جی این این سوشل

کھیل

ورلڈ چیمپئین لیگ کے سیمی فائنل میں بارش کا امکان، شیڈول جاری  

ورلڈ چیمپئین لیگ 2024 کا پہلا سیمی فائنل پاکستانی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے شروع ہو گا، جبکہ دوسرا سیمی فائنل پاکستانی وقت کے مطابق رات 8:30 بجے کھیلا جائے گا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ورلڈ چیمپئین لیگ کے سیمی فائنل میں بارش کا امکان، شیڈول جاری  
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

انگلینڈ میں جاری ورلڈ چیمپئین لیگ 2024 کا پہلا سیمی فائنل کل 11 جولائی، جبکہ دوسرا سیمی فائنل 12 جولائی کو کھیلا جائے گا۔ 
ورلڈ چیمپئینز لیگ کے پہلے سیمی فائنل کے لیے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں میدان میں ٹکرائیں گی، جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا اور بھارت کا مقابلہ ہو گا۔ 
ورلڈ چیمپئین لیگ 2024 کا پہلا سیمی فائنل پاکستانی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے شروع ہو گا، جبکہ دوسرا سیمی فائنل پاکستانی وقت کے مطابق رات 8:30 بجے کھیلا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ورلڈ چیمپئین لیگ 2024 کے سیمی فائنلز کے دوران بارش کا امکان بھی ہے۔ بارش ہونے کی صورت میں سیمی فائنل کے میچز 13 جولائی تک بھی لے جائے جا سکتے ہیں۔ 
ورلڈ چیمپئین لیگ 2024 کے دونوں سیمی فائنلز کے لیے مد مقابل ٹیمیں انگلینڈ کے شہر نارتھامپٹن میں ٹکرائیں گی، جبکہ فائنل میچ برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔

پاکستان

شاہ محمود قریشی و دیگر ملزموں کو 9مئی کے مقدمہ سے بری کرنے کا حکم نامہ جاری

پراسیکیوشن  کا کیس مضبوط نہیں، ثبوت ریکارڈ بھی کئے تو ملزموں کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شاہ محمود قریشی و دیگر ملزموں کو 9مئی کے مقدمہ سے بری کرنے کا حکم نامہ جاری

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی و دیگر ملزموں کو 9مئی کے مقدمہ سے بری کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ  نے درخواست بریت منظور ہونے کا حکم نامہ جاری کیا،حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی پر پینل کوڈ سیکشن 109 تب نافذ ہوتا ہے جب کسی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہو، کسی ملزم کے جرم میں بغیرکسی شرکت کے پینل کوڈ سیکشن 109کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔

حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق شاہ محمود قریشی کی حد تک پینل کوڈسیکشن 109ثابت نہیں ہوا، شاہ محمود قریشی ودیگر ملزموں پر 16ایم پی او، 144کی دفعات بھی لگی ہیں،پراسیکیوشن  کا کیس مضبوط نہیں، ثبوت ریکارڈ بھی کئے تو ملزموں کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

مخصوص نشستوں کا معاملہ ، الیکشن کمیشن کا فیصلے میں ابہام پر سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

سپریم کورٹ رہنمائی کرے کہ کس اتھارٹی کے تحت پارٹی ٹکٹس کو مانا جائے، الیکشن کمیشن

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مخصوص نشستوں کا معاملہ ، الیکشن کمیشن کا فیصلے میں ابہام پر سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس اختتام پذیر ہوچکا ہے، جس میں عدالتی فیصلے پر رہنمائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس میں قانونی ٹیم نے الیکشن کمیشن کو فیصلے پر قانونی ابہام سے متعلق بریفنگ دی۔

سپریم کورٹ نے 12 جولائی کو سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حق دار قرار دیا تھا۔

الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا پارٹی ڈھحانچہ موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ رہنمائی کرے کہ کس اتھارٹی کے تحت پارٹی ٹکٹس کو مانا جائے۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن نے 39 ارکان قومی اسمبلی کو پی ٹی آئی کا ممبر تسلیم کرلیا جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے جاری نوٹیفیکیشن کو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کردیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف نے 39 آزاد اراکین قومی اسمبلی کی فہرست اور ان کے پارٹی وابستگی فارمز الیکشن کمیشن میں جمع کرائے تھے۔

سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ سناتے ہوئے تحریکِ انصاف کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں دینے کا حکم دیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں  جسمانی  ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائیکورٹ نے 9 مئی کے 12 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قراردے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس انوار الحق نے دریافت کیا کہ درخواست گزار کتنے مقدمات میں نامزد ہیں؟ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 3 مقدمات میں نامزد ملزم ہیں، کیسز کی 2 کیٹگری ہیں، ایک جس میں نامزد ہیں دوسری جس میں ضمنی کے ذریعے نامزد کیا گیا ہے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیسز سے پولیس کی نا اہلی، سستی ظاہر ہوتی ہے، 9 مئی کے 9 کیسز میں پولیس 425 دن تک سوئی رہی، پولیس نے اتنی دیر بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کیوں نہیں ڈالی۔ پراسیکیوشن بدنیتی سے جان نہیں چھڑوا سکتی، ایک وقت بانی پی ٹی آئی عبوری ضمانت پر بھی تھے، تو ان کو شامل تفتیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

جسٹس انوارا الحق پنوں نے ریمارکس دیے کہ جب درخواست گزار کو امید ہوئی کہ وہ جیل سے باہر آ جائے گا تب آپ نے ان مقدمات میں گرفتاری ڈال دی، قانون تو یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو ملزم کا پتا چلے آپ اسے گرفتار کریں، آپ نے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ ملزم تب عبوری ضمانت پر تھے، گرفتار نہیں کر سکتے تھے، جسٹس انوارالحق پنوں نے دریافت کیا کہ آپ نے اس سے پہلے تفتیش کرنے کی کوشش کی؟ پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ میں آپ کو ریکارڈ سے بتا سکتا ہوں عمران خان نے ہمیں لکھ کہ دے دیا ہے کہ وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوں گے۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا۔

یاد رہے کہ 24 جولائی لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے عمران خان پر درج مقدمات سے متعلق پراسیکیوٹر جنرل سے تفصیلی رپورٹ کرلی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll