لاہور : اپنی تحریروں سے مسکراہٹیں بکھیرنے والے مایہ ناز ادیب اور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی چوتھی برسی آج منائی جا رہی ہے۔ ان کا انداز بیاں اورطرزسخن آج بھی پڑھنے والوں سحرمیں مبتلا کردیتا ہے ۔


مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1923 کو جے پور راجستھان بھارت میں پیدا ہوئے ، انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی، بعدازاں پاکستان بننے کے بعد اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کی اورپیشہ وارانہ ذمے داریوں کے دوران مختلف بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ۔
مشتاق احمد یوسفی نے ایک بینکر ہونے کے باوجود اردو ادب میں مزاح نگاری کا جو اعلیٰ معیار قائم کیا اور اپنے پیچھے پانچ جن ادبی شہ پاروں کو چھوڑا ہے وہ اردو دنیا کے لئے ایک نایاب تحفہ ہیں ۔
ان کی پہلی کتاب ’’چراغ تلے‘‘ 1941ء میں چھپی جب کہ دوسری ’’خاکم بدہن‘‘ 1949ء، ’’زرگزشت‘‘ 1974ء، ’’آب گم‘‘ 1990ء اور آخری کتاب ’’شام ِ شعرِ یاراں ‘‘2014ء میں چھپی۔
مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں انشائیے، خاکے،آپ بیتی سب ہی انداز شامل ہیں،جسے پڑھ کر اردو زبان کے مزاحیہ ادب کا ہر قاری ان کاگرویدہ نظر آتاہے ، مشتاقی یوسفی اردومزاح نگاری میں اپنی جداگانہ تحریروں کی وجہ سے ہردورمیں مقبول رہے۔
ادب میں ان کی نمایاں خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں 1999 میں ستارہ امتیاز جبکہ 2002 میں ہلال امتیاز سے نوازا۔
ادب سے وابستہ افراد کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی ،سیاسی ،تہذیبی اورادبی ہررنگ کی جھلک ملتی ہے ۔
مشتاق احمد یوسفی 20جون 2018 کو نمونیا کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث 94 سال کی عمر میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔

آپریشن غضب للحق کے ثمرات، ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں 59 فیصد کمی
- 18 گھنٹے قبل

لاہورکے نیشنل ہسپتال میں ریزوم تھراپی کا کامیاب آپریشن
- ایک دن قبل

شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ،پیٹرول کے ٹول ٹیکسز میں بھی نمایاں اضافہ
- ایک گھنٹہ قبل

خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات کے طلباء کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام جاری
- ایک دن قبل

اسحا ق ڈار کا مصری و ازبک وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، دو طرفہ اور علاقائی صورتحال پر گفتگو
- 18 گھنٹے قبل

معاشی بچت، جنگ بندی کی کوششیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- ایک دن قبل

مہنگا سونا اچانک ہزاروں روپے سستا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- ایک دن قبل

ایران جنگ:اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رحجان ، 100 انڈیکس 3500 پوائنٹس گرگیا
- 20 گھنٹے قبل

برطانیہ کسی بھی صورت ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،کئیر اسٹارمر
- ایک دن قبل

ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، ایرانی قوم اور افواج ملک پر حملہ کرنے والوں کے پاؤں کاٹ دیں گے،ترجمان
- ایک دن قبل

پی ایس ایل: اسلام آباد یونائیٹڈ نےکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی
- 20 گھنٹے قبل

اگردشمن کوئی زمینی آپریشن کی کوشش کرے تو دشمن کے کسی بھی فوجی کو زندہ نہیں بچنا چاہیے،ایرانی آرمی چیف
- ایک دن قبل















