Advertisement
تجارت

شرح سود میں ممکنہ رد و بدل،اسٹیٹ بینک کل نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا

موجودہ 22 فیصد شرح سود میں ایک سے دو فیصد کمی کا امکان ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر May 4th 2025, 1:54 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
شرح سود میں ممکنہ رد و بدل،اسٹیٹ بینک  کل نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کل دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا، شرح سود میں ممکنہ رد و بدل کے حوالے سے کاروباری برادری، سرمایہ کار اور ماہرین معیشت بے چینی سے منتظر ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ 22 فیصد شرح سود میں ایک سے دو فیصد کمی کا امکان ہے، جس کا مقصد کاروباری لاگت کو کم کرکے صنعتی سرگرمیوں کو بحال کرنا اور معاشی پہیہ دوبارہ متحرک کرنا ہے۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (FPCCI) کے وائس چیئرمین نے مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود کو فوری طور پر سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے، تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

معروف صنعت کار ذکی اعجاز کا کہنا ہے کہ معیشت کو سنبھالنے کے لیے کم از کم 500 بیسس پوائنٹس (پانچ فیصد) کی کمی ناگزیر ہے، کیونکہ موجودہ بلند شرح سود کے باعث صنعتی قرض گیری تقریباً بند ہو چکی ہے۔

دوسری جانب معاشی و مالیاتی تجزیہ کار عتیق الرحمان نے موجودہ مشکل حالات میں شرح سود میں ”اسٹیٹس کو“ یعنی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق خصوصاً فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیے خام مال کی درآمد اسی وقت ممکن ہے جب فنڈنگ کی لاگت کم ہو۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو بندرگاہوں، فش ہاربرز، پروسیسنگ یونٹس اور زرعی و مویشی فارمنگ میں فوری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جس کے لیے مالیاتی استحکام بنیادی شرط ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کسی بھی تبدیلی کا براہِ راست اثر نہ صرف مارکیٹ کے اعتماد پر پڑے گا بلکہ مہنگائی، کرنسی کی قدر، برآمدات اور قرض گیری پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔ اس تناظر میں اسٹیٹ بینک کا کل کا فیصلہ ملکی معیشت کی سمت کے تعین میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

Advertisement