Advertisement
پاکستان

پنجاب حکومت نے 2653ارب روپے کا"ٹیکس فری " بجٹ پیش کردیا

لاہور : پنجاب کا لگ بھگ 2 ہزار 600 ارب روپے کے حجم کا بجٹ صوبائی اسمبلی کی نئی عمارت میں پیش کردیا گیا ۔ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jun 15th 2021, 8:21 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق  پنجاب اسمبلی  کا اجلاس  سپیکر چوہدری پرویز الہی کی زیر صدارت شروع ہوا    ، وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت آج مالی سال 2021-22 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کرہے ہیں ۔اجلاس شروع ہوتے ہی  اپوزیشن کا شورشرابہ جاری ہے ۔ وزیرخزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت  نے بجٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ  حکومت کے چوتھے بجٹ اور پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں پہلی تقریر کا اعزاز حاصل کر رہا ہوں،پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کی تکمیل کا سہرا بلاشبہ جناب اسپیکر آپ کے سر ہے۔ملک تاریخی مالی بحران اوروباکا مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے ، ان ان کاکہنا تھا کہ پنجاب حکومت کابجٹ تحریک انصاف کے منشور اور عوامی امنگوں کا ترجمان ہے ، 3سال قبل عوام نے عمران خان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔ملک تاریخ کے بد ترین مالی بحران سے دوچار تھا ، تجارتی خسارے ،گردشی قرضے ،معاشی اشاریےسابقہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی تصدیق تھے۔ صوبہ 56ارب کے واجب الادا چیکس،41ارب  کے اوور ڈرافٹس کامنتظرتھے ۔

وزیرخزانہ  پنجاب نے کہاکہ صوبہ 8ہزارسے زائد نامکمل اسکیموں کے ساتھ نئی حکومت کا منتظر تھا۔قرضوں سے قائم انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئےصحت اور تعلیم کے شعبوں کو یکسر نظر اندازکیاگیا، پیداواری شعبہ پر کی جانے والی سرمایہ کاری بھی برائے نام تھی اورنئی حکومت کوسوشل سیکٹر کی بحالی،معاشی ترقی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے چیلنجز درپیش تھے۔ وزیر خزانہ پنجاب نے کہاکہ  مسائل سے نمٹنے کے 2راستے تھے،پہلاسیاسی سرمائے کی قربانی اور دوسرا عوامی سرمائے کی،تحریک انصاف نے پہلے راستے کا انتخاب کیا اور مالی پالیسیوں کی اصلاح کی راہ اختیار کی۔  ناقص منصوبوں کو ختم کر کے وسائل کے مؤثر استعمال پر توجہ مرکوز کی،نئی اسکیموں کیلئےاخراجات پر کنٹرول اور وسائل میں اضافے کی تدابیر کی گئیں۔

صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنجاب واحد صوبہ تھا جس نے ان مشکل حالات میں عوام کا ساتھ دیا ، کوویڈ سے بحالی کے لیے 106ارب روپے کا پیکیج متعارف کروایا  ہے ۔ کاروباری طبقے کو روزگار کی بحالی کیلئے56ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریلیف دیا گیا اور حکومت کی جانب سے عوام پر کی گئی یہ سرمایہ کاری رائیگاں نہیں  کی گئی  ، پاکستان اکنامک سروے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح میں اضافے کا تخمینہ فیصد 3.94 لگاگیا۔یہ تخمینہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے لگائے گئے تخمینے سے زیادہ ہے، زرعی، صنعتی اور سروسز سیکٹر ز کی ترقی میں پنجاب کا مرکزی کردار ہا ۔وزیرخزانہ پنجاب نے کہا کہ  پاکستان کی13.4فیصد پرکیپٹاانکم اضافے  کیساتھ 1543ڈالر ہو چکی ہے۔رواں مالی سال ریمٹنس 29 ارب ڈالر،برآمدات25ارب ڈالر ہوجائیں گی ،  پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ اس وقت کاروبار کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور اعدادو شمار ثبوت ہیں کہ ملک میں معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے ۔ روا ں مالی سال محصولات کا ہدف 317ارب اور359ارب روپے اکٹھے ہونگے، محصولات کی مد میں یہ اضافہ 13.1فیصدبنتا ہے۔غیر معمولی معاشی حالات میں محصولات میں اس قدر اضافہ معمولی بات نہیں ، شرح ٹیکس کم کرنے کے با وجود ریونیو اتھارٹی نے رواں سال تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اِن غیر یقینی حالات میں کسی بھی ریو نیو اتھارٹی کی بہترین کار کردگی ہے ، ریونیوبورڈ نےقبضہ مافیا کیخلاف کارروائیاں کر کے اربوں کی سرکاری اراضی واگزار کروائی ہے جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن کی کارروائیوں سے صوبے کو 206ارب روپے کا فائدہ ہوا۔بہترین معاشی حکمت عملی اوراخراجات پر قابوپاکروسائل میں 97ارب سے زائد اضافے کو ممکن بنایا۔  آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم2ہزار653ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے، آئندہ مالی سال میں وفاقی محصولات کی وصولی کا ہدف5ہزار829ارب روپے ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کوایک ہزار684ارب روپے منتقل کیے جائیں گے۔ جو رواں مالی سال کے مقابلے میں18فیصدزیادہ ہوں گے ، صوبائی محصولات کیلئے405ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ  رواں مالی سال کے مقابلے میں یہ 28فیصد زیادہ ہے،  بجٹ میں جاری اخراجات کا تخمینہ ایک ہزار428ارب روپےلگایا گیاہے ۔ صوبےکے ترقیاتی پروگرام کیلئے560 ارب کے ریکارڈ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ میں 66فیصدکاغیر معمولی اضافہ ہماری ترقیاتی ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔  ترقیاتی پروگرام صوبے کی ترقی، معاشی استحکام،عوامی خوشحالی کا ضامن ہوگا، ترقیاتی پروگرام کے ثمرات پنجاب کے کونے کونے تک پہنچیں گے۔ ترقیاتی بجٹ میں تعلیم اور صحت کیلئے205ارب 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ رواں مالی سال کے مقابلے میں یہ 110فیصدزیادہ ہیں۔انفراسٹر کچر ڈویلپمنٹ کیلئے145ارب40کروڑ روپے مختص کیے ہیں ، جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں یہ87فیصدزیادہ ہیں۔اسپیشل پروگرامزکے لیے  91ارب 41کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں   جو رواں مالی سال کے مقابلے میں92فیصدزیادہ ہیں۔

