نامور مؤرخ کنہیا لال کے مطابق یہ حویلی مغل شہنشاہ محمد شاہ رنگیلا کے دور میں تعمیر کی گئی تھی یوں یہ تقریباً 300 سال پرانی ہے۔


ویب ڈیسک: تقریبا آٹھ کنال پر محیط قدیمی مبارک حویلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ لگ بھگ ایک سو ستر سال قبل نہ صرف لاہور بلکہ ملک کا سب سے قدیم محرم کا جلوس یہاں سے شروع ہوا اور کئی دہائیوں تک جاری رہا، یہاں تک کہ اسی کے ایک حصہ پر نثار حویلی بن گئی جہاں سے جلوس اب بھی برآمد ہوتا ہے۔
تاریخ :
لاہور کے اندرون اکبری دروازے میں واقع مبارک حویلی تاریخی حوالے سے بھی بہت اہم ہے۔
نامور مؤرخ کنہیا لال کے مطابق یہ حویلی مغل شہنشاہ محمد شاہ رنگیلا کے دور میں تعمیر کی گئی تھی یوں یہ تقریباً 300 سال پرانی ہے۔
اسے تین بھائیوں میر بہادر علی، میر نادر علی اور میر بہارعلی نے بنوایا تھا۔ جب وہ اس حویلی میں منتقل ہوئے تو اسی ماہ میر بہادر علی کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا تو خاندان نے اس عمارت کو اپنے لیے خوش نصیب سمجھتے ہوئے مبارک حویلی کا نام دیا۔
.webp)
مبارک حویلی اور کوہ نور:
سکھوں کے دور میں اس حویلی کو متعدد بار توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ یہاں بسنے والے اسے چھوڑ گئے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں اسے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا اور جب افغان بادشاہ شجاع الملک (شاہ شجاع درانی) کو کابل سے جلاوطن کیا گیا تو رنجیت سنگھ نے اسے اپنے خاندان کی خواتین سمیت یہاں پناہ دی۔
رنجیت سنگھ اس سے وہ قیمتی کوہ نور ہیرا ہتھیانا چاہتا تھا جو اسے اہنے اجداد سے ملا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ شجاع کی شومٸی قسمت کہ وہ لاہور میں دربدر کی زندگی گزار رہا تھا، افغانوں کی آپسی لڑائی نے اسے بہت نقصان پہنچایا تھا۔
رنجیت سنگھ کو خبر تھی کہ کوہ نور ہیرا شاہ شجاع کے پاس ہی ہے سو جب رنجیت سنگھ کی سپاہ نے اسے ہیرا دینے پر مجبور کر دیا تو مرتا کیا نا کرتا کے مصداق شاہ شجاع ہیرا دینے پر آمادہ ہو گیا لیکن اس شرط پر کہ یہ ہیرا رنجیت سنگھ خود لینے آئے۔
رنجیت سنگھ نے یہ شرط فوراً قبول کرلی۔ کہتے ہیں کہ مبارک حویلی میں جب شاہ شجاع نے کوہ نور ہیرا رنجیت سنگھ کے حوالے کیا تو اس کی انکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
اس نے شجاع سے پوچھا کہ اسکی قیمت کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟ شجاع بولا کہ طاقت، جب کوئی اور طاقتور آئے گا تو وہ یہ تم سے چھین لے گا جیسے تم نے مجھ سے چھینا ہے۔

اور پھر یہی ہوا، جب دلیپ سنگھ حکمران تھا تو انگریزوں نے اس کو شکست دی اور کوہ نور ہیرا اس سے چھین کر برطانیہ بھیج دیا گیا۔
سنا ہے یہ ہیرا ملکہ کے تاج میں جڑا تھا لیکن اب اسے ٹاور آف لندن کے جیول ہاٶس میں رکھا گیا ہے۔
رنجیت سنگھ کے دور میں یہ حویلی سردار کیہر سنگھ سندھووالیہ کو تحفے میں دی گئی جس کے ایک عہدیدارغلام محی الدین شاہ قریشی کچھ عرصہ اس میں رہے۔ پھر یہ حویلی نواب علی رضا خان قزلباش کو دے دی گئی جو لاہور کے مسلمان معززین میں اہم مقام رکھتے تھے۔
.webp)
1839 میں اینگلو افغان جنگ کے دوران، علی رضا قزلباش نے کابل میں برطانوی قیدیوں کی مدد کی تھی اور وہ انگریزوں کے ساتھ ہی ہندوستان چلے آئے تھے۔ انہوں نے پنجاب کے سکھ حکمرانوں کے خلاف بھی انگریزوں کا ساتھ دیا سو لاہور میں انہیں گورا سرکار نے اعزازی مجسٹریٹ بنا دیا۔
ان کی اولاد میں تین بیٹے، نوازش علی خان، ناصر علی خان اور نثار علی خان تھے۔
محرم اور مبارک حویلی :
کنہیا لال ایک جگہ لکھتے ہیں کہ محرم کے پہلے عشرے میں اس حولی میں تعزیہ داری جاری رہتی تھی جہاں قزلباش خاندان دس دن تک عوام میں لنگر تقسیم کرتا تھا۔
7 محرم کو امام قاسمؒ کی مہندی کے تمام جلوس شہر بھر سے حویلی پہنچتے تھے اور شرکاء کو نواب نوازش علی خان کی طرف سے تحائف دیئے جاتے تھے۔

