ویب ڈیسک : ایک عہد، ایک تہذیب اور ایک ادارے کی حیثیت رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ ، ڈرامہ نویس فاطمہ ثریا بجیا کو ہم سے بچھڑے 5 برس بیت گئے۔

فاطمہ ثریا بجیا پاکستان ٹیلی وژن اور ادبی دنیا کی معروف شخصیت تھیں۔ شائستہ گفتگو، لب و لہجہ، عاجزی و انکساری اور پہناوے سے برصغیر کی مسلم تہذیب کا سراپا نظر آنے والی فاطمہ ثریا بجیا کا تعلق تہذیب کے داعی اور تعلیم یافتہ ادبی گھرانے سے تھا۔ اپنی تحریروں سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے والی شخصیت کی حامل فاطمہ ثریا بجیا نےیکم ستمبر1930کوحیدرآباد دکن میں آنکھ کھولی اور قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی۔ فاطمہ ثریا بجیا نے کئی لازوال ڈرامے لکھے ، 60ء اور70ء کی دہائی کے پی ٹی وی ڈرامہ سیریلز ان کے نام رہے، جن میں "شمع"،" افشاں "،" انا "،" عروسہ ،" مہمان "،" گھر ایک نگر "،" پھول رہی سرسوں "اور" زینت "شامل ہیں۔
1965ء کی جنگ کے دوران مقبول ہونے والے جنگی ترانوں کا مجموعہ ’’جنگ ترنگ‘‘ کے نام سے مرتب کیا۔ اس دوران انھوں نے’اساوری‘،’گھر ایک نگر‘، ’آگہی‘، ’انا‘، ’کرنیں‘،’بابر‘،’تصویر کائنات‘،’سسی پنوں‘، ’انارکلی‘ اور’آبگینے‘ جیسے شاہکار تخلیق کیے۔اتنا ہی نہیں بلکہ بچوں کے پروگراموں اور خواتین کے میلاد کے ساتھ ساتھ ’’اوراق‘‘ جیسے ادبی پروگرام بھی کیے۔
فاطمہ ثریا بجیا کا خاندان بھی ادبی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کے بھائیوں میں احمد مقصود، انور مقصود اور بہنوں میں سارہ نقوی، زہرہ نگار اور پاکستان کی مایہ ناز شیف زبیدہ طارق ( زیبدہ آپا) ادبی اور تحریری دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
انہوں نے ٹیلی وژن کے علاوہ ریڈیو اور اسٹیج پر بھی کام کیا، سماجی اور فلاحی حوالے سے بھی ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔1997 میں حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 2012 میں ہلا ل امتیاز سے نوازا ۔انہوں نے سندھ حکومت کی مشیر برائے تعلیم کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔ بجیا نے کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات حاصل کئے، جن میں جاپان کا شاہی ایوارڈ ’’دی آرڈر آف دی سیکرڈٹریژر‘‘ بھی شامل ہے۔ انھوں نے پاکستان جاپان کلچر ایسوسی ایشن میں بطور صدر کئی سال تک خدمات سرانجام دیں۔ جاپانی ناول پر اردو میں اسٹیج ڈرامہ بھی تخلیق کیا۔ا س کے علاوہ جاپانی طرزِشاعری کو پاکستانی زبانوں میں متعارف کروانے کا سہرا بھی ان کے سر ہے۔
فاطمہ ثریا بجیا طویل علالت کے باعث85 سال کی عمر میں 10 فروری 2016 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں لیکن ان کی ادب سے وابستگی اور خدمات رہتی دنیا تک یاد رہیں گی۔
ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائیگا، سعودیہ، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوگیا
- 3 دن قبل

غازی آباد تھانے میں مبینہ زیادتی کیس، تفتیش میں اہم انکشافات
- 2 دن قبل

نیپرا نے ملک بھر کیلئے بجلی مہنگی کردی
- 3 دن قبل
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں ملوث ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا
- 2 دن قبل
ماسٹرز ہاکی ورلڈکپ: پاکستان ویٹرنز ٹیم پہلا میچ ہار گئی
- 2 دن قبل

پاکیتان میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 3 دن قبل
ہنگو: فورسز کے آپریشن میں 7 خارجی دہشتگرد ہلاک، کیپٹن شہید
- 2 دن قبل

سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں دو مختلف کارروائیو ں میں 10خوارج کو ہلاک کردیا
- 3 دن قبل

تاریخی اسٹیج ڈرامہ 'جنم جنم کی میلی چادر' نئے انداز میں پیش
- 3 دن قبل
پاک–سعودیہ–ترکیہ دفاعی معاہدہ امتِ مسلمہ کی وحدت و مشترکہ سلامتی کو مضبوط کرے گا: اشرفی
- 2 دن قبل
’میرے ڈھولے دا دنیا‘ میوزک ویڈیو ریلیز
- 2 دن قبل
اسکول میں فائرنگ سے ٹیچر سمیت 6 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کرلی
- 3 دن قبل


