جی این این سوشل

جرم

اے این ایف نے چمن بارڈر پر منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی

اسلام آباد: اے این ایف نے پاک افغان بارڈر، چمن پر منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

اے این ایف نے چمن بارڈر پر منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

انسداد منشیات فورس کے ترجمان کے مطابق اے این ایف نے چمن بارڈر میں منشیات اسمگلرز کے خلاف کارروائی کے دوران عمار دین نامی افغان باشندے سے 3 کلوگرام آئس برآمد کرلی ۔

ملزم کو معمول کی چیکنگ کے دوران گرفتار کیا گیا ۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ ملزم منشیات افغانستان سے پاکستان سمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھاجسے ناکام بنادیا گیا۔

ملزم کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

 

پاکستان

پاکستان کا ڈیفالٹ رسک خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے، مفتاح اسماعیل

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کا ڈیفالٹ رسک خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان کا ڈیفالٹ رسک خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے، مفتاح اسماعیل

 

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سوشل میڈیا پر اپنا آرٹیکل شیئر کر دیا۔ انہوں نے لکھا کہ دسمبر کے بانڈز کی ادائیگی کے بعد بھی ڈیفالٹ کا خطرہ ختم نہیں ہوگا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے معاہدے پر عمل نہ کرنے سے ڈیفالٹ کا رسک بڑھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں جبکہ مارکیٹوں اور قرض دہندگان کو یقین دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دینی چاہیے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے درست قدم نہ اٹھائے تو انہیں پی ٹی آئی پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں۔ 2013 سے 2018 کے دوران برآمدات میں 38 فیصد کمی ہوئی اور 38 فیصد برآمدات میں کمی سے دوسرا بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف معاہدے پر عمل نہ کرنے سے معیشت کو مشکلات پیش آئیں تاہم ہم نے آئی ایم ایف سے دوبارہ معاہدہ کیا جس کے باعث مشکل فیصلے کرنا پڑے۔ آج اوپن مارکیٹ اور انٹربینک میں ڈالر کے ریٹ میں بڑا فرق ہے اور اسٹیٹ بینک غیر رسمی طور پر ایکسچینج ریٹ پر بینکوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آزاد کشمیر میں 31 سال بعد بلدیاتی انتخابات، پولنگ جاری

مظفر آباد: آزاد کشمیر میں 31 سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آزاد کشمیر میں 31 سال بعد بلدیاتی انتخابات، پولنگ جاری

 

آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن میں انتخابات ہو رہے ہیں جس کے لیے پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔

مظفرآباد ڈویژن 3 اضلاع پر مشتمل ہے جس میں ضلع مظفرآباد، ضلع نیلم اور ضلع جہلم ویلی شامل ہیں۔ ضلع مظفرآباد میں ایک ہزار 643 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جہاں 15 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

ضلع مظفرآباد میں پولنگ اسٹیشنز کی کل تعداد 791 ہے جن میں سے 199 کو حساس اور 142 اسٹیشنز کو نہایت حساس قرار دیا گیا ہے۔ مظفر آباد میں ووٹرز کی کل تعداد 4 لاکھ 8 ہزار 868 ہے جس میں 616 مہاجرین ووٹرز بھی شامل ہیں۔ مظفرآباد میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 19 ہزار 173 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 89 ہزار 695 ہے۔

مظفرآباد کے حلقہ دو لچھراٹ کھتیلی پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کے دوران لڑائی ہوئی جس میں 5 افراد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ لڑائی کے بعد کھتیلی پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کا عمل روک دیا گیا۔ لڑائی تحریک انصاف اور آزاد امیدوار کے حامیوں کے درمیان ہوئی تھی۔

ضلع نیلم میں 529 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جہاں ایک امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکا ہے۔ ضلع نیلم میں ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 29 ہزار 298 ہے جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 69 ہزار 475 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 59 ہزار 823 ہے۔ ضلع نیلم میں 243 پولنگ اسٹیشز قائم کیے گئے ہیں۔

ضلع جہلم ویلی میں 544 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور 4 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ جہلم ویلی میں ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار 774 ہے جس میں 16 مہاجرین ووٹرز بھی شامل ہیں۔

ضلع جہلم ویلی میں مرد ووٹرز کی تعداد 83 ہزار545 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 71 ہزار 229 ہے۔ ضلع جہلم ویلی میں 276 پولنگ اسٹیشز قائم کیے گئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی لانگ مارچ اسلام آباد نہ آیا لیکن سکیورٹی کے نام پر خزانے سے کروڑوں خرچ

پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے باعث وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی اخراجات کی تفصیل سامنے آگئی۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی لانگ مارچ اسلام آباد نہ آیا لیکن سکیورٹی کے نام پر خزانے سے کروڑوں خرچ

دستاویز کے مطابق اسلام آباد میں سکیورٹی کے نام پر 25 کروڑ 63 لاکھ روپےخرچ ہوئے جبکہ وزارت داخلہ نے39 کروڑ92لاکھ روپے سے زائد کا بجٹ منظورکرایا تھا۔

رقم کینٹینرز لگانے، فورسز کے قیام وطعام اورشیلز کی خریداری کیلئے تھی۔

اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں پر سیکڑوں کینٹینرز تقریباً ایک ماہ رکھے گئے اور اسلام آباد میں مجموعی طور 13 ہزار 800 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جس میں اسلام آباد اور سندھ کی پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکار شامل تھے۔

دستاویز کے مطابق اہلکاروں نے 2442شیل بھی استعمال کیے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ راولپنڈی سے واپس ہوگیا، اسلام آباد نہیں آیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll