Advertisement

ڈاکٹر ماہا علی خودکشی کیس:ملزمان پر زیادتی کے الزامات ثابت نہ ہوسکے

ڈاکٹر ماہا علی خودکشی کیس میں مرکزی ملزمان پر زیادتی کے الزامات ثابت نہ ہوسکے،دو مرکزی ملزمان کی ڈی این اے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Nov 20th 2021, 9:10 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ڈاکٹر ماہا علی خودکشی کیس:ملزمان پر زیادتی کے الزامات ثابت نہ ہوسکے

تفصیلات کے مطابق پولیس سرجن حیدرآباد کی نگرانی میں 9 ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ کی رپورٹ متعلقہ عدالت میں جمع کرا دی گئی جس پر ڈاکٹر وحید علی، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر وقار احمد اور ڈاکٹر رجنی کمار کے دستخط ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی سے مرکزی ملزمان جنید خان اور سید وقاص کے ڈی این اے میچ نہیں ہوئے۔

 ڈاکٹر ماہا علی کے دوست جنید خان اور سید وقاص حسن پر متوفیہ کے والد سید آصف علی شاہ کی جانب سے زیادتی کے الزامات لگائے گئے تھے،عدالتی حکم پر مرکزی ملزم جنید خان اور سید وقاص نے خون اور بکل سویب کے نمونے جام شورو یونیورسٹی میں خود جاکر دیے، ڈاکٹر ماہا کے کپڑوں اور خون کے نمونوں سے ڈی این اے سمپل کا موازنہ کیا گیا۔

ڈی این اے رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزم جنید خان اور سید وقاص حسن کا ڈی این اے متوفیہ ڈاکٹر ماہا علی سے میچ نہیں کرتا،ملزم جنید خان کے وکیل کے مطابق متوفیہ ماہا علی سے جنید خان اور وقاص کی زیادتی کے الزامات جھوٹے ہوگئے۔

خیال رہے کہ  گزشتہ سال کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خاتون ڈاکٹر ماہا علی نے گولی مار کر خودکشی کرلی تھی،ڈاکٹر ماہا کے قریبی دوست جنید نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا تھا کہ اس کے مرحومہ سے گزشتہ 4 سال سے تعلقات تھے اور دونوں جلد ہی شادی کرنے والے تھے۔

جنید کا کہنا تھا کہ ماہا کو روز نجی ہسپتال میں پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا، لیکن جس دن اس نے خودکشی کی اس دن ماہا نے گھر آنے سے منع کیا۔خاتون ڈاکٹر کے دوست کا کہنا تھا کہ ماہا کا اکثر اپنے والدین سے جھگڑا رہتا تھا، ماہا گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے ڈپریشن میں رہا کرتی تھی۔

ڈاکٹر ماہا علی کی موت کو پولیس نے اپنی تحقیقات کی بناء پر خودکشی قرار دیا ہے اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی نے اپنے دوست جنید کے تشدد سے تنگ آکر خود کو مارا۔ 

Advertisement
روسی وزارت خارجہ کی رپورٹ می افغانستان میں 23 ہزار تک دہشت گرد جنگجو وں کی موجودگی کی تصدیق

روسی وزارت خارجہ کی رپورٹ می افغانستان میں 23 ہزار تک دہشت گرد جنگجو وں کی موجودگی کی تصدیق

  • 4 hours ago
وزیراعظم کی قطری وزیر ِمملکت سے ملاقات، تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار

وزیراعظم کی قطری وزیر ِمملکت سے ملاقات، تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار

  • 2 hours ago
کوہاٹ: خاری دہشت گردوں کا پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی سمیت7 افراد شہید

کوہاٹ: خاری دہشت گردوں کا پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی سمیت7 افراد شہید

  • 4 hours ago
صارفین کیلئے اچھی خبر، واٹس ایپ نے  شیڈولڈ میسج   کا فیچر متعارف  کرانے کا اعلان کر دیا

صارفین کیلئے اچھی خبر، واٹس ایپ نے شیڈولڈ میسج کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کر دیا

  • 4 hours ago
سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری، آج بھی ہزاروں روپے مہنگا

سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری، آج بھی ہزاروں روپے مہنگا

  • 4 hours ago
 بانی پی ٹی آئی عمران خان  کی بہن نورین نیازی نالے میں گر گئیں

 بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی نالے میں گر گئیں

  • 4 hours ago
بانی پی ٹی آئی اوراہلیہ بشریٰ بی بی کی سات مقدمات میں ضمانتیں منظور

بانی پی ٹی آئی اوراہلیہ بشریٰ بی بی کی سات مقدمات میں ضمانتیں منظور

  • 3 hours ago
بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج نے زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانیوالی ایمبولینس کو آگ لگا دی

بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج نے زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانیوالی ایمبولینس کو آگ لگا دی

  • 4 hours ago
جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے سرکاری سکول بارودی مواد سے اڑا دیا

جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے سرکاری سکول بارودی مواد سے اڑا دیا

  • 3 hours ago
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی نیدرلینڈ کے وزیر اعظم کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی نیدرلینڈ کے وزیر اعظم کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد

  • 4 hours ago
پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق

پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق

  • a day ago
عافیہ صدیقی کیس: عدالت نے وزیر اعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کارروائی ختم کر دی

عافیہ صدیقی کیس: عدالت نے وزیر اعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کارروائی ختم کر دی

  • a day ago
Advertisement