چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ اسپیکر آرٹیکل 5 کا حوالہ بھی دے تو تحریک عدم اعتماد مسترد نہیں کرسکتا، کوشش ہے اس کیس کا جلد ازجلد فیصلہ کریں۔


چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سمیت کئی سیاستدان اور وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔ ایڈووکیٹ نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔
مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے بھی وکلا عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے، عدم اعتماد جمع کرنے کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ وہ اہم نوعیت کے معاملے پر فل کورٹ بنائے۔
چیف جسٹس نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی فل کورٹ کی وجہ سے دس ہزار مقدمات کا اضافہ ہوا، ایسا کرنے سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو بنچ میں موجود کسی جج پر اعتراض ہے تو وہ بتائیں؟ اگر کسی کو ہم پر اعتماد نہیں ہے تو پھرہم یہاں سے چلے جائیں گے۔
دورانِ سماعت فاروق نائیک نے دلائل دیے کہ اسپیکرکو تحریک عدم اعتمادجمع ہونےکے 14روز میں اجلاس بلانا تھا، تحریک جمع ہونےکے بعد 20 تاریخ تک اسپیکر نے اجلاس نہ بلانےکی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
فاروق نائیک کے دلائل پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس تو اسپیکر کے اقدام سے متعلق ہے، آپ بتائیں کے اسپیکر نے صحیح کیا یا غلط؟
جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ 100 ارکان اسمبلی ہیں، 25 کہتے ہیں تحریک پیش کی جائے، 50 حق میں نہیں تو کیا تحریک مسترد نہیں ہوجائے گی؟
جب کہ جسٹس اعجاز نے کہا کہ جب لیو گرانٹ نہ ہو تب تک عدم اعتماد کی تحریک نہیں ہوتی۔
چیف جسٹس نے سوال کیاکہ لیو کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اسپیکرکی طرف سے لیوگرانٹ کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
جسٹس منیب اختر نے کہاکہ اسمبلی کی کارروائی میں ہے کہ اسپیکر قرارداد مسترد کرسکتا ہے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے حکم نامہ جاری کیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 5 استعمال کرتے ہوئے بادی النظر میں نہ تحقیقات کے نتائج حاصل کیے اور نہ متاثرہ فریق کو سنا، عدالت جائزہ لے گی کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کے اقدام کو آئینی تحفظ حاصل ہے؟
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے سوال کیا کہ تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے؟ رولز میں تو ووٹنگ سے پہلے بحث کرانا ضروری تھا، رولز کے مطابق تین دن بحث ہونا تھی، بحث کرائے بغیر ووٹنگ پر کیسے چلے گئے؟
فاروق نائیک نےکہا کہ ووٹنگ سے پہلے بحث کرانےکا مطالبہ کیا گیا لیکن اسپیکر نے اجازت نہیں دی، بلاول بھٹو نے اسپیکر کو کھڑے ہوکر درخواست بھی کی۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ بحث کرانے کی اجازت نا دینا تو پھر پروسیجرل ڈیفکیٹ ہوا۔
فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ پڑھ کر سنادی، جس پر جسٹس منیب اختر نےکہا کہ اسپیکر نے رولنگ کس رول کے تحت دی؟ عدم اعتماد کی تحریک مسترد کرنے کی رولنگ کس رول کے تحت دی؟ کیا ڈپٹی اسپیکررول 28 کے تحت اسپیکر کا اختیار استعمال کرتے ہوئے رولنگ دے سکتاہے؟
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسمبلی کے رولز 28 کے تحت اسپیکر ہی رولنگ دے سکتا ہے۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کون سے رول کے تحت دی گئی؟بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر نے اسپیکر کا وہ اختیار استعمال کیا جو ڈپٹی اسپیکر کا اختیار نہیں تھا، کیا ڈپٹی اسپیکر رول 28 کے تحت رولنگ دے سکتا ہے یا صرف اسپیکر کا اختیار ہے؟ اسپیکرکےاختیارات مختلف ہیں توپھرسپریم کورٹ کےدائرہ کارکا سوال اٹھے گا۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ رول 28 کے تحت رولنگ اسپیکر خود دے سکتا ہے کوئی اور نہیں، آئین کے تحت ڈپٹی اسپیکر صرف اجلاس کی صدارت کرسکتا ہے۔
فاروق نائیک نے کہا کہ اسپیکر کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ تحریک عدم اعتماد غیر قانونی قرار دے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ پروسیجرل خلاف ورزی ہے یا آئینی خلاف ورزی ؟ اس پر فارق نائیک نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئینی خلاف ورزی ہے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کون سے مقام پر اسپیکر تحریک کے قانونی یاغیر قانونی ہونے پر رولنگ دے سکتاہے؟ اسپیکرکے پاس کیاکوئی اختیارات نہیں کہ وہ تحریک عدم اعتماد مسترد کرسکے؟ اسپیکر آرٹیکل 5 کاحوالہ بھی دے تو تحریک عدم اعتماد مسترد نہیں کرسکتا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 69 میں اسپیکر کو کس حد تک آئینی تحفظ حاصل ہے؟ آپ سے زیادہ ہم جلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ججز سے مشاورت کرکے کارروائی کل تک ملتوی کر دی، عدالت اس پر کل پھر بارہ بجے سماعت کرے گی۔
پنجاب: اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان، ہفتے میں 4 دن کھلیں گے
- 8 hours ago

حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بڑا بم گرا دیا،ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپےفی کلو اضافہ
- a day ago

وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت
- a day ago

مذہب کی جبری تبدیلی پر 5 سال قید کی سزا تجویز، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بل پنجاب اسمبلی میں جمع
- a day ago

سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزارں روپے کا اضافہ ہو گیا
- 10 hours ago
پی ایس ایل بال ٹیمپرنگ: فخر زمان نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی
- 3 hours ago

اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ:پاکستان اور چین کا مشرق وسطیٰ اور خلیج میں قیام امن کے لیے 5 نکاتی اقدام کا اعلان
- a day ago
وزیراعظم کی معاشی ، مالی اثرات سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت
- 3 hours ago
خیبر پختونخوا: سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں 13 خوارج ہلاک
- 7 hours ago

اسلام آباد میں معروف تاجر کے قتل میں ملوث ملزمان 24 گھنٹوں میں گرفتار کرلیا،طلال چوہدری
- a day ago
ایران جنگ میں ایک ماہ میں عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا نقصان
- 8 hours ago

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا، ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
- a day ago










