ٹرمپ اور اسٹارمر کی مشترکہ پریس کانفرنس: مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور فلسطین پر اتفاق و اختلاف
پیوٹن نے اپنے اصل عزائم دنیا پر واضح کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس نے یوکرین میں بدترین حملے کیے


بکنگھم شائر: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں انسانی بحران کے خاتمے، یرغمالیوں کی رہائی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مایوس کن کردار ادا کیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، کیئر اسٹارمر نے اپنی سرکاری رہائش گاہ چیکرز میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ "ہم مل کر اس بات کے لیے کام کر رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں انسانی امداد پہنچے، یرغمالیوں کو رہا کرایا جائے، اور اسرائیل سمیت پورا خطہ امن و سلامتی پر مبنی ایک منصوبے کی جانب لوٹے جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔"
وزیراعظم نے اس کے بعد یوکرین پر بات کرتے ہوئے کہا "پیوٹن نے اپنے اصل عزائم دنیا پر واضح کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس نے یوکرین میں بدترین حملے کیے، معصوم جانیں لیں، اور نیٹو کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جو کسی بھی طور امن پسند رویہ نہیں۔"
✦ نیٹو، یوکرین اور روس پر ٹرمپ کا مؤقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکا نیٹو کو درکار اسلحہ فراہم کر رہا ہے، جس کی قیمت نیٹو خود ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے نیٹو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "رکن ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات 2 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کر دیے ہیں، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔"
ٹرمپ نے روسی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا "پیوٹن نے مجھے شدید مایوس کیا ہے۔ میں نے سوچا تھا روس-یوکرین جنگ سب سے آسان ہوگی، لیکن حالات نے ثابت کیا کہ وہ امن نہیں چاہتا۔"
✦ اسرائیل و غزہ: حل کی امید مگر اختلاف باقی
دونوں رہنماؤں نے اسرائیل-غزہ تنازع کو "پیچیدہ" قرار دیا، لیکن ساتھ ہی اس کے حل کی امید بھی ظاہر کی۔
وزیراعظم اسٹارمر نے کہا "ہم تسلیم کرتے ہیں کہ غزہ میں صورتحال ناقابلِ برداشت ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی اور امداد کی ترسیل اولین ترجیحات ہیں۔ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا معاملہ ایک جامع امن منصوبے کے تحت زیرِ غور ہے۔"
تاہم صدر ٹرمپ نے فلسطینی ریاست کے اعتراف پر اختلاف کرتے ہوئے کہا "اس نکتے پر میرا وزیراعظم سے اختلاف ہے۔ یہ ان چند معاملات میں سے ایک ہے جہاں ہمارے نظریات مختلف ہیں۔"
انہوں نے 7 اکتوبر کے حملے کو "تاریخ کا بدترین دن" قرار دیا، اور غزہ میں انسانی المیے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔
پاکستانی قیادت کی امن کوششوں سے عالمی جنگ بندی ممکن ہوئی، طاہر اشرفی
- 18 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کی علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف
- 2 دن قبل

نو محرم الحرام مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے، یوم عاشور کل عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا
- 3 گھنٹے قبل

نئے تعینات ہونے والے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سالک جلال کا اصلاحاتی مشن، جیلوں کے اچانک دوروں کا آغاز
- ایک دن قبل
امیرِ قطر کی پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد
- ایک دن قبل
ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل، بعد ازاں دہلی واپس روانہ
- 18 گھنٹے قبل

پرواز کارڈ کے تحت 135 ہنر مند نوجوان سعودی عرب روانہ، وزیراعلیٰ پنجاب نے پرواز کارڈ اور بلاسود قرضے تقسیم کیے
- ایک دن قبل
امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم پر لگائی گئی سفری پابندیاں نرم کر دیں
- ایک دن قبل
وزیرِ دفاع کی پاکستان تحریک انصاف کو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے کی دعوت
- ایک دن قبل
ایف آئی اے نےاسلام آباد میں انسانی اعضاکی خرید و فروخت کے الزام میں غیر ملکی باشندوں سمیت 5 افرادگرفتار کر لئے
- 41 منٹ قبل
وینزویلا میں دو زلزلے، 164 سے زائد افراد ہلاک، عمارتیں زمین بوس ہو گئیں
- 3 گھنٹے قبل
پی آئی بی ایف کی جانب سے پاکستان۔ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے چھ نکاتی ایجنڈا ایرانی سفیر کو پیش
- ایک دن قبل










