Advertisement
پاکستان

وزیر اعظم کی ایگری ڈیش بورڈکو جلد مکمل، فعال کرنےکی ہدایات

اسلام آباد: وزیر اعظم نے ایگری ڈیش بورڈ کے حتمی مراحل کو ترجیحی بنیادوں پر مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور اسے جلد مکمل فعال بنانے کی ہدایات جاری کیں ہیں ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jul 9th 2021, 12:00 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ایگری ڈیش بورڈ پر پیش رفت اور بیرونِ ملک دوروں کے دوران دستخط شدہ منصوبوں و معاہدوں کے مانیٹرنگ ڈیش بورڈ پر اجلاس ہوا۔اس اجلاس میں وفاقی وزیر غذائی تحفظ سید فخر امام، مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، معاونِ خصوصی جمشید اقبال چیمہ، معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور متعلقہ افسران نے  شرکت کی ہے۔

وزیرِ اعظم کے غذائی تحفظ پر خصوصی توجہ کے ویژن کے تحت ایگری ڈیش بورڈ سے زرعی اجناس کی طلب و کھپت کے اعداد و شمار حکومت کو کسی بھی طرح کے غذائی بحرانوں کی بروقت نشاندہی اور ان سے بچنے میں معاون ثابت ہونگے۔ صوبائی حکومتوں کی معاونت سے ایگری ڈیش بورڈ اشیاءِ خوردنوش کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کو یقینی بنائے گا۔

 وزیرِ اعظم نے ایگری ڈیش بورڈ کے حتمی مراحل کو ترجیحی بنیادوں پر مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور اسے جلد مکمل فعال بنانے کی ہدایات جاری کیں. اسکے علاوہ اجلاس کو لائیوسٹاک کی جینیاتی تنوع میں بہتری کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اسکے علاوہ ڈاکٹر معید یوسف نے وزیرِ اعظم کے بیرونِ ملک دوروں اور پاکستان میں بیرونِ ملک سے آئے سربراہان سے کئے گئے معاہدوں پر عملدرآمد کی نگرانی کیلئے بنائے گئے ڈیش بورڈ کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ڈیش بورڈ نہ صرف وزیرِ اعظم کے دوروں کی تفصیلات کا ریکارڈ رکھے گا بلکہ معاہدوں پر عملدرآمد اور فیصلوں کی بھی نگرانی میں معاون ثابت ہوگا۔ ڈیش بورڈ وزراتوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے معاہدوں پر عملدرآمد کی رفتار بڑھانے کو بھی یقینی بنائے گا۔

وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ غذائی تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ زرعی پیداوار کو بڑھانے کیلئے اس شعبے میں جدت لارہے ہیں۔ ایگریکلچرل ٹرانفارمیشن پلان ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت ملک کی غذائی ضروریات کو پورا   کرنے کیلئے پیداوار کو بڑھایا جائے گا۔ دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھنے سے قیمتوں میں کمی آئے گی۔

وزیرِ اعظم نے مزیدکہا کہ بیرونِ ملک دوروں کے دوران کئے گئے معاہدوں پر بر وقت عمل کیلئے رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے ان کا تدارک کیا جائے گا تاکہ ایسے منصوبے جو ملکی مفاد کیلئے اہم ہیں ان کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

Advertisement