Advertisement
علاقائی

لاہور میں دھماکہ کیسے ہوا؟ عینی شاہد کا بیان سامنے آگیا

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن بی او آرسوسائٹی کے قریب گھر میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جاں بحق ہونےو الوں میں چھ سالہ بچہ بھی شامل ہے جبکہ 24 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jun 24th 2021, 7:59 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

دھماکے سے اردگرد کی عمارتوں  اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے سے ایک گھر اور   3 گاڑیاں تباہ ہوگئیں ۔ زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے ۔ سی سی پی او غلام محمود ڈوگر، سی ٹی او لاہور منتظر مہدی بھی دھماکے کی جگہ پر موجود ہیں۔ سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کا کہنا ہےکہ دھماکہ کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے ،امدادی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی جناح ہسپتال اور دیگر ہسپتالوں میں میں ایمرجنسی نافذ کرنے ہدایت ، زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جائے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ۔ دھماکے کے ذمہ داروں کو فی الفور قانون کی گرفت میں لایا جائے ۔

عینی شاہد خاتون نے جوہر ٹاؤن دھماکے  کا آنکھوں دیکھا حال بیان کردیا۔عینی شاہدخاتون کا کہنا  ہےکہ دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل کے ساتھ نصب تھا، جب دھماکے کی آواز سنائی دی ہم اکٹھے ہوئے تو موٹرسائیکل کو پھٹتے دیکھا، میں یہاں سے تین مرتبہ گزری تھی،لیکن دھماکے بعد اب یہاں موٹرسائیکل نہیں ہے۔ 

جوہر ٹاؤن میں دھماکے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور کی سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی, ڈی آئی جی آپریشنز  نے شہر کے داخلی، خارجی راستوں پر سکیورٹی بڑھانے کا حکم دیدیا، ڈی آئی جی آپریشنز نے ہدایت کی ہے کہ چیک پوسٹوں پر چیکنگ کا عمل مزید سخت کیاجائے۔

Advertisement