Advertisement
پاکستان

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی وضاحت: ایمان مزاری میری بیٹیوں جیسی ہے، بات کو غلط رنگ دیا گیا

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ "میں نے بچوں کی طرح سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ بار بار بنیادی حقوق کی بات کر رہی تھیں۔ کیا اِس عدالت کے بھی کچھ بنیادی حقوق نہیں؟

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 12th 2025, 6:06 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی وضاحت: ایمان مزاری میری بیٹیوں جیسی ہے، بات کو غلط رنگ دیا گیا

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے وکیل ایمان مزاری سے کمرہ عدالت میں ہونے والی تلخ کلامی پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ایمان مزاری میری بیٹیوں کی طرح ہے، میری بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے غیر ضروری تنازع کھڑا کر دیا گیا۔"

چیف جسٹس نے ایک کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ روز پیش آئے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "میں بطور چیف جسٹس اور ایک بڑے کی حیثیت سے اسے سمجھا رہا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ میرے فیصلوں سے اختلاف کر سکتی ہیں لیکن ذاتی حملے نہ کریں۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں پکڑ لوں گا۔"

انہوں نے وضاحت کی کہ "ہادی صاحب اُس وقت کھڑے تھے، میں نے ان سے کہا کہ انہیں (ایمان مزاری کو) پکڑ کر لے جائیں ورنہ توہین عدالت کی کارروائی ہو گی۔ اگر ایسا ہوتا تو اس بچی کا کیریئر خراب ہو جاتا۔"

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ "میں نے بچوں کی طرح سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ بار بار بنیادی حقوق کی بات کر رہی تھیں۔ کیا اِس عدالت کے بھی کچھ بنیادی حقوق نہیں؟"

انہوں نے زور دیا کہ معاملے کو بلا وجہ طول دیا جا رہا ہے اور جو کچھ کہا گیا، وہ نیک نیتی پر مبنی تھا، کسی کو دبانے یا دھمکانے کی نیت نہیں تھی۔

Advertisement