انقلابی و عوامی شاعر حبیب جالب کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے ۔


حبیب جالب کا نام ان انقلابی اورعوامی شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ظلم اور ناانصافی کے خلاف جو کچھ بھی لکھا وہ زبان زدِ عام ہوگیا۔ انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر ہر دور کے جابر اور آمر حکمران کے سامنے کلمہ حق بیان کیا۔
حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو ہوشیار پور، پنجاب (موجودہ پاکستان) کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ اینگلو عریبک ہائی اسکول دہلی سے میٹرک کرنے والے جالب نے گورنمنٹ ہائی اسکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی۔15 برس کی عمر میں شاعری شروع کرنے والے جالب ابتداء میں جگر مراد آبادی سے بے حد متاثر تھے۔ بسلسلہ روزگار وہ روزنامہ جنگ اور پھر لائل پور ٹیکسٹائل مل سے منسلک رہے۔
حبیب جالب کمیونزم کے بڑے حامی تھے۔جس کی پاداش میں انہیں قیدوبند اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔دوران قید انہوں نے شاعری کا سلسلہ جاری رکھا ۔حبیب جالب کا پہلا مجموعہ کلام 1957 میں شائع ہوا۔1970 میں جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں جب اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل نہیں کیا گیا تو حبیب جالب نے احتجاجاً ایک نظم لکھی۔
حبیب جالب نے جنرل ریٹائرڈ ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 60 کی دہائی میں اس وقت کے مارشل لاء کے خلاف بھرپور احتجاج بھی کیا۔اُن کی شاعری آج بھی سیاسی جلسوں کے علاوہ حکومتی مشینری کے خلاف مظاہروں میں لوگوں کے جذبات کو گرمانے کے لیے پڑھی جاتی ہے۔اورصرف پاکستان میں ہی نہیں دیگر ممالک میں بھی اردو سمجھنے والے ان کی شاعری کو جذبات کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں ۔
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے، چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے، ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
جالب اپنے مقامی انداز کی بدولت عوامی توجہ اپنے جانب مبذول کروالیتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ادب کیلئے بے شمار کام کیا ،اْن کی نظموں کے پانچ مجموعے برگ آوارہ ، سرمقتل ، عہد ستم ، ذکر بہتے خون کا اور گوشے میں قفس کے شائع ہو چکے ہیں۔
حبیب جالب کے نام سے 2006 میں حبیب جالب امن ایوارڈ کا اجراء کیا گیا جب کہ اُن کی وفات کے بعد 23 مارچ 2009 کو انہیں نگار ایوارڈ اور نشان امتیازسے نوازا گیا۔ حبیب جالب صرف اپنی شاعری ہی میں انقلابی نہیں تھے بلکہ ان کی شاعری کا اثر اُن کی اپنی زندگی پر بھی تھا ۔
حبیب جالب کو اگست1992 ء میں بیماری نے آگھیرا۔ وہ کچھ عرصہ لندن اور مقامی اسپتالوں میں زیرِ علاج رہے، مگر مرض بڑھتا ہی رہا اور آخرکار 13 مارچ 1993 ء کو 65 برس کی عُمر میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔

شازیہ رضوان کا شیخوپورہ تھیٹرز کا اچانک دورہ، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی
- 2 days ago

آصف اقبال کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، فنی خدمات کو خراجِ تحسین
- 2 hours ago

پاک بحریہ کی بحیرہ عرب میں کارروائی،2,800 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط
- 2 days ago

رباط میں یومِ دفاع و شہدا کی تقریب، مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین
- 2 days ago
وزارت اطلاعات نےافغان وزارتِ دفاع کا اسپن بولدک کے قریب پاکستانی چوکی تباہ کرنے کا دعویٰ من گھڑت قرار دیا
- 3 days ago

ڈی آئی خان: چیک پوسٹ کے قریب دھماکا،11 افراد ہلاک، متعدد زخمی
- 2 days ago
ملک میں سونے کی قیمتوں میں حیرت انگیزکمی
- 8 hours ago

ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
- 6 hours ago

آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس، مرکزی ملزم گرفتار
- 4 hours ago

امریکہ افغانستان جنگی کمیشن کی علاقائی امن کے لیے پاکستان کی خدمات کی تعریف
- an hour ago

وزیراعظم کا اقوام متحدہ سےخطاب امتِ مسلمہ، امن پسند دنیا کے جذبات کی آواز ہے: اشرفی
- 2 days ago

ایشین گیمز ہاکی:ملائیشیا نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے میں ہرا دیا
- 2 days ago






