Advertisement

بنگلادیشی سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمتوں میں کوٹے سے متعلق بڑا فیصلہ

اعلیٰ عدلیہ نے پر بھرتیوں سے متعلق ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد روک دیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jul 21st 2024, 6:38 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بنگلادیشی سپریم کورٹ کا  سرکاری ملازمتوں میں کوٹے  سے متعلق بڑا فیصلہ

بنگلادیش کی سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے پر بھرتی سے متعلق ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد روک دیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق بنگلادیش کی سپریم کورٹ میں کوٹا سسٹم بحالی کے خلاف سماعت میں عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹوں پر ہائی کورٹ کے حکم پرعمل درآمد روک دیا جس کو گزشتہ ماہ ہائی کورٹ نےسرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کو بحال کیا تھا۔ 

دوسری جانب بنگلادیش میں سرکاری ملازمتوں کےکوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج اور  پرتشدد مظاہروں کو روکنےکے لیے لگائےگئےکرفیو میں آج دوپہر تک کی توسیع کردی گئی ہے۔خبرایجنسی کے مطابق ڈھاکا کی سڑکوں پر سکیورٹی اہلکاروں کا گشت جاری ہے۔

پرتشدد مظاہروں میں 133 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ہلاک افراد میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ 150 پولیس اہلکار  زخمی بھی ہوئے۔ حکومت کی ہدایت پر انٹرنیٹ، ٹیکسٹ میسج اور اوورسیز کال سروسز جمعرات سے معطل ہے جبکہ تعلیمی ادارے اور دفاتر بھی بند ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلادیش میں 1971 کی جنگ لڑنے والوں کے بچوں کو سرکاری نوکریوں میں 30 فیصد کوٹا دیے جانے کے خلاف گزشتہ کئی روز سے طلبہ کا احتجاج جاری ہے اورکوٹہ سسٹم مخالف طلبہ کی پولیس اور حکمران جماعت عوامی لیگ کے طلبہ ونگ سے جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

بنگلا دیش میں سرکاری ملازمتوں کا 56 فیصد حصہ کوٹے میں چلا جاتا ہے جس میں سے 30 فیصد سرکاری نوکریاں 1971کی جنگ میں لڑنے والوں کے بچوں، 10 فیصد خواتین اور 10فیصد مخصوص اضلاع کے رہائشیوں کے لیے مختص ہیں۔

Advertisement