Advertisement

طالبان سپریم لیڈر اور چیف جسٹس پر آئی سی سی کا شکنجہ: خواتین پر پابندیوں کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسے معقول شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ان طالبان رہنماؤں نے خواتین کے خلاف منظم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 8th 2025, 8:35 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
طالبان سپریم لیڈر اور چیف جسٹس پر آئی سی سی کا شکنجہ: خواتین پر پابندیوں کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کے خلاف خواتین کے خلاف مبینہ جبر اور صنفی امتیاز کے الزامات پر وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے خلاف یہ اقدام خواتین کی تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی میں شرکت پر عائد پابندیوں کے پس منظر میں اٹھایا گیا ہے، جنہیں آئی سی سی نے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسے معقول شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ان طالبان رہنماؤں نے خواتین کے خلاف منظم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک اور جبری اقدامات شامل ہیں۔

آئی سی سی کے جج نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ ان اقدامات کا دائرہ کار بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں آتا ہے اور ان کے اثرات لاکھوں افغان خواتین اور بچیوں کی زندگیوں پر پڑے ہیں۔

یہ وارنٹ ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب طالبان حکومت پہلے ہی عالمی سطح پر تنقید کی زد میں ہے، اور خواتین کو عوامی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ شعبوں سے باہر رکھنے کی پالیسی پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

Advertisement
Advertisement