جی این این سوشل

کھیل

پا ک ٹیم کے ورلڈ کپ ہارنے کی وجوہات ، ٹیم میں سیاست کا انکشاف 

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی ورلڈ کپ 2024 میں بہت بری کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناکامی کا سامنا کیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پا ک ٹیم کے  ورلڈ کپ ہارنے کی وجوہات ، ٹیم میں سیاست کا انکشاف 
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستانی ٹیم کے کرکٹ ورلڈ کپ ہارنے کی وجوہات سامنے آ گئیں، ٹیم میں کھلاڑیوں کی سیاست کا انکشاف 

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ ہارنے کی وجوہات کا تعین کرنے والی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات سامنے آگئے۔ 
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نےپاکستان کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ میں بری کارکردگی کی وجوہات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ مانگ تھی۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی ورلڈ کپ 2024 میں بہت بری کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناکامی کا سامنا کیا، جس پر پوری پاکستانی قوم اپنی ٹیم سے نالاں نظر آئی۔ چیئرمین پی سی بی نے بھی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کے بعد ٹیم میں بڑی سرجریاں کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ 
رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اندر لابنگ ہو رہی تھی۔ کھلاڑی ٹیم کے اندر ایک دوسرے کے خلاف محاز آرا تھے۔ 
یہ بھی انکشاف ہوا کہ سیلیکٹرز کی کچھ کھلاڑیوں پر غیر ضروری کرم نوازیاں تھیں، جن میں ایک نام شاہین شاہ آفریدی کا بھی آیا۔ 
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر شاہین آفریدی مینیجمنٹ کی بات نہیں مانتے تھے اور بدتمیزی بھی کرتے تھے۔ اس سب کے باوجود شاہین شاہ آفریدی کو چیف سیلیکٹر وہاب ریاض کی سرپرستی حاصل تھی۔ 
انکشاف کیا گیا کہ ٹیم کے اندر موجود اختلافات کا عروج اور اتحاد کی کمی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام بنایا۔

پاکستان

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں  جسمانی  ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائیکورٹ نے 9 مئی کے 12 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قراردے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس انوار الحق نے دریافت کیا کہ درخواست گزار کتنے مقدمات میں نامزد ہیں؟ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 3 مقدمات میں نامزد ملزم ہیں، کیسز کی 2 کیٹگری ہیں، ایک جس میں نامزد ہیں دوسری جس میں ضمنی کے ذریعے نامزد کیا گیا ہے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیسز سے پولیس کی نا اہلی، سستی ظاہر ہوتی ہے، 9 مئی کے 9 کیسز میں پولیس 425 دن تک سوئی رہی، پولیس نے اتنی دیر بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کیوں نہیں ڈالی۔ پراسیکیوشن بدنیتی سے جان نہیں چھڑوا سکتی، ایک وقت بانی پی ٹی آئی عبوری ضمانت پر بھی تھے، تو ان کو شامل تفتیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

جسٹس انوارا الحق پنوں نے ریمارکس دیے کہ جب درخواست گزار کو امید ہوئی کہ وہ جیل سے باہر آ جائے گا تب آپ نے ان مقدمات میں گرفتاری ڈال دی، قانون تو یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو ملزم کا پتا چلے آپ اسے گرفتار کریں، آپ نے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ ملزم تب عبوری ضمانت پر تھے، گرفتار نہیں کر سکتے تھے، جسٹس انوارالحق پنوں نے دریافت کیا کہ آپ نے اس سے پہلے تفتیش کرنے کی کوشش کی؟ پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ میں آپ کو ریکارڈ سے بتا سکتا ہوں عمران خان نے ہمیں لکھ کہ دے دیا ہے کہ وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوں گے۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا۔

یاد رہے کہ 24 جولائی لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے عمران خان پر درج مقدمات سے متعلق پراسیکیوٹر جنرل سے تفصیلی رپورٹ کرلی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

الیکشن کمیشن کا 41 آزاد اراکین قومی اسمبلی کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع

‏الیکشن کمیشن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو فیصلے پر وضاحت کی درخواست جمع کرادی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

الیکشن کمیشن کا 41 آزاد اراکین قومی اسمبلی کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے 41  آزاد  ارکان قومی اسمبلی کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔‏الیکشن کمیشن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو فیصلے پر وضاحت کی درخواست جمع کرادی ہے۔

الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہےکہ ‏41  آزاد ارکان  نے پارٹی وابستگی کی دستاویزات جمع کرادی ہیں، ‏دستاویزات جمع کرانے والے ارکان نے لکھا کہ وابستگی تحریک انصاف کنفرم کرےگی۔

الیکشن کمیشن نے درخواست میں کہا ہےکہ  ‏الیکشن کمیشن  ریکارڈ  میں تحریک انصاف کا کوئی پارٹی اسٹرکچر نہیں ہے، تحریک انصاف  کے بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی میں آزادارکان کی پارٹی وابستگی کون کنفرم کرےگا؟

لیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ  ‏بیرسٹرگوہر علی الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں پارٹی چیئرمین نہیں ہیں، سپریم کورٹ اس معاملے پر  رہنمائی کرے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر  عمل درآمد شروع کردیا ہے اور کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی سے وابستگی کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے 39 ایم این ایز کا نوٹیفکیشن ویب سائیٹ پر جاری کر دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے کے تحت پی ٹی آئی کے 39 ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دے دیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

الیکشن کمیشن نے 39 اراکین اسمبلی کو پی ٹی آئی کا رکن تسلیم کر لیا، نوٹیفکیشن جاری

الیکشن کمشین نے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی سے وابستگی کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے 39 ایم این ایز کا نوٹیفکیشن ویب سائٹ پر جاری کر دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

الیکشن کمیشن نے 39 اراکین اسمبلی کو پی ٹی آئی کا رکن تسلیم کر لیا، نوٹیفکیشن جاری

 الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 39 ارکان قومی اسمبلی کو پی ٹی آئی کا ممبر تسلیم کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد شروع کردیا اور کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی سے وابستگی کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے 39 ایم این ایز کا نوٹیفکیشن ویب سائٹ پر جاری کر دیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے کے تحت پی ٹی آئی کے 39 ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پی ٹی آئی کے 39 ارکان کا نوٹیفکیشن ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

نوٹیفکیشن میں محبوب شاہ، جنید اکبر، علی خان جدون، اسد قیصر، شہرام خان، مجاہد علی، انور تاج، فضل محمود خان، ارباب امیر ایوب کو پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار قرار دیا گیا ہے اس کے علاوہ شاندانہ گلزار، شیر علی ارباب، آصف خان، سید شاہ احد علی شاہ، شاہد خان، نسیم علی شاہ، شیر افضل مروت، اسامہ احمد، شفقت عباس، علی افضل ساہی، رائے حیدر علی خان اور نثار احمد کو بھی پی ٹی آئی کا کامیاب امیدوار قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق رانا عاطف، چنگیز احمد خان، محمد علی سرفراز، خرم شہزاد ورک،  لطیف کھوسہ، رائے حسن نواز خان، عامر ڈوگر،  زین قریشی، رانا محمد فراز نون، ممتاز مصطفیٰ، شبیر علی قریشی، عنبر مجید، اویس حیدر اور زرتاج گل بھی پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار قرار دیئے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دے دیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll