9 مئی کے واقعات کی ہم پہلے ہی مذمت کر چکے ہیں، یہ واقعہ پیش نہیں آنا چاہیے تھا ، بیرسٹر گوہر
بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا جائے


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی 9 مئی کے واقعات کی پہلے ہی مذمت کر چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ پیش نہیں آنا چاہیے تھا اور مستقبل میں بھی ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہونا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے اس بات کی تصدیق کی کہ پارٹی رہنما عمر ایوب کو چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے فون آیا تھا، تاہم اس وقت وہ شہر میں موجود نہیں تھے۔ ملاقات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمر ایوب کی جانب سے کوئی ملاقات کی خواہش یا پیغام نہیں گیا تھا بلکہ چیف جسٹس کی جانب سے رابطہ کیا گیا۔ چونکہ عمر ایوب نے عدالت کو ایک خط لکھا تھا، ممکن ہے چیف جسٹس اسی حوالے سے وضاحت چاہتے ہوں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس سے قبل بھی چیف جسٹس کی جانب سے اس نوعیت کے رابطے ہو چکے ہیں، اس لیے یہ غیر معمولی بات نہیں۔
ان کے مطابق عمر ایوب ایک بڑی جماعت کے اپوزیشن لیڈر ہیں، اور اگر چیف جسٹس کی طرف سے انہیں فون آ جائے تو اس میں کوئی غیر مناسب بات نہیں۔ عمر ایوب کو سزا دیے جانے پر گوہر علی خان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سزا ناانصافی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوری اور سخت سزائیں نہ دی جاتیں تو حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔
انہوں نے زور دیا کہ عمر ایوب آج بھی اپوزیشن لیڈر ہیں اور کل بھی رہیں گے، اور ان کے خلاف دی گئی سزا کو وہ ناجائز سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول، ایسا انصاف جو نظر نہ آئے، وہ انصاف نہیں کہلا سکتا۔ 9 مئی کا سہارا لے کر کسی ایک جماعت کو نشانہ بنانا درست نہیں اور اس سے پورے سیاسی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے تین مقدمات میں 196 ملزمان کو سزائیں سنائی تھیں، جن میں پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب اور شبلی فراز بھی شامل ہیں۔ عدالت نے پہلے دو مقدمات میں 168 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ حساس ادارے پر حملے کے کیس میں 108 افراد کو سزا اور دیگر کو بری کر دیا گیا۔ تیسرے مقدمے میں 28 افراد کو سزائیں سنائی گئیں جبکہ 4 افراد کو بری کر دیا گیا۔

پاکستان کے ثقافتی اور میوزک کے رنگ اب سعودی عرب میں سجیں گے
- 2 دن قبل
فٹبال لیجینڈ میسی نے انٹرنیشنل فٹبال کو خیربادکہہ دیا
- 14 گھنٹے قبل

نائب وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، فلسطین، کشمیر و علاقائی امور پر گفتگو
- 2 دن قبل

پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ ’فتح 4‘ کروز میزائل کے توسیعی ورژن کا کامیاب تجربہ
- 2 دن قبل

لاہور: آوارہ کتے کے حملے میں ڈاکٹر زخمی
- 21 گھنٹے قبل

اہلیہ پرتشدد کے الزام میں خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکے شوہرگرفتار کر لیا گیا
- 3 دن قبل

سری لنکا کیخلاف ٹی 20 سیریزکیلئے صاحبزادہ فرحان کپتان مقرر، ون ڈے ٹرائی سیریزمیں شاہین آفریدی کپتان برقرار
- 3 دن قبل

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا عالمی امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ
- 14 گھنٹے قبل
نواب شاہ کے رہائشی مریض میں منکی پاکس کی تصدیق
- 2 دن قبل

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے قبضے سے بازیاب تین پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے
- 17 گھنٹے قبل

ٹرمپ کا سابق امریکی میجرکو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم
- 2 دن قبل

سابق خطیب داتا دربار پر مالی بدعنوانی کے الزامات ثابت، لاکھوں روپے کی ریکوری کا حکم
- 19 گھنٹے قبل





