Advertisement
پاکستان

اسرائیلی جیل میں ہم پر کتے چھوڑے گئے اوربدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا،سابق سینیٹر مشتاق

فلسطین کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی، ہم غزہ ناکہ بندی کو بار بار توڑیں گے، غزہ میں نسل کشی کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے،مشتا ق احمد

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Oct 7th 2025, 9:35 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیلی جیل میں ہم پر کتے چھوڑے گئے اوربدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا،سابق سینیٹر مشتاق

عمان: جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اسرائیل سے رہائی کے بعد اپنے پہلے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 
اسرائیلی جیل میں ہم پر کتے چھوڑے گئے اور بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی بدنام زمانہ جیل میں رہنے کے بعد ہمیں رہائی مل چکی ہے، قید کے دوران ہمارے ہاتھ پیچھے باندھے گئے، پاؤں میں بیڑیاں ڈالی گئیں اور ہم پر کتے چھوڑے گئے، ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئی تھیں۔

سابق سینیٹر نے کہا کہ اسرائیلی جیل میں ہمارے اوپر بندوقیں تانی گئیں، ہم نے اپنے مطالبات کے لیے 3 دن تک بھوک ہڑتال کی، ہمیں ہوا، پانی اور ادویات تک رسائی نہیں دی گئی اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی، ہم غزہ ناکہ بندی کو بار بار توڑیں گے، غزہ میں نسل کشی کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد اڈیالہ جیل سے اسرائیلی جیلوں تک جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اہلِ غزہ سے اظہار یکجہتی اور جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں کے لیے امداد لے جانے والے بیڑے صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے جس میں 500 کے قریب مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے اراکین بھی شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جسمانی و ذہنی اذیت دی گئی، وہ 5 سے 6 دن اسرائیلی جیل میں قید رہے، جس کے بعد ساتھیوں سمیت انہیں رہا کر دیا گیا، وہ اس وقت اردن میں موجود ہیں اور جلد پاکستان واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Advertisement