Advertisement

افغان نائب وزیر خارجہ کا لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

شیر محمد عباس کا کہنا تھا کہ نبی کریمﷺ کے وقت میں خواتین اور مردوں دونوں کے لیے علم کے دروازے کھلے تھے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jan 21st 2025, 2:52 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
افغان نائب وزیر خارجہ کا  لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

افغانستان کے نائب وزیر خارجہ نے لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی کو ان کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کردیا۔ 

افغان صوبے خوست میں مدرسے کی گریجویشن تقریب سے خطاب میں نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے خواتین کی تعلیم پر عائد پابندی کو شریعت کے خلاف قرار دیا۔

نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے، وہ مساجد نہیں جاسکتیں، ان پر اسکولوں اور یونیورسٹیز کے دروازے بند ہیں حتیٰ کہ ان کو مذہبی اسکولوں تک بھی رسائی حاصل نہیں ہے۔

نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک میں 20 ملین لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے، افغانستان کی 40 ملین کی آبادی میں 20 ملین خواتین ہیں جن کے ساتھ نا انصافی ہوئی، ان کی تعلیم پر عائد پابندی شریعت کے مطابق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی کوئی وضاحت موجود نہیں لہٰذا ریاست کے رہنما لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے کھولیں، اس کے لیے کوئی بھی قابل قبول جواز موجود نہیں ہے اور نہ کبھی ہوگا۔

شیر محمد عباس کا کہنا تھا کہ نبی کریمﷺ کے وقت میں خواتین اور مردوں دونوں کے لیے علم کے دروازے کھلے تھے۔

Advertisement