صنعت ، زراعت، لائیواسٹاک،ٹورازم،جنگلات وغیرہ کیلئے57ارب 90 کروڑ روپے مختص ، پیداوری شعبوں کیلئےیہ فنڈزرواں مالی سال کے مقابلے میں234فیصدزیادہ ہیں۔سوشل سیکٹر میں بہتری اور  صوبے میں یکساں ترقی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔وزیر خزانہ  کاکہنا ہے کہ کورونا کےدوران محکمہ صحت پر بوجھ آیا توہمیں اس کے مسائل اور وسائل سے آگاہی بھی ملی جوتجربات اس دوران ہوئے وہ ڈیٹا شاید کوئی فزیبلٹی رپورٹ بھی فراہم نہ کر پاتے ، پنجاب نے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ ملکر ویکسی نین سنٹر بنائے، جولوگ سرکاری اسپتالوں پر اعتبار نہیں کرتے وہ بھی سنٹرز سے استفادہ کر رہے ہیں۔حکومت پنجاب تاریخ کا سب سے پہلا میگا منصوبہ مکمل کرنے جارہی ہے، منصوبے کاڈی جی خان اور ساہیوال سے آغاز کیا جا چکا ہے۔پنجاب کےعوام کوعلاج کیلئے80ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس مہیا کی جا رہی ہے، اس منصوبہ کے لیے رواں مالی سال میں60ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں ، دوسرا بڑا  مسئلہ اسپتالوں تک رسائی اورناکافی سہولیات کے سبب دورانِ پیدائش ہونے والی اموات ہیں ۔ اس سال 5نئے مدراینڈ چائلڈ اسپتالوں کے قیام کو یقینی بنایا جا رہا ہے ، منصوبےکے لیے 12ارب روپے سے زائد کابجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ 

ان کاکہنا تھا کہ بجٹ میں     سوشل سیکٹر کیلئے 205 ملین ، صاف پانی کیلئے 22 ملین ، ترقیاتی  پلان کیلئے560 ارب ،   صحت کارڈ کیلئے 701ارب ، ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے 100ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔۔پنجاب حکومت نے  بجٹ میں  تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ کورونا متاثرین کیلئے 35 ارب  روپے رکھے گئے ہیں ۔ بجٹ میں امن وامان ، صحت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔

Advertisement
پاکستان اور چین کے اداروں کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط

پاکستان اور چین کے اداروں کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط

  • an hour ago
صدر زرداری کاعراق کے نامزد وزیرِ اعظم سے ٹیلی فونک رابطہ، عراق میں مستحکم حکومت کی تشکیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار

صدر زرداری کاعراق کے نامزد وزیرِ اعظم سے ٹیلی فونک رابطہ، عراق میں مستحکم حکومت کی تشکیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار

  • an hour ago
بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کے 2 نئے کیسز رپورٹ،محکمہ صحت کی تصدیق

بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کے 2 نئے کیسز رپورٹ،محکمہ صحت کی تصدیق

  • 19 minutes ago
آبنائے ہرمز میں پابندیاں عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہیں،انتونیو گوتریس

آبنائے ہرمز میں پابندیاں عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہیں،انتونیو گوتریس

  • an hour ago
کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی 

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی 

  • 19 hours ago
وزیر اعظم اور صدرمملکت کے عالم یومِ مزدور پر خصوصی پیغامات،محنت کشوں کے وقار و تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل

وزیر اعظم اور صدرمملکت کے عالم یومِ مزدور پر خصوصی پیغامات،محنت کشوں کے وقار و تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل

  • an hour ago
وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط

وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط

  • an hour ago
ایران کے پاس 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے،ایٹمی ایجنسی

ایران کے پاس 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے،ایٹمی ایجنسی

  • an hour ago
وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم

  • 20 hours ago
گلوکارہ مون پرویز نے اپنے نئے ویڈیو سونگ پر کام شروع کر دیا 

گلوکارہ مون پرویز نے اپنے نئے ویڈیو سونگ پر کام شروع کر دیا 

  • 14 minutes ago
وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ

  • 20 hours ago
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج محنت کش مزدوروں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج محنت کش مزدوروں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

  • an hour ago
Advertisement