Advertisement
پاکستان

جعلی ڈگری کیس: عدالت نے سابق ایم این اے جمشید دستی کومجموعی طورپر17 سال قید کی سزا سنا دی

ملزم نے مظفرگڑھ کے حلقہ این اے 178 سے الیکشن میں حصہ لیا جعلی ڈگری کی بنا پر انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا،استغاثہ کے ریمارکس

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Sep 22nd 2025, 5:19 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
جعلی ڈگری کیس: عدالت نے سابق ایم این اے جمشید دستی کومجموعی طورپر17 سال قید کی سزا سنا دی

ملتان:سیشن کورٹ ملتان نے سابق ایم این اے اور عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید احمد دستی کے خلاف جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں مجموعی طور پر 17 برس قید کی سزا سنادی۔

تفصیلات کے مطابق جمشید دستی کے خلاف الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری کا استغاثہ دائر کر رکھا تھا، جمشید دستی نے 2008ء میں مدرسے کی بی اے کی ڈگری پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

دوران سماعت عدالت نے جرم بدفعہ 82 پر تین سال، دفعہ 420 جعل سازی پر دو سال، دفعہ 468 جعلی دستاویزات پر سات سال اوردفعہ 471 جعلی دستاویزات کو اصل کے طوراستعمال کرنے پر دوسال قید اور دس ہزار جرمانہ جبکہ دفعہ 206 رشوت دینے کی کوشش کرنے کے تحت تین سال قید کی سزا سنائی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پاس جمشید دستی کی ڈگری کا ریکارڈ موجود نہیں، ملزم نے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی کی، انہیں حقیقت چھپانے پر نااہل کیا جانا چاہیے۔

دوران سماعت استغاثہ نے مزید کہاکہ ملزم نے مظفرگڑھ کے حلقہ این اے 178 سے الیکشن میں حصہ لیا جعلی ڈگری کی بنا پر انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا۔

دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شفافیت کے تقاضے پورے کریں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب سابق ایم این اے جمشید دستی نے سزا کے فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے، سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف یہ کارروائی مخالفین کی سازش ہے اور انہیں جان بوجھ کر انتخابی سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اوراپنی بےگناہی ثابت کریں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن بھی اسپیکر قومی اسمبلی کے ریفرنس پر جمشید دستی کو نااہل قرار دے چکا ہے ان کے خلاف یہ مقدمہ کئی سال سے زیرِ سماعت تھا جس میں آج فیصلہ سنا دیا گیا۔

Advertisement