ویب ڈیسک : اردو کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا 110واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے ۔


سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے، منٹو نے علی گڑھ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور مصنف کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1931 میں پہلا افسانہ "تماشا" لکھا جو سانحہ جلیانوالہ باغ کے متعلق تھا ۔
سعادت حسن منٹو صحافت کے علاوہ ریڈیو ، فلموں اور ڈراموں سے بھی وابستہ رہے لیکن ان کی شہرت کی اصل وجہ ان کے افسانے بنے۔ انہوں نے اپنے افسانوں کی مدد سے معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو سب کے سامنے رکھا۔
سعادت حسن منٹونے اپنے جذبات اور احساسات کو لفظوں کے موتی پرو کر ہمیشہ کے لئے امرکردیا۔ منٹو نے ٹوبہ ٹیک سنگھ، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور آتش پارے سمیت کئی بہترین افسانے تخلیق کیے ۔ ان کے افسانے نہ صرف اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں بلکہ ان کی سب تحریریں ہی بشمول افسانے، مضامین اور خاکے اردو ادب میں بےمثال حیثیت کے حامل ہیں۔
سعادت حسن منٹو کے افسانے صرف واقعات پر ہی منحصر نہیں تھے ۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرےکے بدبودار پہلؤؤں کو اجاگر کیا۔ ان کی بے باک تحریروں کو تنقید کا نشانہ بھی بنا یا گیا اور ان کے کئی افسانوں پر مقدمے بھی چلے جس کی وجہ سے انہیں 6 بار جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی ۔ وہ ادب برائے زندگی کے قائل تھے جن کی کہانیوں میں دکھی انسان چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سعادت حسین منٹو نے 1932 سے 1955 تک اپنے 23 سالہ ادبی کرئیر میں 241 افسانے ،59 ڈرامے ،ایک ناول ، 51 آرٹیکل اور 29 ترجمے تحریر کیے ۔
منٹو1948 میں ہندوستان سے ہجرت کرکے لاہورآگئے اور باقی زندگی یہیں بسر کی۔شدید تنقید اورملامتوں کا سامنا کرنے والےمنٹو کی ادبی عظمتوں کا بالآخر دنیا کو اعتراف کرنا پڑا ۔ان کے نام کے جہاں ڈاک ٹکٹ جاری ہوئے بلکہ نشان امتیاز کے حق دار بھی ٹھہرے۔
افسانہ نگاری کے اس بےتاج بادشاہ نے زندگی کی صرف 42 بہاریں دیکھیں مگر اپنی تحریروں سے صدیوں کی زندگی پا گئے ۔
.jpg&w=3840&q=75)
مہنگا سونا اچانک ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 19 گھنٹے قبل

گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لئے پولنگ کل ہوگی،تمام انتظامات مکمل
- 19 گھنٹے قبل

گرفتارخارجی دہشت گرد عمردین عرف جذبہ کا اعترافی بیان ،فتنہ الخوارج کا گمراہ کن بیانیہ بے نقاب
- 19 گھنٹے قبل

پاکستان اور تاجکستان کا افغانستان میں دہشتگرد کیمپوں، منشیات کی پیداوار پر اظہارِ تشویش
- 19 گھنٹے قبل

ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل کا ذخیرہ باقی ہے، جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ٹرمپ
- 19 گھنٹے قبل

جنگ کے دوران امریکہ واسرائیل نے یواے ای کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال کی،عباس عراقچی
- 2 دن قبل

امریکہ نے ایک دفعہ پھر جارحیت شروع کر دی،ایران کے کویت،اور بحرین پر جوابی حملے
- 20 گھنٹے قبل

آزاد کشمیر میں عام انتخابات کب ہونگے؟ حکومت نے تاریخ کا اعلان کردیا گیا
- 2 دن قبل

آئندہ بجٹ میں ملازمین تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہوگا؟تفصیلات سامنے آ گئیں
- 19 گھنٹے قبل

وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان کر دیا
- 2 دن قبل

جنوبی وزیرستان: زمین کے تنازع پر 2 گروپوں میں فائرنگ، 4 افراد جاں بحق،2 زخمی
- 18 گھنٹے قبل
ایران امریکہ مذاکرات:محسن نقوی ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی پیغام لے کر تہران جائیں گے
- 19 گھنٹے قبل











.jpg&w=3840&q=75)
