Advertisement
پاکستان

واپڈا کی جانب سےآبی وسائل کی منصوبہ بندی اور انتظامات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر کانفرنس

کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاکستان میں آبی وسائل کے بہتر انتظام اور مؤثر استعمال کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

GNN Web Desk
شائع شدہ ایک ماہ قبل پر فروری 28 2025، 12:09 صبح
ویب ڈیسک کے ذریعے
واپڈا کی جانب سےآبی وسائل کی منصوبہ بندی اور انتظامات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر کانفرنس

  واپڈا کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے آبی وسائل کے شعبے میں جدت لانے کی غرض سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

واپڈا ہاؤس لاہور میں تیسری“آبی وسائل کی منصوبہ بندی اور انتظامات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ”کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی۔کانفرنس میں ملک بھر سے ماہرین، آبی وسائل کے شعبے سے منسلک انجینئرز اور نامور جامعات بشمول  نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،  غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ، فاسٹ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ سائنس،  کامسیٹس، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی،  پنجاب یونیورسٹی لاہور، قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نواب شاہ اور مہران یونیورسٹی جامشورو سے طلبہ کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی ممبر (واٹر) واپڈا جاوید اختر لطیف تھے۔

کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاکستان میں آبی وسائل کے بہتر انتظام اور مؤثر استعمال کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ  اس کانفرنس کا انعقاد چیئرمین واپڈا کے ویژن اور رہنمائی کے تحت کیا گیا جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آبی وسائل کے بہتر انتظام کو متعارف کرانا ہے۔  تاکہ پانی کے مؤثر استعمال  اور پن بجلی کی پیداوار میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔  علاوہ ازیں کانفرنس میں تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان اشتراک  قائم کرنا اور مصنوعی ذہانت سے اخذ کردہ تحقیق کو آج کی صنعت میں استعمال میں لانا ہے۔ 


افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ممبر (واٹر) واپڈا جاوید اختر لطیف نے کہا کہ اس کانفرنس میں شرکاء کو ا ٓبی وسائل کے شعبے میں جدید رجحانات اور واپڈا کی مہارت سے روشناس کرایا جائے گا۔ یہ اقدام واپڈا کی جانب سے  پاکستان کی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشترک قائم کرنے کے عزم کا حصہ ہے تاکہ ملک میں آبی وسائل کا مؤثر نظام تشکیل دیا جاسکے۔  انہوں نے کہا کہ پانی ہماری زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اس لئے آبی وسائل کا مؤثر انتظام ناگزیر ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال آبی وسائل کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے وسیع پیمانے پر تجزیاتی معلومات، ممکنہ خطرات اور ان کا دیرپا حل فراہم کرتا ہے اوراس ضمن میں واپڈاکلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔


کانفرنس میں تین ٹیکنیکل سیشن ہوئے  جس میں ملک بھر سے آئے محققین نے تحقیقی مقالے پیش کئے اور ایک اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی نے ان مقالوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ یہ تحقیقی مقالے پن بجلی، آبی وسائل، ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث برف پگھلنے، سیلاب، زیرزمین پانی، پانی کی تقسیم، ڈرینج، برساتی نالوں کا بہتر انتظام اور آبی وسائل پر موسمی اثرات کے موضوعات پر تھے۔


نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے سکول آف سول اینڈ انوائرمنٹل انجینئرنگ کے پرنسپل/ڈین ڈاکٹر محمد عرفان نے آبی وسائل کے شعبے میں منصوبہ بندی اور انجینئرنگ مینجمنٹ میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔  یو ای ٹی لاہور کے سنٹر آف ایکسی لینس ان واٹر ریسورسز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عتیق الرحمان نے  بھی  آبی وسائل کی منصوبہ بندی اور انتظام میں مصنوعی ذہانت کے  استعمان پر تفصیلی گفتگو کی جبکہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے آبی وسائل سیکشن کی سربراہ  قراۃ العین احمد نے  پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے آبی وسائل پر اثرات پر تفصیلی بات کی۔


کانفرنس میں اہم مقررین نے ڈیمز کی تعمیر، پن بجلی منصوبوں اور زیرزمین پانی سمیت آبی وسائل کے شعبے کے مسائل اور مواقع میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کاکہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ناگزیر ہے۔ آبی وسائل میں فیصلہ سازی، پانی کے بہتر استعمال، ڈیمز کی مؤثر دیکھ بھال اور پن بجلی کی پیداوار بڑھانے سمیت اہم امور میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کانفرنس میں  واپڈا کے ریٹائرڈ جنرل منیجرز اور ایڈوائیزرز نے بھی شرکت کی۔ 


کانفرنس کے اختتام  پر جنرل منیجر (کوآرڈی نیشن اینڈ مانیٹرنگ) واپڈا محمد اعظم جوئیہ  نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مصنوعی ذہانت پر اپنے تجربات پیش کیے۔ بعدازاں سوالات اور جوابات کا سیشن بھی ہوا جس  کے  بعد سیشن چیئر اور کوچیئرنے  اختتامی کلمات پیش کیے۔ آخر میں  کانفرنس کے شرکاء کوشیلڈز اور سرٹیفکیٹس بھی دیئے گئے۔

Advertisement
حکومت سندھ کا تعلیمی بورڈز کے لیے مستقل چیئرمینز کی تعیناتی کا فیصلہ

حکومت سندھ کا تعلیمی بورڈز کے لیے مستقل چیئرمینز کی تعیناتی کا فیصلہ

  • 8 hours ago
پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی چھیالیسویں برسی آج  منائی جائے گی

پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی چھیالیسویں برسی آج  منائی جائے گی

  • 7 hours ago
ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا عمل شروع  ، نیپرا نے عملدرآمد شروع کردیا

ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا عمل شروع ، نیپرا نے عملدرآمد شروع کردیا

  • 10 hours ago
پاکستان  کی غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے اقدامات کی پرزور مذمت

پاکستان کی غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے اقدامات کی پرزور مذمت

  • 7 hours ago
طورخم بارڈر سے مزید 27 غیرقانونی طور پر مقیم افغانی اپنے ملک منتقل

طورخم بارڈر سے مزید 27 غیرقانونی طور پر مقیم افغانی اپنے ملک منتقل

  • 6 hours ago
آذربائیجان کے صدر رواں ماہ پاکستان کادورہ کریں گے،اہم معاہدے متوقع

آذربائیجان کے صدر رواں ماہ پاکستان کادورہ کریں گے،اہم معاہدے متوقع

  • 12 hours ago
جانیے سونف کے انسانی جسم پر حیرت انگیز فوائد

جانیے سونف کے انسانی جسم پر حیرت انگیز فوائد

  • 12 hours ago
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کےبانی چیئرمین مقرر

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کےبانی چیئرمین مقرر

  • 7 hours ago
چین کا امریکہ سے حالیہ ٹیکسوں کو فوری طورپر منسوخ کرنے کا مطالبہ

چین کا امریکہ سے حالیہ ٹیکسوں کو فوری طورپر منسوخ کرنے کا مطالبہ

  • 6 hours ago
بھارتی ریاست منی پور میں عوام کا آزادی مارچ ،بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت

بھارتی ریاست منی پور میں عوام کا آزادی مارچ ،بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت

  • 11 hours ago
بجلی کی قیمت میں کمی   ،  اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس ریکارڈ بلندی پر

بجلی کی قیمت میں کمی ، اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس ریکارڈ بلندی پر

  • 13 hours ago
مارچ 2025 میں تجارتی خسارے میں کمی ریکارڈ

مارچ 2025 میں تجارتی خسارے میں کمی ریکارڈ

  • 8 hours ago
Advertisement