Advertisement
پاکستان

مریم نواز کی ضمانت منسوخ کروانے کی ٹھوس وجوہات نظر نہیں آرہی،مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی ضمانت منسوخ کروانے کی کوئی قانونی اور ٹھوس وجوہات نظر نہیں آرہی۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Mar 15th 2021, 11:25 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

سربراہ پی ڈی ایم فضل الرحمان نے مریم نواز کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ  ضمانت منسوخ کروانےکی بظاہر کوئی قانونی اور ٹھوس وجوہات نظر نہیں آرہی،جعلی حکمران اپوزیشن رہنماؤں کو  انتقام کا نشانہ بناکر نااہلی کو چھپانا چاہتے ہیں، نیب کی انتقامی کارروائیاں جعلی حکومت کے اقتدار کو نہیں بچا سکتی ہیں۔

فضل الرحمان نے کہا کہ جعلی اور سلیکٹڈ حکمرانوں کے دن گنے جاچکے ہیں، نیب کا ادارہ جعلی اور سلیکٹڈ حکمرانوں کا کٹھ پتلی اورآلہ کار بنا ہوا،کٹھ پتلی حکمران 26 مارچ کے لانگ مارچ سے گھبراگئے ہیں، حکمران نیب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، نیب کی طرح عدالتوں کو بھی سیاسی بنیادوں پر چلانا ایک گھناؤنی سازش ہے۔

خیال رہے کہ  قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی ضمانت کی منسوخی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔نیب کی چودھری شوگر ملز کیسز میں مریم نواز کی ضمانت خارج کرنے کی درخواست  سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔نیب کی جانب سے دائر درخواست میں مریم نواز اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مریم نواز لاہور ہائی کورٹ سے چوہدری شوگر ملز اور منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت پررہا ہیں اور وہ  اپنی ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔مریم نوازکے خلاف چوہدری شوگرملز سمیت دیگر انکوائریز جاری ہیں لیکن وہ ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود نیب سے تحقیقات میں تعاون نہیں کررہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ مریم نواز پیش نہ ہو کر نیب کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں لہٰذا ان کی ضمانت منسوخ کی جائے۔

واضح رہےکہ نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے دوران کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کیا تھا ۔تاہم 4 نومبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں اپنا پاسپورٹ اور ایک ایک کروڑ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

Advertisement
Advertisement