Advertisement
پاکستان

فل کورٹ اجلاس کی مخالفت: سپریم کورٹ منٹس میں عدالتی اختلافات سامنے آ گئے

چیف جسٹس نے اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے وضاحت دی کہ آئینی تشریح جیسے معاملات کی سماعت آئینی بینچ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 14th 2025, 9:19 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
فل کورٹ اجلاس کی مخالفت: سپریم کورٹ منٹس میں عدالتی اختلافات سامنے آ گئے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 31 اکتوبر 2024 سے 29 مئی 2025 کے دوران منعقد ہونے والے ججز کمیٹیوں کے اجلاسوں کے منٹس عوام کے لیے جاری کر دیے ہیں۔ ان منٹس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے اندرونی فیصلوں اور اختلافات کی تفصیلات پہلی بار سامنے آئی ہیں۔

منٹس کے مطابق، آئینی درخواستوں پر آئینی بینچ کے ذریعے سماعت کی تجویز 13 میں سے 9 ججز کی اکثریتی رائے سے سامنے آئی۔ تاہم، چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس سلسلے میں فل کورٹ اجلاس بلانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 191A اور اس کی ذیلی شقوں کے تحت 184(3) کی درخواستوں کی سماعت صرف آئینی بینچ ہی کر سکتا ہے۔

جاری کردہ منٹس میں چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس منصور علی شاہ کے مراسلے کا جواب بھی شامل ہے، جو کہ 31 اکتوبر 2024 کے ججز اجلاس کے بعد موصول ہوا تھا۔ اس اجلاس میں جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کو 4 نومبر کو فل کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کی سفارش کی تھی۔

تاہم چیف جسٹس نے اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے وضاحت دی کہ آئینی تشریح جیسے معاملات کی سماعت آئینی بینچ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، نہ کہ فل کورٹ کے۔ ان کا کہنا تھا کہ فل کورٹ اجلاس نہ بلانے کا فیصلہ عدلیہ کے اندر باہمی روابط کے تحفظ اور عوامی سطح پر متنازع تاثر سے بچاؤ کے لیے کیا گیا، کیونکہ ماضی میں منقسم رائے کے باعث عدالت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ دونوں ججز کے خطوط اور ان کا جوابی خط سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کے سپرد کر دیے گئے تاکہ وہ 5 نومبر 2024 کے کمیشن اجلاس میں زیرِ غور لائے جا سکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے تجویز دی کہ اگر ممکن ہو تو آئینی بینچ کی تشکیل میں ان کی جگہ دیگر ججز کو شامل کیا جائے۔

منٹس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کچھ ججز نے اپنی رائے سربمہر لفافوں میں جمع کرائی، جن میں سے چند نے فل کورٹ سماعت کی حمایت کی، لیکن اکثریتی ارکان نے اسے غیر ضروری قرار دیا۔

Advertisement
بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر

بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر

  • 2 days ago
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فلسطینیوں کے حملہ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فلسطینیوں کے حملہ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی

  • a day ago
پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل

پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل

  • 7 hours ago
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی

  • 2 days ago
لاہور میں بسنت کی تاریخوں کا اعلان

لاہور میں بسنت کی تاریخوں کا اعلان

  • 2 days ago
لاہور:موٹر سائیکل سوار شہری کا اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد، ملزم گرفتار

لاہور:موٹر سائیکل سوار شہری کا اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد، ملزم گرفتار

  • 2 days ago
نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی

نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی

  • 14 hours ago
نئے صوبوں کا قیام اور گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں، ابراہیم حسن مراد

نئے صوبوں کا قیام اور گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں، ابراہیم حسن مراد

  • a day ago
آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور

آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور

  • 13 hours ago
پیٹرول پمپ ملازم تشدد کیس:عدالت کا ملزم کی رہائی کا حکم

پیٹرول پمپ ملازم تشدد کیس:عدالت کا ملزم کی رہائی کا حکم

  • 11 hours ago
لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک

لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک

  • 7 hours ago
پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا

  • 13 hours ago
Advertisement