Advertisement
پاکستان

آئینی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیخر آرڈیننس کے خلاف دائر درخواستیں خارج کر دیں

پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس ختم ہو چکا ہے، آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین کے ریمارکس

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Dec 12th 2024, 8:56 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
آئینی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیخر آرڈیننس کے خلاف دائر درخواستیں خارج کر دیں

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیخر آرڈیننس کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت دیگر کی دائر درخواستیں خارج کر دیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

 بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس ختم ہو چکا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرڈیننس کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر میں پارلیمنٹ نے قانون سازی کر دی ہے۔آرڈیننس کے تحت بنی کمیٹی ختم ہوگئی، کمیٹی کے فیصلوں کو پاس اینڈ کلوز ٹرانزیکشنز کا تحفظ ہے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت کمیٹی کے ایکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون آجائے تو آرڈیننس خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین صدر پاکستان کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے آرڈیننس کو چیلنج کیا تھا، افراسیاب خٹک، احتشام الحق اور اکمل باری نے بھی آرڈیننس کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں۔

واضح رہے کہ 20 ستمبر کو صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط بعد سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 نافذ ہو گیا۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 منظور کیا تھا۔

 

 

Advertisement