سعودی عرب میں حاتم طائی کی تاریخ کے احیا کے حوالے سے کام کیا جا رہا ہے۔


حاتل : حاتم طائی کی سخاوت کے قصوں نے انہیں افسانوی شخصیت بنا دیا ہے۔ پاکستان سمیت برصغیر میں حاتم طائی کی سخاوت ضرب المثل بن گئی ہے۔
پاکستان اور انڈیا میں ان کی شخصیت پر فلمیں اور ڈرامے بنے اور کتابیں لکھیں گئیں۔
حاتم طائی کی امتیازی خصوصیت ان کی سخاوت تھی لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ حاتم طائی کا آبائی علاقہ سعودی عرب میں ہے۔ حاتم طائی اپنے قبیلے طے کے سردار اور ایک اچھے شاعر بھی تھے۔
سعودی عرب کے حائل ریجن کے سرخ رنگ کے ’اجا و سلمی‘ پہاڑ آج بھی عرب دنیا کے مشہور سخی حاتم طائی کی فیاضی اور مہمان نوازی کی گواہی دے رہے ہیں۔
سعودی عرب میں حاتم طائی کی تاریخ کے احیا کے حوالے سے کام کیا جا رہا ہے۔
توارن قریہ جو حاتم طائی کا مسکن ہے سیاحوں کا مرکز ہے۔ توارن سعودی عرب کے شہر حائل اور شمالی صوبے حائل میں واقع ہے۔ حائل کے کئی مقامات حاتم طائی کی تاریخ سے وابستہ ہیں۔

توارن قریہ حائل کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہاں اب بھی حاتم طائی کے قبیلے والوں کے مکانات ہیں۔ عربی قصائد سے پتہ چلتا ہے کہ حاتم طائی اور ان کے ہم قبیلہ توارن میں آباد تھے۔ انہوں نے ’اجا و سلمی‘ پہاڑوں کے درمیان اپنی زندگی گزاری جہاں محبت کی ایک لازوال داستان نے بھی جنم لیا تھا۔
توارن جس وادی کے وسط میں واقع ہے وہ متعدد وادیوں کا سنگم ہے۔ ان میں وادی عاجزہ سب سے مشہور ہے۔ توارن قریے کو اجا پہاڑ ہر طرف سے اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔
توارن کی تاریخی وادی میں صرف ایک محل کے کھنڈر ہیں۔ اس کے دروازے لکڑی کے ہیں اور ان پر پھول بوٹے بنے ہوئے ہیں۔ اس محل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ حاتم طائی کا ہے۔ اسی کے پہلو میں حاتم طائی اور ان کی بیٹی سفانا کی قبریں موجود ہیں۔ توارن محل حائل سے 65 کلو میٹر دور شمال میں واقع ہے۔
حاتم طائی کی سخاوت کے حوالے سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ رات کے وقت السمرا پہاڑ کی چوٹی پر الاؤ روشن کرتے تھے تاکہ صحرا نورد پردیسی اسے دیکھ کر یہاں کا رخ کریں اور وہ ان کی میزبانی کر سکیں۔

یہ مقام اب (موقد حاتم الطائی) کے نام سے مشہور ہے اور حائل کا اہم ترین سیاحتی مقام بن چکا ہے۔
سعودی حکام نے موقد حاتم الطائی کے مقام کو 20 کروڑ ریال کی لاگت سے 17 لاکھ مربع میٹر سے زائد رقبے پر ریزورٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس مقام پر ایک ٹاور اڑن طشتری کی شکل میں تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کو جبل السمرہ ٹورسٹ ریزروٹ کا نام دیا گیا ہے۔
حاتم طائی کا زمانہ اسلام کے دور سے پہلے کا ہے۔ حاتم طائی کی بیٹی سفانا جب قیدیوں کے ساتھ لائی گئی تو نبی کریم نے اسے آزاد کر دیا تھا۔
حاتم طائی کے بیٹے عدی نے سات ہجری مطابق 628 میں اسلام قبول کر لیا تھا۔
حاتم طائی نے 46 قبل ہجرت مطابق 605 میں وفات پائی۔ ان کے والد کا نام عبداللہ بن سعد الطائی اور والدہ کا نام عتبہ بنت عفیف تھا۔
حاتم طائی مہمان نوازی اور سخاوت کے معاملے میں اپنوں کی ناراضی کی پروا نہیں کرتے تھے۔ ان کے بھائیوں نے انہیں دولت کی قدر و قیمت کا احساس دلانے کے لیے ایک سال تک گھر میں نظر بند کیے رکھا تاہم انہوں نے سخاوت کا سلسلہ جاری رکھا۔
.jpg&w=3840&q=75)
سونے کی قیمتوں میں اچانک ہزاروں روپے کی کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 17 hours ago

وزیر اعظم سے چینی سفیر کی ملاقات،خطے میں قیامِ امن کیلئےپاکستان کی کاوشوں کی تعریف
- 15 hours ago

انرجی سیکیورٹی اب ملک کی مستقبل کی مجموعی منصوبہ بندی کا انتہائی اہم حصہ بن چکی ہے،شہباز شریف
- 17 hours ago

طلباء کیلئے اچھی خبر : پنجاب حکومت نے نئی آئی ٹی انٹرنشپ پروگرام کا آغاز کر دیا
- 15 hours ago

پاکستان نے 2023 کے بعد پہلی بار ایل این جی کارگو کیلئے تین ٹینڈر جاری کر دیے
- 13 hours ago

ملک میں کل سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
- 16 hours ago

پہلگام واقعہ سے متعلق بھارتی الزامات بے بنیاداور پروپیگنڈا ہیں،دفتر خارجہ
- 11 hours ago

افغان ہیکرز نے بھارتی میڈیا چینل ہیک کرکےخصوصی پیغام نشر کر دیا
- 13 hours ago

حیدرآباد: شادی میں آئے 3 بچے کرنٹ لگنے سے جاں بحق
- 17 hours ago

جلا وطن ایرانی رہنما رضا پہلوی ایک شخص نے سرخ مائع پھینک دیا،حملہ آور گرفتار
- 15 hours ago

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں کارروائیاں تیز کرنے اور ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا حکم
- 12 hours ago

لاہورمیں ہولناک واقعہ: گھر میں 3 معصوم بچوں کے گلے کاٹ کر قتل کر دیا گیا
- 13 hours ago


.jpg&w=3840&q=75)




.jpg&w=3840&q=75)
