اگست 2022 میں قطر نے دہرا گلوبل ٹیکنالوجیز کے تحت کام کرنے والے آٹھ سابقہ بھارتی بحریہ افسران کو جاسوسی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا

وزیر خارجہ جے شنکر 30 دسمبر 2024 سے قطر کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوئے، بھارتی وزیر خارجہ کا یہ دورہ جاسوسی کے الزامات، تارکین وطن کے تنازعات، اسرائیل کی حمایت اور غیر جانبداری کے خدشات کے درمیان ہندوستان کے تعلقات کو نئے سرے سے جوڑنا ہے ،کیونکہ عرب ممالک کے لیے ہندوستان کی قابل اعتماد حیثیت پرکافی سوالات اٹھتے ہیں۔
قطر کی 2024 میں کل آبادی تقریباً 3.12 ملین ہے، جن میں صرف 12 فیصد قطری شہری ہیں،قطرمیں ہندوستانی سب سے بڑی تارکین وطن برادری ہیں، جو کل آبادی کا تقریباً 21.8 فیصد ہیں، اور تعمیرات، صحت عامہ، اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں،اگست 2022 میں قطر نے دہرا گلوبل ٹیکنالوجیز کے تحت کام کرنے والے آٹھ سابقہ بھارتی بحریہ افسران کو جاسوسی کے الزامات پر گرفتار کیا تھا۔ان پر قطر کی U212 جدید آبدوزوں کی خفیہ معلومات اسرائیل، بھارت کی را، اور ایران کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام تھا۔
گرفتارافسران میں کپتان نووتج سنگھ گل اور بیرندر کمار ورما جیسے اعلیٰ عہدے کے افراد شامل تھے، جن کو 2023میں سزائے موت سنانے کے بعد، انہیں فروری 2024 میں رہا کر دیا گیا۔
بھارت کی عالمی جاسوسی سرگرمیاں دستاویزی طور پر ثابت ہوچکی ہیں، 2019 میں، ایک بھارتی جوڑے کو جرمنی میں کشمیری اور سکھ گروہوں پر جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ،جبکہ 2016میں بھی بھارتی بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادو کو پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا،اسی طرح2015میں سری لنکا نے سیاسی مداخلت کی بناپر بھارت کے را کے اسٹیشن چیف کو ملک بدر کیا۔ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے،جن میں ایک طرف اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے جاچکے ہیں۔
جبکہ دوسری جانب بھارت نے 2024میں فلسطین کی جانب سے پیش کردہ پہلی اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جو اس کے روایتی فلسطین نواز موقف سے ہٹ کر تھا،اس فیصلے نے بھارت کو BRICS بلاک اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے دور کر دیا،جس سے اس کی غیر جانبداری پر خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
یہ فلسطین بحران کے درمیان بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اتحاد کی عکاسی کرتا ہےعرب دنیا میں بھارت کی قابل اعتماد حیثیت پر سوالات کھڑے ہو چکے ہے۔
حماس حملوں کے بعد، اسرائیل نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر بھارت کا عوامی طور پر شکریہ ادا کیا،بھارتی اکاؤنٹس سے پرو اسرائیل ہیش ٹیگز کے رجحان نمایاں نظر آتا ہے۔ بھارتی تارکین وطن برادری نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن ان کی سرگرمیاں اکثر تنقید کا شکار رہتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں، تارکین وطن کی کمیونٹیز ثقافتی اور اقتصادی تبادلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن انہیں ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے سے باز نہیں آتے
آسٹریلیا میں بھی بھارتی خفیہ کارروائیاں بے نقاب ہوئیں، جہاں را کے ایجنٹوں نے تارکین وطن کی کمیونٹیز اور سیاستدانوں کو نشانہ بنایا، سیکورٹی کلیئرنس رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا، اور حساس دفاعی معلومات تک رسائی حاصل کی۔
عرب ممالک کو بھارت پر اپنے اعتماد پر نظرثانی کرنی چاہیے.مضبوط ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کے باوجود، جاسوسی، اسرائیل کی حمایت، اور نظریاتی اثرات جیسے واقعات مشرق وسطیٰ میں تعلقات کی پاکیزگی کے لیے چیلنج ہے

ایران نے مزیددو پاکستانی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دیدی
- 19 گھنٹے قبل

امریکا اپنے زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے،جلد ایران سے نکل جائیں گے،جے ڈی وینس
- 11 منٹ قبل

اسحاق ڈار سے مصری ہم منصب کی ملاقات، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات سے مسائل حل کرنے پر زور
- 25 منٹ قبل

محکمہ صحت کا ایکشن : لیڈی ولنگٹن ہسپتال کے ویڈیو اسکینڈل پر ایم ایس اور ڈاکٹرز عہد وں سے معطل
- 19 گھنٹے قبل

پی ایس ایل: پشاور زلمی نے راولپنڈیزکو 5 وکٹوں سے شکست دےدی
- 18 گھنٹے قبل

خوراک کے ضیاع اور نقصانات میں کمی بھوک، غربت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے،پاکستان
- 15 منٹ قبل

پاکیزہ ڈرامہ مقبول، عوام کی بڑی تعدا د امڈ آئی،فیروزہ علی، قیصر پیا اور شاہد خان نے میدان مار لیا
- 17 گھنٹے قبل

اسحا ق ڈار کا قطری وزیر خارجہ سےٹیلیفونک رابطہ،علاقائی اورعالمی صورتحال پرتبادلہ خیال
- 19 گھنٹے قبل

انسولین اوردیگر جان بچانے والی دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا،دواساز کمپنیوں کادعویٰ
- 17 گھنٹے قبل

ایران کا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے سے نکلنے پر غور،تین نکاتی منصوبہ تیار
- 6 منٹ قبل

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: اسحاق ڈار کی مصر ی وزیر خارجہ کے بعد ترک ہم منصب سے ملاقات
- ایک منٹ قبل

پاکستان کی ایران کو چاول، سمندری خوراک، فارماسیوٹیکل مصنوعات اور دیگر اشیاء برآمدکرنےکی اجازت
- 18 گھنٹے قبل









