Advertisement

افغانستان کی پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کی پیشکش 

افغانستان پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں ، ترجمان افغان حکومت ذبیح اللہ مجاہد

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 سال قبل پر اگست 17 2024، 7:54 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
افغانستان کی پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کی پیشکش 

افغانستان کی عبوری حکومت نے پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے کے تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے وضاحت کی کہ افغانستان کسی دوسرے ملک میں جنگ کی اجازت نہیں دیتا اور اگر پاکستان کے پاس اس حوالے سے کوئی معلومات ہیں تو وہ ان کے ساتھ شیئر کرے۔ 

انہوں نے کہاکہپاکستان چاہے تو ہم پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت پاکستان چاہتی ہے تو ہم بھائی چارے کے اصولوں پر اپنی کوششیں کریں گے، لیکن اگر پاکستان نہیں چاہتا تو ہم مداخلت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں بار بار افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی حکام نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور افغان حکومت کو پاکستان میں در اندازی کے ثبوت بھی پیش کیے ہیں۔

Advertisement
Advertisement