جی این این سوشل

پاکستان

تحائف خریدنے کے لیے عمران خان کےپاس پیسے کہاں سے آئے:مریم نواز

لاہور:رہنما مسلم ن مریم نواز نے کہا ہےکہ اصل سوال یہ ہےکہ تحائف خریدنے کے لیے عمران خان کےپاس پیسے کہاں سے آئے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

تحائف خریدنے کے لیے عمران خان کےپاس پیسے کہاں سے آئے:مریم نواز
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں مریم نے کہا کہ عمران خان نےگھڑی اور ہار پہلے خریدے پھر بیچ دیے، یہ اصل کہانی نہیں ہء۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے وہ گھڑی اور ہار کتنے میں حکومت سے خریدے اور کتنے میں بیچ دیے، اصل کہانی یہ ہے۔

اپنے ٹوئیٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ تحائف خریدنے کے لیے سابق وزیر اعظم عمران خان کےپاس پیسے کہاں سے آئے؟

کیونکہ وزیراعظم کی تنخواہ کے علاوہ ان کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں۔

پاکستان

تجارتی معاہدوں پر پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، ایرانی صدر کا دورہ پاکستان پر امریکہ کا ردعمل

تجارتی معاہدوں پر ممکنہ پابندیوں کا فوری جائزہ نہیں لے رہے، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

تجارتی معاہدوں پر پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، ایرانی صدر کا دورہ پاکستان پر امریکہ کا ردعمل

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پاک ایران تجارتی معاہدوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر پابندیوں کا خطرہ ہو سکتا ہے، تجارت معاہدوں پر غور کرنے والوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی معاہدوں پر ممکنہ پابندیوں کا فوری جائزہ نہیں لے رہے۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا، پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اور اس کے بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا 20 برس سے پاکستان میں ایک بڑا سرمایہ کار بھی ہیں، پاکستان کی اقتصادی کامیابی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، ہم اپنی شراکت کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں۔

میتھیو ملر نے کہا کہ اسرائیل کو آگاہ کر دیا کہ امریکا بے گھر فلسطینیوں کی واپسی چاہتا ہے، رفاہ میں پناہ گزین فلسطینیوں کی تعداد 14 لاکھ سے بڑھ گئی، کوئی جواز نہیں کہ رفاہ میں اسرائیل فوجی آپریشن کرے۔

واضح رہے کہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی پاکستان کا 3 روزہ دورہ کررہے ہیں۔ گزشتہ روز دورے کے پہلے دن پاکستان اور ایران کے درمیان 8 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ہم پر بنائے گئے جھوٹے کیسز اپنی موت خود مر جائیں گے، شیخ رشید

جو جیل میں ایک دن بھی نہیں رہ سکے وہ ہم پر جھوٹی شہادتیں دے رہے ہیں، سربراہ عوامی مسلم لیگ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہم پر بنائے گئے جھوٹے کیسز اپنی موت خود مر جائیں گے، شیخ رشید

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ہم پر بنائے گئے جھوٹے کیسز اپنی موت خود مر جائیں گے۔

راولپنڈی میں شیخ رشید کی انسداد دہشت گردی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ وہ لوگ جو جیل میں ایک دن بھی نہیں رہ سکے وہ ہم پر جھوٹی شہادتیں دے رہے ہیں، ہم پر جھوٹے کیسز کی بھرمار ہے۔

انہوں نے کہ اکہ یہ حکومت مکمل فیل ہو چکی ہے، عوام مر رہے ہیں، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ میں اس وقت موقع پر موجود بھی نہیں تھا جن کیسز میں مجھے شامل کیا گیا ہے۔

یہ حکومت فیل ہو چکی ہے  اور عوام پس رہی ہے۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ہمیں ہر روز عدالتوں میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ ہم پر ایسے کیسز بنائے گئے ہیں کہ دنیا ان پر  ہنسے گی۔ اُنہیں یہ کیسز واپس لینا ہوں گے ہم قانون کے دائرے میں لڑیں گے۔

اُن کا مزید کہنا ہے تھا لوگوں پر قیامت گزر رہی ہے ہزاروں جھوٹے کیسز  بنائے گئے ہیں۔ ایک شخص پاکستان میں ہی موجود نہیں تو اس پر بھی کیس بنا دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے، حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے، وزیر خزانہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

 

 

 

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے، ترقی کے مواقع کو فروغ دینے، مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے ،غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے منگل کو اسلام آباد بزنس سمٹ 2024 میں  ترقی کے لئے تعاون کے موضوع پر خطاب کرتےہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے اور ترقی کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔زراعت اور صنعت کی کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ جی ڈی پی میں مالی سال 2024 میں 2.6 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ افراط زر کی شرح 24 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جو کہ مالی سال 2023 میں 29.2 فیصد سے کم ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ پائیدار حدوں میں رہنے کا امکان ہے۔ حکومت نے زرعی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم فصلوں کی پیداوار غیر معمولی ہے۔

جولائی تا فروری 2024 کے دوران زرعی قرضوں کی تقسیم میں 33.6 فیصد اضافہ ہوا۔ بہتر فصلوں کی وجہ سے صنعتی شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت نے افراط زر کو قابو کرنے کے لیے اقدامات کئے ہیں۔ سی پی آئی افراط زر مارچ 2024 میں 20.7 فیصد سالانہ پر پہنچ گیا جو پچھلے سال کے اسی مہینے 35.4فیصد تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی تا مارچ 2024 کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 30.2 فیصد اضافہ ہوا۔ایف بی آر نے 6707 بلین روپے کے مقررہ ہدف سے زیادہ جمع کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔ جولائی تا فروری مالی سال 2024 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال 3.9 بلین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 74 فیصد کم ہو کر 1.0 بلین ڈالر رہ گیا۔جولائی تا مارچ مالی سال 2024 کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ سال 22.7 بلین ڈالر کے مقابلے میں 24.9 فیصد کم ہو کر 17.0 بلین ڈالر رہ گیا۔

حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ کو مناسب حدود میں رکھنے کا اہداف رکھا ہے۔ حکومت کے فعال اقدامات اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کی وجہ سے معاشی نقطہ نظر مثبت ہے۔

وزارت خزانہ،ایف بی آر اور وزارت قانون کے تعاون کے ساتھ مل کر محصولات کے اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت ریاست کے ملکیتی ادارے میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ 

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے۔ حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll