غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی بلوچستان کی سلامتی و ترقی کیلئے بڑا خطرہ ہے، آرمی چیف
ایسے دہشت گرد گروہ جو بلوچ شناخت کے نام پر بدامنی پھیلاتے ہیں، دراصل بلوچ قوم کی عزت و وقار پر دھبہ ہیں،سید عاصم منیر


راولپنڈی:آرمی چیف سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی بلوچستان کی سلامتی و ترقی کے یے خطرہ ہے ایسے عناصر کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے 15ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے بات چیت کی۔
ترجمان کے مطابق اس موقع پر پارلیمنٹرینز، بیوروکریٹس، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور میڈیا کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ غیر ملکی اسپانسرڈ دہشت گردی بلوچستان کی سلامتی و ترقی کیلئے بڑا خطرہ ہے، دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ترجمان پا ک فوج کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں عوامی فلاح و بہبود کے متعدد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن کا مقصد صوبے کے عوام کو دیرپا فائدہ پہنچانا ہے، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ کئی منصوبے اب نتائج دے رہے ہیں جن سے بلوچستان کے عوام براہ راست مستفید ہو رہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھیں تاکہ صوبے میں امن، استحکام اور ترقی کا خواب حقیقت بن سکے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے بلوچستان کے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے میں سول سوسائٹی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ سول سوسائٹی کی شراکت سے ترقی اور خوشحالی کا عمل مزید مضبوط ہوگا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، مسلک یا قومیت نہیں ہوتی اور اس کا مقابلہ صرف قومی اتحاد اور پختہ عزم سے ممکن ہے،ان کا کہنا تھا کہ ایسے دہشت گرد گروہ جو بلوچ شناخت کے نام پر بدامنی پھیلاتے ہیں، دراصل بلوچ قوم کی عزت و وقار پر دھبہ ہیں۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو چیلنج کیا گیا تو قوم کی عزت اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کے لیے بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ورکشاپ 2016 سے جاری ہے جس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ، بیوروکریٹس، سول سوسائٹی، نوجوانوں، ماہرینِ تعلیم اور میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے،جس میں مختلف سیمینارز، گروپ مباحثے اور ملک کے مختلف علاقوں کے دورے شامل ہوتے ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اس ورکشاپ کا مقصد بلوچستان کے مستقبل کے قائدین کو قومی اور صوبائی سطح کے اہم امور کی بہتر تفہیم دینا اور مشترکہ قومی ردعمل کی تیاری ہے۔

مفاہمتی یاداشت پر اتفاق ہونے کے بعدامریکا نے ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دی دی
- 2 days ago

ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
- 16 hours ago

تعبیر فاؤنڈیشن اور کِٹاس کالج کے درمیان مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی فراہمی کا معاہدہ
- 14 hours ago
لتھوانیا کی وزیر اعظم نے بھی اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
- 17 hours ago

گلوکار طارق طافو منوں مٹی تلے جا سوئے
- 16 hours ago
وہ بھاڑ میں جائے جو کہتا ہے پاکستان بھاڑ میں جائے، علامہ طاہر اشرفی
- 18 hours ago

گلگت بلتستان اسمبلی میں اسپیکر پیپلز پارٹی اور ڈپٹی اسپیکر (ن) لیگ سے منتخب
- 2 days ago

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش
- 14 hours ago

ایرانی صدر کی علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف
- 12 hours ago
پیپلزپارٹی کے امجد حسین بلامقابلہ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے
- 2 days ago

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا
- 17 hours ago

مصر نے 92 سال بعد فیفا ورلڈ کپ کا میچ جیت لیا، نیوزی لینڈ کو 3-1 سے شکست
- 2 days ago