عباس قزلباش صاحب کے مطابق خاندانی رہائش کے ساتھ امام باڑہ 1859 کے آس پاس تعمیر کیا گیا تھا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ نئی تعمیرات کا اضافہ ہوتا رہا۔ اسی کی توسیع میں سے ایک اب نثار حویلی کہلاتی ہے جو پہلے مبارک حویلی کا ہی ایک حصہ تھی لیکن زمین کی تقسیم کے بعد الگ ہو گئی۔
1950 کی دہائی میں نواب مظفر علی خان قزلباش (نواب نوازش علی ثانی کے ماموں) جو وفاقی وزیر اور پھر مغربی پاکستان کے وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے، کے دور میں ہی نثار حویلی مبارک حویلی سے مکمل طور پر الگ ہو گئی تھی۔
اب ملک کا سب سے بڑا مرکزی ذوالجناح کا جلوس نثار حویلی سے شروع ہوتا ہے، جسے پھر مبارک حویلی لایا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ اپنے روایتی راستے سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔
طرز تعمیر :
سبز رنگے، بھاری بھرکم لکڑی کے مرکزی محرابی دروازے کے اندر لال و سفید رنگ کی یہ عمارت کئی کمروں پر مشتمل ہے۔ باہر ایک بڑا صحن ہے جس کے بیچ میں پانی کا چھوٹا تالاب ہے۔ حویلی کے تین اطراف کا باقی ماندہ ڈھانچہ دو منزلہ ہے۔
اس کے مرکزی ہال میں اونچی دیواروں پر لکڑی کی چھت ہے جسے لکڑی کے موٹے شہتیروں سے سہارا دیا گیا ہے۔ اس ہال میں مختلف عَلم، شیشے کے بکسے میں بند حضرت امام حسین رض کے روضے کا ماڈل اور دیگر تبرکات بھی رکھے گٸے ہیں۔
.webp)
حویلی کا وہ تہہ خانہ اب بھی موجود ہے جسے سکھ دور میں بطور جیل استعمال کیا جاتا تھا۔ تہہ خانے میں مختلف چوڑائی اور لمبائی کے تین کمرے ہیں جہاں ہوا کے لیئے روشن دان بھی موجود ہیں۔ حویلی کی زمینی و دوسری منزل پر رہاٸشی کمرے ہیں جن میں سے ایک میں وہ اخباری تراشہ فریم کر کے لگایا گیا ہے جس میں کوہِ نور کی کہانی کا ذکر ہے۔۔
تحریر و تحقیقق
محمد عظیم شاہ بخاری
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے اور تحقیق پر مبنی ہے،ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

پنجاب کے مختلف شہروں میں تھیٹرز کے خلاف بڑا ایکشن، 8 اداکاراؤں پر پابندی
- ایک دن قبل

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردی
- 2 دن قبل
شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نیا انکشاف
- 2 دن قبل
ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کا معمہ حل، والد اوربھائی نےقتل کیا
- 3 دن قبل

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات
- 2 دن قبل

سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی
- 16 گھنٹے قبل
وزیراعظم اور ملائیشین ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر گفتگو
- 4 دن قبل

بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈی جے کراچی میں سروں سے بھری شام سجانےکو تیار
- 2 دن قبل
ملک میں سونے کی قیمتوں پھر بڑا اضافہ ریکارڈ
- 4 دن قبل
پرائیویٹ حج اسکیم کی بکنگ کے حوالے سے وزارت کا نیا بیان سامنے آگیا
- 17 گھنٹے قبل
دوسری شادی کیوں کی؟ سینئر اداکار نےوجہ بتادی
- 17 گھنٹے قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کا مزید اضافہ
- 2 دن قبل



