Advertisement

پہلگام واقعہ کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

رپورٹ میں کشمیری طلبہ کی نگرانی، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 8 months ago پر Nov 25th 2025, 3:37 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پہلگام واقعہ کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

نیویارک:اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہارکر دیا، دوران حراست تشدد، مشکوک اموات اورنارواسلوک کے واقعات کی مذمت کی۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسزاورحکام نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں سمیت 2800افراد کو غیر قانونی طورپر گرفتار کیا گیا۔

رپورٹس کے دہشتگردی کے شبہ میں یا بغیر کسی الزام کے مسلم خاندانوں کے گھر گرائے گئے، تشدد اورامتیازی سلوک کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال کا آزادانہ اورشفاف جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں حراست کے دوران تشدد، بدسلوکی، حراستی ہلاکتوں اور لنچنگ کی اطلاعات پر گہری تشویش بیان کی۔

رپورٹس میں اقوام متحدہ نے موبائل انٹرنیٹ کی بندش، ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنے پر سوال اٹھایا ہے جن میں صحافیوں کے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں کشمیری طلبہ کی نگرانی، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔

علاوہ ازاں دفتر برائے انسانی حقوق کے مطابق مبینہ اجتماعی سزا کے طور پر گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی کو بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کشمیری طلبہ کی نگرانی، ڈیٹا کلیکشن اور بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں اضافے پر سوال اٹھائے گئے، گجرات و آسام میں مسلم گھروں، مساجد اور کاروبار کی مسماری اور جبری بے دخلیوں کو امتیازی اقدام قرار دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کو خطرناک حالات میں جبری طور پر واپس بھیجا گیا، بھارت قوانین میں اصلاحات، شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور تمام من مانی حراستوں کا خاتمہ کرے۔

Advertisement