Advertisement
تفریح

ممتازمزاح نگار مشتاق احمدیوسفی کو مداحوں سے بچھڑے 4 برس بیت گئے

لاہور : اپنی تحریروں سے مسکراہٹیں بکھیرنے والے مایہ ناز ادیب اور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی  چوتھی  برسی آج منائی جا رہی ہے۔ ان کا انداز بیاں اورطرزسخن آج بھی پڑھنے والوں سحرمیں مبتلا کردیتا ہے ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Jun 20th 2022, 3:11 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ممتازمزاح نگار مشتاق احمدیوسفی کو مداحوں سے بچھڑے 4 برس بیت گئے

مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1923 کو جے پور راجستھان بھارت میں پیدا ہوئے ، انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی، بعدازاں پاکستان بننے کے بعد اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کی اورپیشہ وارانہ ذمے داریوں کے دوران مختلف بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ۔ 

مشتاق احمد یوسفی  نے ایک بینکر ہونے کے باوجود اردو ادب میں مزاح نگاری کا جو اعلیٰ معیار قائم کیا اور اپنے پیچھے پانچ جن ادبی شہ پاروں کو چھوڑا ہے وہ اردو دنیا کے لئے ایک نایاب تحفہ ہیں ۔

ان کی پہلی کتاب ’’چراغ تلے‘‘ 1941ء میں چھپی جب کہ دوسری ’’خاکم بدہن‘‘ 1949ء، ’’زرگزشت‘‘ 1974ء، ’’آب گم‘‘ 1990ء اور آخری کتاب ’’شام ِ شعرِ یاراں ‘‘2014ء میں چھپی۔ 

مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں انشائیے، خاکے،آپ بیتی سب ہی انداز شامل ہیں،جسے پڑھ کر اردو زبان کے مزاحیہ ادب کا ہر قاری ان  کاگرویدہ نظر آتاہے ،  مشتاقی یوسفی اردومزاح نگاری میں اپنی جداگانہ تحریروں کی وجہ سے ہردورمیں مقبول رہے۔

ادب میں ان کی  نمایاں خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں 1999 میں ستارہ امتیاز جبکہ 2002 میں ہلال امتیاز سے نوازا۔

ادب سے وابستہ افراد کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی ،سیاسی ،تہذیبی اورادبی ہررنگ کی جھلک ملتی ہے ۔ 

مشتاق احمد یوسفی 20جون 2018 کو نمونیا کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث 94 سال کی عمر میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ 

Advertisement
وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم

  • 4 hours ago
تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات 

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات 

  • 10 hours ago
روٹی تو مل  ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟

روٹی تو مل  ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟

  • 4 hours ago
صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ

  • 10 hours ago
افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے

  • 8 hours ago
وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ

  • 4 hours ago
اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ 

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ 

  • 9 hours ago
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

  • 9 hours ago
خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر

  • 8 hours ago
کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی 

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی 

  • 3 hours ago
 آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر

 آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر

  • 9 hours ago
 پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت

 پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت

  • 7 hours ago
Advertisement