Advertisement
پاکستان

عمران خان اسلام آباد مکھیاں مارنے آئیں گے، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان اسلام آباد مکھیاں مارنے آئیں گے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر May 23rd 2022, 3:27 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
عمران خان اسلام آباد مکھیاں مارنے آئیں گے، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 4سال کی خرابیاں4 دن میں دور نہیں ہوسکتیں، ان کا 4سالہ گند صاف کرنے میں شاید اگلی حکومت بھی لگ جائے، حکومت کامتفقہ فیصلہ ہے بقیہ مدت پوری کی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لانگ مارچ کی دو پیسےکی اہمیت نہیں اس لئے لانگ مارچ کا دباؤ نہیں لینا چاہیے کیونکہ عمران خان اسلام آباد مکھیاں مارنے آئیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک دیوالیہ کےکنارے نہیں بلکہ دیوالیہ ہوچکا ہے، چین زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کرناچاہتا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عالمی قوتیں کمزور قوموں کے حقوق پامال کرتی ہیں لیکن جن کے ساتھ زیادتی ہوگی وہ چیخیں گے اور آواز بھی اٹھائیں گے۔ 
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی قوتیں چاہتی ہیں ہم تقسیم درتقسیم ہوجائیں، بین الاقوامی طاقتیں جبر کی بنیاد پر کمزور قوموں پر فیصلے مسلط کرتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قبائلی دربد رہیں، اب تک اپنےگھر واپس نہیں گئے، قبائلیوں کوسبز باغ کیوں دکھائے گئے؟ مجھےکوئی بتائےقبائل کیلئےجوپیسہ رکھاتھاوہ کہاں خرچ ہوا؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوری اقدار کے فروغ کیلئےسب کواپنا کردار ادا کرناہوگا جبکہ عوام کی خواہش کے مطابق فیصلےکرنا ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بےگھر قبائلیوں کو اب تک اپنا گھرنہیں ملا، مجھےکہا گیا مولاناصاحب آپ قبائل کے نمائندے نہیں، قبائل کے19 نمائندوں میں سے صرف4 آپکےساتھ ہیں جبکہ قبائل کے15نمائندوں کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت میں ان کے اپنے معاشی ماہرین نے کہا تھا کہ ڈالر 200 روپے پر جائے گا اور آج ان ہی پالیسی کے اثرات مرتب ہورہے ہیں جبکہ یہ اثرات ابھی رہیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم یہ کہتے رہے ہیں حکومت تو سنبھال لیں گے لیکن سب سے بڑا چیلنج اس ملک کو دوبارہ اٹھانے کا ہے، اس کے لئے ہمیں عوام کی حمایت چاہیے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ملک ہم سب سے ہے اس لئے اس مشکل میں سیاستدانوں اور اداروں کو ایک پیج پر مشترکہ اور متفقہ کردار ادا کرنا ہوگا، کوئی بالادستی کا احساس دلانے کی کوشش نہ کرے۔

Advertisement