جی این این سوشل

علاقائی

سندھ بھر میں تیز بارشوں کی پیش گوئی ،  تعلیمی ادارے آج  بند 

کراچی : محکمہ موسمیات نے آج بھی سندھ بھر میں تیز بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔سندھ حکومت نے آج تمام  تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کررکھا ہے ۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سندھ بھر میں تیز بارشوں کی پیش گوئی ،  تعلیمی ادارے آج  بند 
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق  کراچی، حیدرآباد اور ٹنڈوالہ یار سمیت سندھ کے مختلف  شہروں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔ شدید بارش کا سلسلہ19 اگست تک  جاری رہنے کاامکان ہے۔

بارش کے باعث کراچی کی ملیر ندی کے سیلابی پانی میں بہنے والی گاڑی ندی سے ملی گئی، تاہم گاڑی میں سوار 7 افراد کا فی الحال پتہ نہیں چل سکا۔

ایم نائن لنک روڈ پر کار سیلابی ریلے میں بہنے کی بھی اطلاعات ہیں، کے پی ٹی گراؤنڈ کے قریب دو منزلہ عمارت گرگئی جہاں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

شہر قائد میں بارشوں کے بعد کورنگی کاز وے روڈ ٹریفک کے لیے تاحال بند ہے، میمن گوٹھ کے قریب ملیر ندی پر بنے ریزروائر کی دیوار سے کئی فُٹ اوپر سے پانی گزر رہا ہے۔

دوسری جانب صوبے میں مزید تیز بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر سندھ حکومت نے آج تمام تعلیمی اداروں اور جامعات  میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے ۔ 

وزیر تعلیم سندھ کاکہنا ہے  کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کراچی میں آج جمعرات کو تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

پاکستان

حکومتی اراکین کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ، واک آؤٹ کر گئے

صدرمملکت  نے اراکین کی عدم توجہ کے باوجود  اپنا خطاب جاری رکھا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومتی اراکین کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ، واک آؤٹ کر گئے

حکومتی اراکین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے دوران بائیکاٹ کر دیا اور ایوان سے باہر چلے گئے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت عارف علوی کا خطاب جاری تھا کہ اس دوران حکومتی اراکین نے شور شرابا کیا، بعدازاں واک آؤٹ کر گئے۔ صدر کے خطاب کے دوران حکومتی بنچز تقریباً خالی ہوگئے۔

صدرمملکت  نے اراکین کی عدم توجہ کے باوجود  اپنا خطاب جاری رکھا۔

اس دوران ایوان میں پی ٹی آئی کا کوئی بھی ایم این اے یا سینیٹر موجود نہیں تھا تاہم پی ٹی آئی کے چند منحرف اراکین ایوان میں موجود تھے۔

ارکان پارلیمنٹ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلی کو نہیں مانتے اس لیے بائیکاٹ کیا، مشترکہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی کر رہےہیں،انہیں بھی نہیں مانتے.

مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام ن بھی صدر مملکت کے خطاب کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا۔

 مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ یہ وہ صدر ہیں جنہوں نے آئین توڑا، عارف علوی نے اس اسمبلی کو بھی تحلیل کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب ، صدر مملکت خطاب کریں گے

اسلام آباد: پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج (جمعرات) شام پانچ بجے اسلام آباد میں ہو گا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب ، صدر مملکت خطاب کریں گے

تفصیلات کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے ۔  پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 ون اور 56 تھری کے تحت طلب کیا گیا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 56 (3) کے تحت ہر نو منتخب قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز صدر مملکت کے خطاب سے ہو گا اور ہر پارلیمانی سال کا آغاز بھی صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ ہو گا۔

دوسری جانب  قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح ساڑھے دس بجے ہوگا۔

 

 

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوگئی نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

 

وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے دلائل دئیے کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے، اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے۔

وکیل نثار کھوڑو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واوڈا کا سارا جھگڑا سینیٹ کی نشست کا ہے، وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہا کہ فیصل واوڈا نے نہ حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی کب جمع کرائے؟ وکیل نے جواب دیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے اور ان پر اسکروٹنی 18 جون کو ہوئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ وکیل نے بتایا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا، ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے، امریکن کونسلیٹ جا کر نائیکاپ کینسل کرایا۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ نے کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر نیشنیلٹی منسوخ کرائی؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ نیشنیلٹی چھوڑ رہا ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے ایمبیسی جا کر زبانی بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے آپ نے زحمت ہی نہیں کی کہ دوہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟ وکیل نے دلائل دئیے کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ جب آپ نے امریکی سفارت خانے جا کر شہریت کینسل نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے جاری کر دیا؟

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر نااہل قرار دیا تھا

الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ جھوٹا حلف نامہ جمع کراوانے کے مرتکب ہوئے۔ فیصل واوڈا سنہ 2018 کا الیکشن لڑنے کے وقت اہلیت نہیں رکھتے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll