اسلام آباد: حکومت نے مریم نواز کے اشتہارات کنٹرول کرنے کے بیان پر کارروائی کا اعلان کردیا۔


وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز جب بھی بولتی ہیں ہمیں اچھے کی امید ہوتی ہے، الحمد اللہ مریم نواز نے آج میڈیا سیل چلانے کا اعتراف کر کے اپنا ٹریک ریکارڈ برقرار رکھا ہے، مریم نواز نے اعتراف کیا ہے کہ وہ میڈیا سیل چلا رہی تھیں، اس میڈیا سیل کی نشاندہی 2 نومبر 2015ءکو ڈان اخبار نے کی تھی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم ہاﺅس میں مریم نواز کی زیر سرپرستی سپیشل میڈیا سیل تشکیل دیا گیا تھا، اس میڈیا سیل میں پہلے 15 ممبران تھے، 20 ملین روپے مزید بھرتیوں کے لئے مختص کئے گئے، میڈیا سیل کے ارکان کی تعداد بڑھا کر 38 کر دی گئی اور اسے میڈیا کی تمام مہمات چلانے کے لئے اختیارات دیئے گئے، منظم طریقے سے اس بدنام زمانہ سیل نے صحافیوں کو خریدا، ان میں رقوم تقسیم کیں جبکہ مخالف صحافیوں کو سزائیں دی گئیں۔
چوہدری فواد حسین نے کہا کہ مریم نواز نے اعتراف کیا کہ وہ اس کام کی نگرانی کر رہی تھیں، ویڈیو ٹیپ میں مریم نواز نے اعتراف کیا ہے، میڈیا سیل کی منظوری سے 9 ارب 62 کروڑ 54 لاکھ 3 ہزار 902 روپے وفاقی حکومت کے خرچ کئے گئے، مریم نواز نے کچھ چینلز کے نام لئے جن کو سزا دی گئی، کچھ چینلز کے نام نہیں لئے جنہیں ریوارڈ کیا گیا، صحافتی تنظیموں اور صحافی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لئے انہیں بتانا ضروری ہے کہ کسے نوازا گیا اور کسے سزا دی گئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 10 ارب روپے کی رقم صرف اسلام آباد کی ایڈورٹائزمنٹ کی ہے، پنجاب کی ایڈورٹائزمنٹ بھی بہت حد تک یہی میڈیا سیل کنٹرول کر رہا تھا، میڈیا سیل کے ذریعے تقریباً 15 سے 18 ارب روپے صحافیوں، مختلف میڈیا گروپس میں تقسیم کئے گئے، ایک پرائیویٹ شخص کی طرف سے سرکاری فنڈز کو ہینڈل کرنا سنگین جرم ہے، میڈیا سیل کے ذریعے جو گورکھ دھندا کھیلا گیا اس کی سب سے بڑی شہادت ہمارے سامنے آئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے پر ہم نے انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے، چند روز میں اس کی تفصیلات پیش کریں گے، پرویز رشید کے دور میں وزارت اطلاعات کو کٹھ پتلی بنا رکھا تھا، سرکاری رقم کے استعمال میں کسی پرائیویٹ شخص کے اختیارات کیسے استعمال ہوئے، اس کی تحقیقات کی جائیں گی، ن لیگ کے خلاف عدالتوں میں جو کیسز لگے ہیں وہ سادہ سے کیسز ہیں کہ یہ جائیداد ہیں، اس میں آپ مقیم ہیں، اس کے پیسے کہاں سے آئے؟ نیب آرڈیننس کے سیکشن 9 میں درج ہے کہ پراپرٹیز کی منی ٹریل پیش کی جائے، اگر نہیں ہے تو یہ کرپشن کی پریکٹس ہے۔ ن لیگ منی ٹریل دینے کی بجائے اس سلسلے کو روکنا چاہتی ہے، ن لیگ کے پاس شواہد ہیں تو وہ پیش کر دے، عام آدمی چاہتا ہے کہ چوروں سے پیسہ واپس آئے۔

بنوں حملے پر پاکستان کا سخت سفارتی ردعمل،فیصلہ کن جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،دفتر خارجہ
- 2 hours ago

پی ایف یو سی کے زیر اہتمام معرکہ حق کے حوالے سے تصویری نمائش کا انعقاد،اسپیکر ملک احمد خان کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت
- 3 hours ago

ڈھاکا ٹیسٹ:چوتھے دن کے اختتام تک بنگلا دیش نے 179 رنز کی برتری حاصل کرلی
- an hour ago

قابض افغان رجیم کی ریاستی دہشتگردی جاری ، پوست کے خاتمے کے نام پر نہتے شہریوں کا قتلِ عام
- 2 hours ago

غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں،جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دینگے، ایرانی وزارت خارجہ
- 4 hours ago

امریکی صدر کے 13 سے 15 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے،وائٹ ہاؤس
- 3 hours ago
بہاولپور گیریژن: معرکۂ حق کی فتح کا ایک سال مکمل، یادگارِ شہداء پر تقریب کا انعقاد
- 20 hours ago

سال 2025 کے مقابلے رواں سال لاہور میں جرائم میں نمایاں کمی، سی سی ڈی کا دعویٰ
- 3 hours ago

پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا
- 4 hours ago

آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،وزیر اعظم
- 4 hours ago

وفاقی وزیر ریلوے کی زیر صدارت ریلوے روٹس کی اپ گریڈیشن منصوبے کے حوالے سے جائزہ اجلاس
- 2 hours ago
کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 3 hours ago












