موجودہ ایوان کرپٹ سیاستدانوں کی آماجگاہ بن گیا ہے، کنوینئر عوام پاکستان


سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے نئی جماعت عوام پاکستان پارٹی لانچ کردی۔
نئی جماعت کے حوالے سے اسلام آباد میں تقریب منعقد ہوئی جس میں شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، سابق گورنر خیبر پختونخوا سردارمہتاب عباسی، سابق وفاقی وزیرصحت ڈاکٹر ظفر مرزا، سابق صوبائی وزیر پنجاب زعیم قادری اور دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کنوینئر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فارم 47 کی ہاری ہوئی حکومت ملک چلانے سے قاصرہے، موجودہ ایوان کرپٹ سیاستدانوں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ پاکستان میں ریڈی میڈ سیاسی جماعتیں بنتی ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، ہم سے بھی اپنی پارٹی کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ کیااسٹیبلشمنٹ آپ کے ساتھ ہے۔ ملک میں 3 بڑی سیاسی پارٹیوں کے اقتدار کو آزمایا جا چکا ہے۔ عام آدمی کی سوچ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر ملک میں کسی کی حکومت نہیں بن سکتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب لوگ آئین پاکستان کے تابع ہیں، کوئی جج یا سیاستدان اس سے ماوراء نہیں ہے۔ ملک میں کیے گئے ہر غیر آئینی قدم نے کرپٹ ترین سیاست دان دیے۔
سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ الیکشن ہارے ہوئے ہیں۔ فارم 47 والی جماعت حکومت نہیں چلا سکتی، اس وقت کرپٹ ترین سیاست دان ایوانوں پر حاوی ہیں۔ ملک میں اربوں کی اسمگلنگ کو قابو نہیں کیاجاتا مگر عوام پر بے انتہا ٹیکس لگا دیے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے جو عوام پر ٹیکس لگا کر خود ٹیکس نہیں دیتے۔ ارکان اسمبلی بتائیں کہ دودھ پرتو ٹیکس لگا دیا کیا اپنی آمدن پر بھی ٹیکس لگایا۔ ہم جی ڈی پی کا محض ایک فیصد صحت پر خرچ کر رہے ہیں۔ ملک کے 2 کروڑ 80 لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے، 500 ارب ارکان اسمبلی میں بانٹے جا سکتے ہیں مگر سکولوں کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے جا سکتے۔
پاکستانی حکمرانوں کے طرز حکومت کے بارے میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی بدولت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، مگر پاکستان کے حکمرانوں کو ملک کی بجائے صرف اپنی کرسی کی پرواہ ہے۔لوکل گورنمنٹس کو بہتر کیے بغیر ملکی حالات بہتر نہیں ہو سکتے، مگر بدقسمتی سے اپنے اقتدار کی طوالت کی خاطر حکمرانوں نے لوکل گورنمنٹس کو بہتر ہونے نہیں دیا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہمیں آج بھی وزارتیں مل سکتی ہیں مگر ایسی وزارتیں کس کام کی جن سے عوام کا کچھ بھی بھلا نہ ہو۔ ہم پاکستان کا نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ موجودہ نظام صرف اشرافیہ کے مفادات کا نگران ہے۔ یہ نظام کسی بھی غریب کو آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ بجٹ میں صرف تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھایا گیا ہے۔ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر تو ٹیکس ہے، 2 ہزار ایکڑ اراضی رکھنے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں۔ مڈل کلاس کو ختم کیا جارہا ہے۔
سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکمران شکاری اور عوام شکار ہیں۔ بجٹ نے حکمرانوں کی ترجیحات واضح کردیں۔ کیا ایسٹ انڈیا کمپنی حکومت چلارہی ہے۔ ہمیں ایسا پاکستان قبول نہیں جہاں ظلم ہو رہا ہو۔ پاکستان اس لیے تو قائم نہیں کیا گیا تھا کہ ہم یہاں قید رہیں۔
پنجاب اسمبلی میں 16سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرپابندی کی قرارداد منظور
- ایک دن قبل
لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی
- 3 دن قبل

وزیراعظم کی بشکیک میں عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
- ایک دن قبل
راولپنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالہ لئی بپھر گیا، فوج طلب، تعلیمی اداروں میں تعطیل
- ایک دن قبل
’مکہ دفاعی اتحاد‘ کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت
- 2 دن قبل

اسٹیج اداکار محمد صدیق المعروف عابد چارلی شدید علیل
- 2 دن قبل

کتنے پاکستانی کرپٹو اکاؤنٹس کے مالک بن گئے؟ بلال بن ثاقب نے بتا دیا
- 2 دن قبل

خریداروں کے لیے خوشخبری، سونے کی قیمت میں مزید کمی
- 2 دن قبل

پاکستان نے اگلے سال کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی
- ایک دن قبل

فیملی ڈرامے وقت کی اہم ضرورت ہے، اداکار شان شاہد
- 2 دن قبل

مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، حاقان فیدان
- 2 دن قبل
بلوچستان میں متعدد کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کے 21 دہشت گرد ہلاک
- ایک دن قبل



