ذیابیطس کے مریضوں کے علاج کے لیے تیار کی گئی دوا کو لوگ وزن کم کرنے کے مقصد سے بھی استعمال کر رہے ہیں


امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن ( سی ڈی سی) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں تقریباً 42 فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد برسوں سے وزن گھٹانے کے مؤثر اور محفوظ طریقے تلاش کر رہے ہیں، خواہ وہ مخصوص غذائیں ہوں، ورزش ہو یا ادویات کی صورت میں ہو۔
اس ضمن میں گزشتہ کچھ عرصے سے ایک نئی دوا اوزیمپک نے خاصی توجہ حاصل کی ہے، اگرچہ یہ بنیادی طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی لیکن اب کئی لوگوں نے اسے وزن کم کرنے کے مقصد سے بھی استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
اوزیمپک، جس کا طبی نام سیمگلوٹائڈ ہے، 2017 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے) نے ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے منظور کی تھی۔ یہ دوا ہفتے میں ایک بار انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے اور لبلبے کو انسولین زیادہ مقدار میں پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے بلڈ شوگر کی سطح کم ہوتی ہے۔
اگرچہ یہ دوا وزن گھٹانے کے لیے باضابطہ طور پر منظور نہیں کی گئی، لیکن کچھ معالجین اپنے مریضوں کو اس مقصد کے لیے بھی تجویز کرتے ہیں۔
اوزیمپک جسم میں ایک قدرتی ہارمون کی طرح عمل کرتی ہے جو دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ پیٹ بھر چکا ہے، اس طرح بھوک کم ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہاضمے کی رفتار کو بھی سست کر دیتی ہے، یعنی کھانا معدے میں زیادہ وقت تک موجود رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دوا کسی حد تک باریٹرک سرجری کے اثرات سے مشابہت رکھتی ہے۔ ذیابیطس کے علاج میں استعمال کے دوران وزن میں کمی اکثر ایک عام سائیڈ افیکٹ کے طور پر سامنے آتی ہے۔
تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اوزیمپک میں موجود فعال جزو سیمگلوٹائڈ وزن گھٹانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر نتائج کے لیے دوا کے ساتھ صحت مند غذا اور ورزش ضروری ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزن گھٹانے کے لیے سیمگلوٹائڈ کی ایک اور دوا ویگووی (Wegovy) کو 2021 میں ایف ڈی اے کی منظوری مل چکی ہے۔ دونوں دوائیں ایک ہی کمپنی کی تیار کردہ ہیں اور ان میں سیمگلوٹائڈ ہی شامل ہے، لیکن ویگووی میں اس کی خوراک زیادہ رکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اوزیمپک کے استعمال سے وزن میں کمی نہ صرف جسمانی تبدیلی کا باعث بنتی ہے بلکہ دل کی بیماریوں اور دیگر سنگین مسائل کے خطرات کو بھی کم کر سکتی ہے۔ بعض مریضوں کے لیے یہ دوا باریٹرک سرجری کا متبادل بھی ہو سکتی ہے، اگرچہ سرجری کے نتائج عام طور پر زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔
تاہم، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ وقت بعد جسم اس دوا کا عادی ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن کم ہونا رک جاتا ہے۔ مزید یہ کہ، دوا بند کرنے پر وزن دوبارہ بڑھنے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔
اوزیمپک وزن گھٹانے میں مددگار ہو سکتی ہے، مگر یہ اس مقصد کے لیے منظور نہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس کا استعمال صرف ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں تک محدود ہونا چاہیے۔ اوزیمپک کا غیر ضروری استعمال دوا کی کمی، صحت کے خطرات اور طرزِ زندگی میں تبدیلی نہ کرنے پر دوبارہ وزن بڑھنے کا باعث بن سکتا ہے۔
اوزیمپک نے موٹاپے کے شکار افراد کے لیے امید ضرور جگائی ہے، لیکن ماہرین اب بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ دوا بنیادی طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ہے۔ جو لوگ وزن کم کرنے کے خواہشمند ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرکے ویگووی یا دیگر محفوظ متبادل پر غور کریں۔
پاکستان کے تین ٹیلی کام آپریٹرزو فائیو جی اسپیکٹرم لائسنس لینے میں کامیاب
- 2 days ago
صدر الخدمت فاؤنڈیشن نے قاہرہ میں غزہ کے یتیم بچوں اور مہاجرین کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹیں
- a day ago
خلیجی ممالک کے شہری علاقوں کے قریب حملوں کی ذمے داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، ایرانی وزیر خارجہ
- 3 days ago

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کتنی کمی ہو گئی؟
- a day ago

پاکستان اور چین مختلف شعبوں میں اے آئی پر مبنی شراکت داری مضبوط بنانے پر متفق
- 3 days ago
ملک میں جمعتہ الوداع مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا
- a day ago

ایک تولہ سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کی کمی
- 2 days ago
آبنائے ہرمز میں آمد و رفت بحال کرنے کیلئے امریکی جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تعینات
- a day ago
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف کارروائی پر بھارت کے بے بنیاد بیان کو مسترد کر دیا
- 3 days ago
ڈی جی فوڈ اتھارٹی خیبرپختونخوا فائرنگ سے زخمی
- 3 days ago

علماء سے خطاب: فیلڈ مارشل کا فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اتحاد اور برداشت پر زور
- 2 days ago
سعودی عرب میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید 20 مارچ جمعہ کو ہوگی
- 3 days ago






