پی آئی اے سی ایل کو 2023 کے دوران 75 ارب روپے کا نقصان ہوا اور اس کے واجبات بڑھ کر 825 ارب روپے تک پہنچ گئے


اسلام آباد: قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا۔ پی آئی اے کی فروخت کے لیے صرف ایک بولی دہندہ باقی رہ گیا۔
قومی ائیرلائن کے پرانے جہاز، 200 ارب کا قرض اور دیگر مسائل کی وجہ سے بولی دہندگان حکومت سے کم حصص کے بجائے 100 فیصد حصص فروخت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاکہ ادارے کا مکمل کنٹرول مل سکے اور بڑھتے ہوئے چیلنجز پر مکمل اختیار کے ساتھ قابو پایا جائے۔
ابتدائی طور پر 6 کنسورشیم کو پی آئی اے کی بولی لگانے کا اہل قرار دیا گیا تھا۔ تاہم ان میں سے بھی 5 کنسورشیم نجکاری کے عمل سے پیچھے ہٹ گئے۔ اور صرف ایک نے بولی لگائی۔
حکام کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اپنے نئے قرضہ پروگرام کے تحت پی آئی اے جیسے سرکاری اداروں کی نجکاری کو ترجیح دی۔
ذرائع کے مطابق نجکاری کمیشن نے 31 اکتوبر کو ہونے والی نیلامی کے لیے تیاری کر لی۔ جس میں میڈیا اور اہم سٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا گیا ہے۔ جبکہ پی آئی اے حکام کو اسٹینڈ بائی پر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اس سے قبل حکومت نے ابتدائی طور پر جون تک ایئرلائن کی نجکاری کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم اس معاملے میں تاخیر کی وجہ سے ڈیڈ لائن کو اکتوبر تک بڑھا دیا گیا۔
پی آئی اے سی ایل کو 2023 کے دوران 75 ارب روپے کا نقصان ہوا اور اس کے واجبات بڑھ کر 825 ارب روپے تک پہنچ گئے ۔
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- ایک دن قبل
امریکی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ
- 10 گھنٹے قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- 2 دن قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 7 گھنٹے قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- ایک دن قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 7 گھنٹے قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
- 9 گھنٹے قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- ایک دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 8 گھنٹے قبل
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 9 گھنٹے قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- ایک دن قبل








