Advertisement
پاکستان

ایچ ای سی کا بڑا فیصلہ، انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے انٹرن شپ اور سرٹیفکیشن لازمی قرار

اکثر یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کے پاس عملی تجربہ نہیں ہوتا، اور عملی میدان میں درکار ہنر اور تجربے سے محروم رہ جاتے ہیں، ایچ ای سی

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 26th 2025, 2:32 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ایچ ای سی کا بڑا فیصلہ، انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے انٹرن شپ اور سرٹیفکیشن لازمی قرار

اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان میں انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے انٹرن شپ اور انڈسٹری سے متعلقہ سرٹیفکیشن لازمی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایچ ای سی کے تحت یہ نیا اقدام انڈرگریجویٹ ایجوکیشن پالیسی 2023 کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد تعلیم اور صنعت کے درمیان موجود فرق کو ختم کرنا اور گریجویٹس طلبہ کی عملی مہارتوں کو بہتر بنا کر انہیں ملکی و بین الاقوامی جاب مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی بنانا ہے۔

اس حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ اکثر یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کے پاس عملی تجربہ نہیں ہوتا، اور عملی میدان میں درکار ہنر اور تجربے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ایچ ای سی کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی تمام سرکاری و نجی یونیورسٹیوں اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں پر لاگو ہوگا، طلبہ کو 3 کریڈٹ آورز پر مشتمل سپروائزڈ انٹرن شپ مکمل کرنا ضروری ہوگا، تاکہ وہ عملی ماحول میں کام کرنے کا تجربہ حاصل کر سکیں۔

اس کے علاوہ طلبہ کے لیے آئی ٹی، فنانس، کنسٹرکشن، ہیلتھ اور دیگر اہم شعبوں میں انڈسٹری سرٹیفکیشن حاصل کرنا بھی ضروری ہوگا۔

دوسری جانب ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی کا یہ اقدام پاکستانی طلبہ کے لیے ایک مثبت تبدیلی ثابت ہوگا کیونکہ عالمی سطح پر گریجویٹس سے نہ صرف تعلیمی قابلیت بلکہ عملی تجربہ اور تکنیکی مہارتوں کی توقع کی جاتی ہے۔

Advertisement