جی این این سوشل

علاقائی

کراچی میں مون سون کے دوران اربن فلڈنگ کا خدشہ ، متعلقہ اداروں کو ایڈوائزی جاری 

کراچی والے تیار ہوجائیں، محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یکم سے 5 جولائی تک کراچی اور حیدرآباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور اربن فلڈنگ کا امکان ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

کراچی میں مون سون کے دوران اربن فلڈنگ کا خدشہ ، متعلقہ اداروں کو ایڈوائزی جاری 
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

صوبائی دارالحکومت کراچی  یکم  سے پانچ جولائی تک کراچی ، حیدرآباد، بدین اور ٹھٹہ میں موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے، اس حوالے سے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ایڈوائزری جاری کردی۔

رپورٹس کے مطابق موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے تین سے پانچ جولائی تک کراچی اور حیدرآباد میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔

پی ڈی ایم اے سندھ نے متعلقہ اداروں کو ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ممکنہ اربن فلڈنگ اور دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کیلیے مشینیں اور عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے، ضروت مند افراد کی مدد کے لئے ایمرجنسی ہیلپ لائن، اسپتالوں میں بجلی کی مسلسل فراہمی کیلیے جنرینٹر اور دیگر انتظامات کئے جائیں۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے ماہی گیروں کو تین سے پانچ جولائی تک سمندر میں جانے سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان

ہمیں جناح اور بھٹو کا پاکستان بنانا ہے، شیری رحمان

وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی اور رہنما پاکستان پیپلز پارٹی شیری رحمان  کا کہنا ہے کہ ہمیں جناح اور بھٹو کا پاکستان بنانا ہے، جس میں ہر شہری برابر ہو، جس میں تقسیم، نفرت اور تفریق کی کوئی جگا نہ ہو۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہمیں جناح اور بھٹو کا پاکستان بنانا ہے، شیری رحمان

 

قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کے دن پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے تاریخی خطاب کیا تھا۔ جناح نے اس تقریر میں واضع کر دیا تھا وہ کس طرح کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھی تھی جس میں اکثریت اور اقلیت کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔

جناح نے قانون ساز اسیمبلی کے خطاب میں واضع کر دیا تھا کہ وہ اکثریت اور اقلیت میں تفریق نہیں چاہتے۔ انہوں نے مساوات، ہم آہنگی اور ترقی پسند سوچ پر زور دیا، اس لئے اقلیتوں کا تحفظ کرنا اور ان کے حقوق اور آزادیوں کو یقینی بنانا ریاست اور ہر شہری کا آئینی اور قومی فرض بنتا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ جناح کے ویژن کے مطابق شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 میں اقلیتوں کے حقوق اور آزادیوں کو آئین کا حصہ بنایا۔ شہید بھٹو کا آئین اقلیتوں کو برابر کا شہری تصور کرتا ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے 1988 میں اقلیتوں کے حقوق پر خصوصی توجہ دی اور ‘اقلیت ہمارہ اعتماد’ کا نعرہ لگایا۔

2009 میں آصف علی زرداری نے 11 اگست کو اقلیتوں کا قومی دن منانے کا اعلان کیا۔ یہ دن منانے کا مقصد جناح کی 11 اگست 1947 کے خطاب کو اجاگر کرنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ ہمیں جناح اور بھٹو کا پاکستان بنانا ہے، جس میں ہر شہری برابر ہو۔ جس میں تقسیم، نفرت اور تفریق کی کوئی جگا نہ ہو۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے ، اقلیتوں کے قومی دن پر وزیراعظم کا پیغام 

اسلام آباد: وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کی طرف سے اقلیتوں کے قومی دن کے مو قع پرخصوصی  پیغام    جاری کیا گیا ہے ۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے ، اقلیتوں کے قومی دن پر وزیراعظم کا پیغام 

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے، دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے ، ہمارے آئین میں مذہب کی آزادی اور ہماری اقلیتوں کی جان ومال اور املاک کی تکریم کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی ہے ، پاکستان بلا کسی ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے ہم سب کا ہے اور ہم سب نے مل کر ہی اسکی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

اقلیتوں کے قومی دن کے مو قع پر وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں ہر سال پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اقلیتوں کے کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے ، انکے ہماری عظیم قوم کا لازم حصہ ہونے اور مذہبی اقلیتوں کے احترام کے عزم کا اعادہ کرنے کیلئے 11 اگست کو “قومی اقلیتی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین میں مذہب کی آزادی اور ہماری اقلیتوں کے افراد اور املاک کی تکریم کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نہ صرف ان ذمہ داریوں کا بخوبی ادراک ہے بلکہ ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنے عزم کی مستقل یاد دہانی کے طور پر حکومت نے 11 اگست کو سرکاری سطح پر شاندار طریقے سے قومی اقلیتی دن کے طور پر منانے فیصلہ کیا ہے ۔ ان اسباب کا خاتمہ اور خامیوں کی اصلاح کرنا جو سماجی و مذہبی استحصال کا باعث بن سکتی ہیں، ہماری حکومت کی پالیسیوں کا بنیادی ستون ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ سماجی و اقتصادی خلیج کو پورا کرنے اور ہماری اقلیتوں کے لیے تعلیمی اداروں اورنمایاں خدمات کے لیے نمائندہ فورمز پر خصوصی کوٹہ مختص کرنے جیسے اقدامات سے قومی سطح پر ہر کسی کو یکساں تعلیم و ترقی کے مواقع کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔  اس کے علاوہ اقلیتوں کے معاشی طور پر کمزور طبقات کے حقوق کے یقینی تحفظ اور ترقی کے لیے وقف مالی امداد بھی ان اقدامات کا حصہ ہے۔

شہبازشریف  نے کہا کہ میں اقلیتوں کی بہتری اور ہماری قومی ترقی کی کوششوں اور جدوجہد میں ان کی مکمل شمولیت کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور انہیں مزید وسعت دینے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔

وزیر اعظم نے کہاکہ میں اس موقع پر تمام اقلیتی برادریوں کے اپنے بھائیوں سے بھی اپیل کروں گا کہ وہ رواداری اور باہمی اتفاق کی فضا کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہی واحد راستہ ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینے کے ہمارے مشترکہ مقصد کے حصول کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بلا کسی ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے ہم سب کا ہے اور ہم سب نے مل کر ہی اسکی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تفریح

بھارتی کامیڈین راجو شری واستو وینٹی لیٹر پر منتقل

ممبئی : گزشتہ روز دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہسپتال منتقل ہونیوالے معروف بھارتی کامیڈین راجو شری واستو کو وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بھارتی کامیڈین راجو شری واستو وینٹی لیٹر پر منتقل

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسٹینڈ اپ کامیڈین راجو شری واستو  کو ورزش  کے دوران سینے میں درد ہوا اور وہ گر گئے جہاں  انہیں   دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس) لے جایا گیا، جہاں کامیڈین کو دو بار سی پی آر دیا گیا تاکہ ان کی طبیعت بحال ہوجائے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، ڈاکٹرز کی جانب سے دیے گئے تازہ ترین بیان میں بتایا گیا ہے کہ کامیڈین راجو کی طبیعت سنبھل نہیں رہی ہے جس کی وجہ سے اُنہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ڈاکٹرز نے یہ بھی بتایا کہ اُن کی جان خطرے میں ہے اور اُن کا علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ راجو شری واستو کا شمار  بھارت  کے کامیاب اسٹینڈ اپ کامیڈینز میں ہوتا ہے ، وہ 1980 کی دہائی سے انٹرٹینمنٹ کی صنعت سے وابستہ ہیں۔

انہیں بین الاقوامی شناخت اسٹینڈ اپ کامیڈی شو ’دی گریٹ انڈین لافٹر چیلنج ‘ کے پہلے شو سے ملی، انہوں نے کئی فلموں میں کام کیا، راجو شری واستو فلم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کونسل اترپردیش کے موجودہ چیئرمین بھی ہیں۔  وہ بگ باس سیزن تھری کا بھی حصہ رہے ہیں۔

 

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll