اور ملک میں افراط زر مزید اوپر جائے گی، رہنما پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں، عمر ایوب

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ پیٹرول اور بجلی بلوں میں اضافہ کسی بھی صورت قبول نہیں ہے، تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے اور رہے گی، اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں ، غریب پہلے ہی مہنگائی میں پس رہے ہیں اور ملک میں افراط زر مزید اوپر جائے گی۔

اڈیالہ جیل کے باہر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت میں عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اس حکومت کا غریب اور محنت کش سے کوئی تعلق نہیں، حکومت کے لوگ صرف پیسے بنانے کےلیے آئے ہیں۔پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ حکومت کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ کرپشن ہے۔ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، حکومت گندم برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بیٹوں کی بات کرنا قانونی حق ہے۔ ہمارے لیڈر کو جیل میں ڈالا لیکن پارٹی نہیں ٹوٹی، پی ٹی آئی ایک پارٹی ہے اور رہے گی۔ ہم نے اسپیکر قومی اسمبلی کو تحریک استحقاق جمع کروا دی جس میں کہا گیا ہے ہم بانی تحریک انصاف کو ملنے اڈیالہ جیل 4 جولائی کو گئے اور ہم اڈیالہ جیل کے گیٹ پر ساڑھے چار گھنٹے انتظار کرتے رہے مگر ملاقات نہیں کروائی گئی۔

عمر ایوب کا کہنا تھا میں کئی بار اڈیالہ جیل جا چکا ہوں اکثر بانی تحریک انصاف سے ملاقات سے انکار کیا گیا جہاں مجھے اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کو بغیر کسی پنکھے اور پانی کے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ہم بطور ممبر قومی اسمبلی مطالبہ کیا کہ مذکورہ بالا سرکاری ملازمین کو استحقاق کمیٹی کے سامنے طلب کیا جائے اور تمام افسران سے پوچھا جائے کہ قومی اسمبلی کے ممبران کا استحقاق کیوں پامال کیا گیا؟ اور ان کے خلاف قواعد کے مطابق سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کا ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ساتھ تعطیلات کے دوران 4 اہڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں ہمارے اور اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آج پارلیمانی کمیٹی نے اہم فیصلے کیے، سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کو لگانا مناسب نہیں سمجھتے۔ایڈہاک ججز آزاد عدلیہ کے لیے مضر ہے، ہم معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج رہے ہیں، ججز اس معاملے کو متنازع نہ بنائیں، آج فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں لگانے والے ایڈہاک ججز کو لگایا گیا وہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ 4 ججز کو ایک ساتھ دوران تعطیلات لایا جا رہا ہے، 3 سال کے لیے ان چار کو لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے، مخصوص نشستوں کےفیصلے پر عمل کرانا سپریم کورٹ کا کام ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرانا چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر صورت اس فیصلے پر عمل درآمد ہو۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کے 70 فیصد عوام کی ترجمان جماعت ہے، پی ٹی آئی پر کوئی بھی پابندی حکومت کے خاتمے کی طرف کاؤنٹ ڈاؤن ہوگا، پی ٹی آئی محب وطن پارٹی تھی، ہے اور رہے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے اتحادی جماعت کے ساتھیوں نے علامتی مارچ کیا ہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سمیت تمام افراد کو رہا کیا جائے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی کیسزکی مذمت کرتے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جعلی کیس کیا گیا جس سے انہیں بری کردیا گیا، نیب ٹیم نے جھوٹے کیسز میں پھر گرفتار کیا جس کی مذمت کرتے ہیں، ہم ان تمام بوگس کیسز کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ ایڈہاک ججز ہمارے کیسز نہ سنیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ عمران خان کے خلاف مضامین لکھتی رہی ہیں، انہوں نے اپنا مائنڈ دیا، چیف جسٹس کو عمران خان سے متعلق کوئی کیس نہیں سننا چاہیئے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ میں ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر اور اس کے دیگر ممبران فوری مستعفی ہوں ورنہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروئی ہونی چاہیئے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، سپریم کورٹ فیصلے سے مینڈیٹ عوامی نمائندوں کی طرف جارہا ہے۔حکمران ٹولے کے پاس آپشن ختم ہوگئے ہیں، کہا جارہا ہے حکومت 18 ماہ کی مہمان ہے، پی ٹی آئی پر پابندی انتہائی بھونڈا اقدام ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll