اسلام آباد: سپریم کورٹ میں وزیراعلٰی پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست پر سماعت وقفہ کے بعد دوبارہ شروع کردی گئی ہے ۔


تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ درخواست کی سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل ہیں۔
سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی سپیکر اور حکومتی اتحاد کے وکلا نے دلائل دینے سے معذرت کر لی ۔ ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ’مجھے میرے موکل نے بائیکاٹ کا کہا ہے ، حکومتی اتحاد کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ’ہمیں بھی بائیکاٹ کی ہدایت کی گئی ہے، فل کورٹ سے متعلق فیصلے پر نظرثانی دائر کریں گے۔
چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے مکالمہ کیا کہ آپ تو کیس کے فریق ہی نہیں، اس کے بعد عدالت نے پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا۔
دورانِ سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جوازپیش نہیں کیا گیا، عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پرعمل کرنے سے متعلق دلائل دیے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں، اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس سوال کے جواب کیلئے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں، اس کیس کو جلد مکمل کرنے کو ترجیح دیں گے، فل کورٹ بنانا کیس کو غیر ضروری التوا کا شکار کرنے کے مترادف ہے، فل کورٹ بنتا تو معاملہ ستمبرتک چلا جاتا کیونکہ عدالتی تعطیلات چل رہی ہیں۔
چودھری پرویز الٰہی کے وکیل علی طفر نے عدالت کو بتایا کہ ’اکیسویں ترمیم کے خلاف درخواستیں 13/4 کے تناسب سے خارج ہوئی تھیں۔ درخواستیں خارج کرنے کی وجوہات بہت سے ججز نے الگ الگ لکھی تھیں۔‘
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر کو ہدایت کی کہ ’قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں، دوسرا راستہ ہے کہ ہم اس بنچ سے الگ ہو جائیں۔‘
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’عدالت کا بائیکاٹ کرنے والے تھوڑا دل بڑا کریں اور کارروائی سنیں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’ عدالت کے سامنے آٹھ ججز کے فیصلہ کا حوالہ دیا گیا۔ آرٹیکل 63 اے سے متعلق آٹھ ججز کا فیصلہ اکثریتی نہیں ہے۔ جس کیس میں آٹھ ججز نے فیصلہ دیا وہ 17 رکنی بینچ تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 63 سے پر فیصلہ 9 رکنی ہوتا تو اکثریتی کہلاتا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا۔‘
انہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا سترہ میں سے آٹھ ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟فل کورٹ بنچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا ۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’گورننس اور بحران کے حل کے لیے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’دلائل کے دوران اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا، اکیسویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’فریقین کے وکلاء کو بتایا تھا کہ آئین گورننس میں رکاوٹ کی اجازت نہیں دیتا، صدر کی سربراہی میں 1988 میں نگران کابینہ سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دی تھی۔
گزشتہ روز کا فیصلہ
گزشتہ روز سپریم کورٹ نے فل کورٹ بنانےکی درخواست مستردکردی تھی جس کے بعد حکمران اتحاد نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
گزشتہ روز عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ معاملے کی بنیاد قانونی سوال ہےکہ ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ سنجیدہ اور پیچیدہ معاملات پر بنایا جاتا ہے اور موجودہ کیس پیچیدہ نہیں۔

فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ
- a day ago

پیپلز پارٹی کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات،حکومتی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار
- a day ago

ہم خطے کے ممالک پر نہیں ،امریکی اڈوں پر حملہ کرتے ہیں،جو ہمارا جائز ہدف ہیں،عباس عراقچی
- 21 hours ago

پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس، شرکاء کا ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور
- an hour ago

اسرائیلی فورسزکی جارحیت جاری ، لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی، 52 افراد جاں بحق
- a day ago

کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی
- a day ago

پاکستان سپر لیگ کا گیارہویں ایڈیشن: افتتاحی تقریب اور میچ کی تفصیلات سامنے آ گئیں
- a day ago
.jpg&w=3840&q=75)
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع
- a day ago
آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی
- an hour ago

174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام
- a day ago

ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی
- a day ago

مودی سرکار نے اسرائیل کی حمایت کر کے بھارت کی سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا ہے،سونیا گاندھی
- a day ago













