Advertisement
Mobin
Advertisement
پاکستان

وزیراعلی پنجاب کون ہوگا ؟ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں وزیراعلٰی پنجاب کے انتخاب پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست پر سماعت مکمل کر لی گئی ، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 سال قبل پر جولائی 26 2022، 9:16 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
وزیراعلی پنجاب کون ہوگا ؟ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس پر فیصلہ محفوظ

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ درخواست کی سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل ہیں ۔ کیس کی سماعت  پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جبکہ چیف جسٹس 5.45 پر فیصلہ سنائیں گے۔

دوارن سماعت چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ میں بیان دیا اور انہوں نے ضمنی الیکشن پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز نے کہا تھا کہ ضمنی الیکشن کے نتائج پر رن آف الیکشن منظور ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ رضامندی دیتے وقت حمزہ شہباز عدالت میں موجود تھے؟ 

اس پر مسلم لیگ ق کے سربراہ پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز عدالت میں موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی اور ڈپٹی سپیکر کے وکلاء میرٹ پر عدالتی سوالات کی جواب نہیں دے سکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا معاملہ طے ہو چکا۔ اب مزید تشریح کی ضرورت ہی نہیں۔  ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بھی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی کوشش کی ہے، کوشش اچھی ہے لیکن ایڈووکیٹ جنرل کی تشریح درست نہیں۔ 

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ فریق دفاع نے الیکشن کمیشن کے منحرف ارکان کے خلاف فیصلہ کا حوالہ دیا ہے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ کیا ضمنی انتخابات کے بعد منحرف ارکان کی اپیل تک سماعت روکنے کا اعتراض ہو سکتا ہے؟

علی ظفر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصولی طور پر منحرف ارکان کی اپیلوں کو پہلے سننے کا اعتراض نہیں بنتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کوئی شبہ نہیں پارٹی سربراہ کا اہم کردار ہے لیکن ووٹنگ کے لیے ہدایات پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ جاری کرتا ہے۔‘

چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے رولنگ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق نہیں دی ۔ پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کو ہدایات دے سکتا ہے لیکن ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی نے کرنا ہے۔ 

وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے کہا کہ ’سپریم کورٹ فیصلے سے قبل کچھ باتیں سامنے رکھے۔ تحریک انصاف کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ’تین ماہ سے وزیراعلٰی پنجاب کا معاملہ زیر بحث تھا۔ ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے۔ 

اس سے قبل سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی سپیکر اور حکومتی اتحاد کے وکلا نے دلائل دینے سے معذرت کر لی ۔ ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ’مجھے میرے موکل نے بائیکاٹ کا کہا ہے ، حکومتی اتحاد کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ’ہمیں بھی بائیکاٹ کی ہدایت کی گئی ہے، فل کورٹ سے متعلق فیصلے پر نظرثانی دائر کریں گے۔

چیف جسٹس نے فاروق  نائیک سے مکالمہ کیا کہ آپ تو کیس کے فریق ہی نہیں، اس کے بعد عدالت نے پرویز  الٰہی کے وکیل علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا۔

دورانِ سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جوازپیش نہیں کیا گیا، عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پرعمل کرنے سے متعلق دلائل دیے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں، اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس سوال کے جواب کیلئے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں، اس کیس کو جلد مکمل کرنے کو ترجیح دیں گے، فل کورٹ بنانا کیس کو غیر ضروری التوا کا شکار کرنے کے مترادف ہے، فل کورٹ بنتا تو معاملہ ستمبرتک چلا جاتا کیونکہ عدالتی تعطیلات چل رہی ہیں۔

چودھری پرویز الٰہی کے وکیل علی طفر نے عدالت کو بتایا کہ ’اکیسویں ترمیم کے خلاف درخواستیں 13/4 کے تناسب سے خارج ہوئی تھیں۔ درخواستیں خارج کرنے کی وجوہات بہت سے ججز نے الگ الگ لکھی تھیں۔‘

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر کو ہدایت کی کہ ’قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں، دوسرا راستہ ہے کہ ہم اس بنچ سے الگ ہو جائیں۔‘

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’عدالت کا بائیکاٹ کرنے والے تھوڑا دل بڑا کریں اور کارروائی سنیں۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’ عدالت کے سامنے آٹھ ججز کے  فیصلہ کا حوالہ دیا گیا۔ آرٹیکل 63 اے سے متعلق آٹھ ججز کا فیصلہ اکثریتی نہیں ہے۔ جس کیس میں آٹھ ججز نے فیصلہ دیا وہ 17 رکنی بینچ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 63 سے پر فیصلہ 9 رکنی ہوتا تو اکثریتی کہلاتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا۔‘

انہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا سترہ میں سے آٹھ ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟فل کورٹ بنچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا ۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’گورننس اور بحران کے حل کے لیے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’دلائل کے دوران اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا، اکیسویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’فریقین کے وکلاء کو بتایا تھا کہ آئین گورننس میں رکاوٹ کی اجازت نہیں دیتا، صدر کی سربراہی میں 1988 میں نگران کابینہ سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دی تھی۔

گزشتہ روز کا فیصلہ 

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے فل کورٹ بنانےکی درخواست مستردکردی تھی جس کے بعد حکمران اتحاد نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ روز عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ معاملے کی بنیاد قانونی سوال ہےکہ ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ سنجیدہ اور پیچیدہ معاملات پر بنایا جاتا ہے اور موجودہ کیس پیچیدہ نہیں۔

Advertisement
Moib
پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر شدید گولہ باری، دھماکوں سے خوف وہراس

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر شدید گولہ باری، دھماکوں سے خوف وہراس

  • 11 گھنٹے قبل
ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی

ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی

  • 2 دن قبل
 ہم خطے کے ممالک پر نہیں ،امریکی اڈوں پر حملہ کرتے ہیں،جو ہمارا جائز ہدف ہیں،عباس عراقچی

 ہم خطے کے ممالک پر نہیں ،امریکی اڈوں پر حملہ کرتے ہیں،جو ہمارا جائز ہدف ہیں،عباس عراقچی

  • 2 دن قبل
پاکستان سپر لیگ کا گیارہویں ایڈیشن: افتتاحی تقریب اور میچ کی تفصیلات سامنے آ گئیں 

پاکستان سپر لیگ کا گیارہویں ایڈیشن: افتتاحی تقریب اور میچ کی تفصیلات سامنے آ گئیں 

  • 2 دن قبل
کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

  • 2 دن قبل
پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے، فیلڈ مارشل

پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے، فیلڈ مارشل

  • 3 گھنٹے قبل
ٹی20 ورلڈکپ: نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو 9 وکٹوں سے شکست دیکر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

ٹی20 ورلڈکپ: نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو 9 وکٹوں سے شکست دیکر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

  • 10 گھنٹے قبل
پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس، شرکاء کا ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور

پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس، شرکاء کا ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور

  • 16 گھنٹے قبل
174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام

174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام

  • 2 دن قبل
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع

ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع

  • 2 دن قبل
آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی

آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی

  • 16 گھنٹے قبل
فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ

فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ

  • 2 دن قبل
Advertisement