آئی پی پیز کا 2016ء میں 3 روپے والا یونٹ آج 285 روپے کا ہے، وفاقی وزیر توانائی
بجلی کمپنیوں کے ایک لاکھ 90 ہزار ملازمین کو سالانہ 15 ارب کی مفت بجلی دی جاتی ہے، سیکرٹری پاور ڈویژن کاانکشاف


وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ ایک انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی) کا 2016ء میں 3 روپے والا یونٹ آج 285 روپے کا ہے۔
منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ ایک آئی پی پی کا 2016ء میں 3 روپے والا یونٹ آج 285 روپے کا ہے۔ آئندہ بجلی حکومت نہیں خریدے گی، صارفین براہ راست خریدیں گے۔
دوران اجلاس چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھا ہوا ہے، اس پر احتجاج بھی ہو رہا ہے۔ چیئرمین پی پی آئی بی نے اس کو مؤخر کرنے کا کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے تو صرف آئی پی پیز کے معاہدوں کی تفصیلات مانگی ہیں، کپیسٹی چارجز کا ذمہ دار کون ہے؟ 70 ، 80 فیصد سے کم صلاحیت والے پلانٹس کیوں چل رہے ہیں۔ عوام کو ریلیف دینا ہمارا ایجنڈا ہے۔ جب یہ آئی پی پیز لگے اس وقت خطے کے ممالک میں کس ریٹ پر معاہدے ہوئے۔ پلانٹس کی ہیٹ ایفیشنسی کا کب کب آڈٹ ہوا۔ آئی پی پیز پورا عفریت بن چکا ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں تفصیلات کمیٹی کو فراہم کر دیں گے۔ ہم سب اپنے اپنے ادوار میں حکومت میں رہ چکے ہیں۔ سب معلومات لے چکے ہیں اپنی حکومت میں، ہمیں معلومات چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اجلاس کے آخر میں 10 سے 15 منٹ ان کیمرہ بریفنگ کے لیے بھی دیں۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آئی پی پیز نے کتنا فراڈ کیا ہے۔ ہم پورے خطے میں سب سے مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ وزارت توانائی نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔
سیکرٹری توانائی کا کہنا تھا کہ آج کی کپیسٹی کے مطابق 236 ارب یونٹس بجلی بنا سکتے ہیں۔ بجلی کی کم طلب کے باعث ہم سالانہ 132 ارب یونٹس بجلی بنا سکتے ہیں، اس وقت ملک میں انسٹالڈ کپیسٹی 42 ہزار میگاواٹ ہے۔ کچھ پلانٹس ریٹائرڈ ہونے سے انسٹالڈ کپیسٹی 39 ہزار 600 میگاواٹ رہ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں انسالڈ کپیسٹی پر نہیں ہوتیں۔ ادائیگیاں ان کی کنڈیشن پر ہوتی ہیں۔ہم پانچ پلانٹس بند کرنے جا رہے ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ہماری بجلی کی پیداوار ی صلاحیت 45 میگاواٹ ہے۔ ساڑھے 300 یونٹ والے صارف کا بل 19 ہزار ہوگا۔ 86 فیصد صارفین 200 یونٹ سے کم استعمال کرتے ہیں۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ کے ای کی بجلی مہنگی پیدا ہوتی ہے، اس کے ٹیرف کو یکساں کرنے کے لیے حکومت 170 ارب کی سبسڈی دیتی ہے۔ 2025ء سے 2027ء تک بجلی کی قیمت بڑھ جائے گی۔ آئندہ 10 سال سسٹم میں آنے والی بجلی کے منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نندی پور اور گڈو پاور کو فروخت کر رہے ہیں ۔ ہمارے پاس مکمل ڈیٹا ہی نہیں ہے۔ آئندہ بجلی حکومت نہیں خریدے گی۔ صارفین براہ راست بجلی خرید سکیں گے ۔ ساہیوال پاور پلانٹ کا 2016ء میں 3 روپے یونٹ تھا آج 285 روپے فی یونٹ ہے۔ پلانٹ کو 24 گھنٹے آن رکھنے کی قیمت کپیسٹی چارجز ہیں۔
سیکرٹری پاور ڈویژن نے انکشاف کیا ہے کہ بجلی کمپنیوں کے ایک لاکھ 90 ہزار ملازمین کو سالانہ 15 ارب کی مفت بجلی دی جاتی ہے۔
سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ ہماری انڈسٹری کی بجلی طلب 25 فیصد ہے اور ہماری انڈسٹری کی کھپت مزید کم ہوتی جارہی ہے، ہمارا 10 سے 11 ہزار میگاواٹ لوڈ پنکھوں کا ہے جب کہ سردیوں میں لوڈ 11ہزار میگاواٹ تک ہوتا ہے۔
سیکرٹری پاور نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال انڈسٹری سے 244 ارب لے کر گھریلوصارفین کو دیے گئے، 400 یونٹس والے ڈھائی کروڑ صارفین کو 592 ارب سبسڈی دی جاتی تھی جو اب 692 ارب روپے تک ہوگئی ہے۔
سیکرٹری پاور ڈویژن کے مطابق مفت بجلی صرف بجلی کمپنیوں، واپڈا اور جنکوز ملازمین کو ملتی ہے، بجلی کمپنیوں کے ایک لاکھ 90 ہزار ملازمین کو سالانہ 15 ارب کی مفت بجلی دی جاتی ہے جب کہ ایک ملازم کو سال کی 78 ہزار روپے کی بجلی مفت دی جاتی ہے۔
سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ اگر ایک پلانٹ سارا سال بند رہا تو اس کو پھر بھی ادائیگی کریں گے، ہم اس لیے پلانٹس نہیں چلاتے کہ وہ وارے نہیں آتا، اس کی بجلی اتنی مہنگی ہے ہم صرف کیپسٹی پیمنٹ ہی دیتے ہیں، اس پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ آئی پی پیز ایک اژدھا بن چکا ہے اور لوگ سڑکوں پر ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ہماری کمپنیوں کے پاس رئیل ٹائم ڈیٹا دستیاب نہیں، کمپنیوں میں ایڈوانس میٹرنگ کے باعث قابل اعتماد ڈیٹا آسکے گا، آئی پی پیز سے اگر 5 روپے بھی نکل سکے تو عوام کو ریلیف دیں گے، بجلی چوری کا اختتام نجکاری اور ڈیجیٹیلائزیشن سے ہوگا۔

صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی
- ایک دن قبل
پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا
- 14 گھنٹے قبل
اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
- 11 گھنٹے قبل

پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ
- 2 دن قبل

لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار
- ایک دن قبل

چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم
- 2 دن قبل

اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری
- 2 دن قبل

ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی
- 2 دن قبل
معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے
- 14 گھنٹے قبل
ایران جنگ کے نتیجے میں معاشی بحران پیدا ہوا، صرف پیپلزپارٹی ملک کے معاشی مسائل حل کرسکتی ہے: بلاول
- 4 گھنٹے قبل
دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- 13 گھنٹے قبل

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک
- 7 گھنٹے قبل




.jpg&w=3840&q=75)









