Advertisement
پاکستان

سپریم کورٹ نے انسداد جنسی ہراسگی قانون پر سوالات اٹھا دیے

لاہور : سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ دفاتر میں خواتین کی انسداد جنسی ہراسگی کا قانون صرف دکھاوا ہے، صرف جنسی نہیں مذہبی، رنگ اور عمر کی بنیاد پر بھی حراساں کیا جاتا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jul 7th 2021, 2:03 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق   سپریم کورٹ نے پی ٹی وی میں مبینہ جنسی ہراسگی کے کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت کا فیصلے میں کہنا ہے کہ سال 2010 میں بنائے گئے قانون پر عملدرآمد دراصل چشم پوشی کے مترادف ہے،صرف جنسی نہیں مذہبی، رنگ اور عمر کی بنیاد پر بھی حراساں کیا جاتا ہے، پاکستان میں خواتین کو مردوں کی نسبت جنسی حراسگی کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ  حراساں کیے جانے سے اداروں کا ماحول تباہ اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے،  سال 2010 میں بنایا گیا قانون حراسگی کے صرف ایک پہلو سے متعلق ہے، انسداد حراسگی قانون کے تحت بدتمیزی کرنے پر کارروائی نہیں ہوسکتی، بدتمیزی پر کارروائی اسی صورت ہوگی اگر اس میں جنسی پہلو شامل ہو، حراسگی کے شکار افراد کو کارروائی کیلئے جنسی پہلو خود ثابت کرنا ہوتا ہے۔

 فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خاتون شکایت کنندہ افسران پر جنسی حراسگی ثابت کرنے میں ناکام رہیں، انکوائری کمیٹی الزام ثابت نہ ہونے پر شکایت کنندہ کیخلاف کارروائی کی سفارش کر سکتی ہے، کارروائی کی سفارش پر شکایت کنندہ کیخلاف دادرسی کا کوئی فورم نہیں  ہے۔

عدالت نے خاتون درخواست گزار کی ملازمت سے برطرفی کیخلاف اپیل بھی خارج کر دی۔فیصلہ میں کہا گیا کہ خاتون محتسب کو اختیار نہیں کہ برطرف ملازمہ کو بحال کر سکے۔

Advertisement
Advertisement