اسلام آباد : زبردستی کورونا ویکسین لگوانے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔


اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی جانب سے تحریری فیصلہ کے مطابق درخواست گزار وکیل شاہینہ شہاب الدین عدالت کے سامنے پیش ہوئی ایک وکیل نے عدالت کے آئینی دائرہ اختیار کی درخواست کی، درخواست گزار وکیل نے کوویڈ 19 کے سلسلے میں این سی او سی کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو چیلنج کیا وکیل کی رائے میں یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے کہ شہریوں کو کوویڈ 19 کے خلاف ویکسین لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں انسان جان لیوا وبائی بیماری کوویڈ 19 گزشتہ دو سالوں سے بہت بڑے چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد جاری ہے ویکسین جو مؤثر طریقے سے جان لیوا وبائی مرض کو روک سکتی ہے سائنسدان اور پیشہ ور محققین نے عالمی سطح پر محفوظ ویکسین تیار کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ انسانیت کو نقصان سے بچایا جا سکے عالمی ادارہ صحت اور دیگر معروف اداروں نے حال ہی میں تیار کی گئی ویکسین کو انسانی استعمال کے لیے محفوظ قرار دیا ہے اس طرح ہر قوم نے وبائی امراض سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پابندیاں عائد کی ہیں۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار ویکسین لگانے سے انکار کی کوئی حقیقت نہیں دے سکا اور نہ ہی کوویڈ 19 سے متعلق نقصان کو روکنے کے لیے تیار کی گئی ویکسین جان لیوا ثابت ہونے کی ثبوت دیے گئے، ریکارڈ میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ ایک معزز مطالعہ یا تحقیق یہ تجویز کرنے کے لیے موجود ہے کہ کوویڈ 19 کے خلاف ویکسینیشن جان لیوا وبائی امراض کو روکنے کے بجائے انسانیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہ نوٹ کیا جاتا ہے کہ غیر حفاظتی ٹیکے لگانے والے افراد اپنے شہریوں کو جان لیوا نقصان سے بچانے کے لیے ریاست کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اگر وبائی بیماری طویل ہوتی ہے تو اس کے ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن نے بغیر کسی معتبر سائنسی بنیاد کے پہلے ہی ریاست پاکستان کی انتھک کوششوں میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔
ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کوویڈ 19 صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ ہے آئین کے تحت جن بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہ مطلق نہیں بلکہ معقول پابندیوں اور حدود سے مشروط ہیں، درخواست گزار اور جو لوگ ویکسینیشن اور اس سے متعلقہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں انہیں دوسرے شہریوں کے اس حق کا احترام کرنا چاہیے درخواست گزار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ریاست اور اس کی پالیسیوں پر اعتماد بحال کرے جس کا مقصد شہریوں کو جان لیوا وبائی مرض کوویڈ 19 سے بچانا ہے، نہ ہی درخواست گزار کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے، اس لیے درخواست کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں دو مختلف کارروائیو ں میں 10خوارج کو ہلاک کردیا
- 3 دن قبل
’میرے ڈھولے دا دنیا‘ میوزک ویڈیو ریلیز
- 2 دن قبل
اسکول میں فائرنگ سے ٹیچر سمیت 6 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کرلی
- 3 دن قبل
ہنگو: فورسز کے آپریشن میں 7 خارجی دہشتگرد ہلاک، کیپٹن شہید
- 2 دن قبل

تاریخی اسٹیج ڈرامہ 'جنم جنم کی میلی چادر' نئے انداز میں پیش
- 3 دن قبل
ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائیگا، سعودیہ، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوگیا
- 3 دن قبل

پاکیتان میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 3 دن قبل
ماسٹرز ہاکی ورلڈکپ: پاکستان ویٹرنز ٹیم پہلا میچ ہار گئی
- 2 دن قبل
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں ملوث ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا
- 2 دن قبل

نیپرا نے ملک بھر کیلئے بجلی مہنگی کردی
- 3 دن قبل

غازی آباد تھانے میں مبینہ زیادتی کیس، تفتیش میں اہم انکشافات
- 2 دن قبل
پاک–سعودیہ–ترکیہ دفاعی معاہدہ امتِ مسلمہ کی وحدت و مشترکہ سلامتی کو مضبوط کرے گا: اشرفی
- 2 دن قبل



