Advertisement
پاکستان

عمران خان براڈ شیٹ میں اپنے لئے این آر او لینے کی راہ ہموار کررہے ہیں : مریم اورنگزیب

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) نے براڈ شیٹ معاملے پر جسٹس (ر) شیخ عظمت سعید کی تقررری مسترد کردی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان اختیار کا ناجائز استعمال کرکے براڈ شیٹ میں اپنے لئے این آر او لینے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jan 31st 2021, 8:50 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا بیان میں کہنا ہے کہ  پاکستان مسلم لیگ (ن) شیخ عظمت سعید کی تقرری کو مسترد کرتی ہے،  وہ غیرجانبدار نہیں رہے۔ یہ وَن مین کمیشن ہی بنانا ہے تو عمران صاحب، شہزاد اکبر اور کرائے کے ترجمان بھی اس میں شامل کرلیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ  نوٹیفیکیشن میں جن برسوں کا ذکر ہے، ان میں عظمت سعید نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے، نوٹیفیکیشن ثبوت ہے کہ حکومت براڈ شیٹ میں پکڑے جانے والے چوروں، کمیشن خوروں کو سزا دینے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

مسلم لیگ ن کی رہنما  مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ  یہ اقدام آئین، قانون، شفافیت اور انصاف کا قتل ہے، کمیشن، شئیر اور کٹ مانگنے والوں کو بچانے کی کوشش ہے، عمران صاحب اختیار کا ناجائز استعمال کرکے براڈ شیٹ میں اپنے لئے این آر او لینے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ براڈ شیٹ کوجب کنٹریکٹ دیاگیا، قومی خزانے کو نقصان پہنچایاگیا تو شیخ عظمت سعید ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نیب تھے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ   جس مدت، فیصلے اور ملزم نیب کے خلاف تحقیقات ہونی ہے، شیخ عظمت سعید اس وقت اس کا حصہ تھے، غیرجانبدار کیسے ہوسکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ حکومت شیخ عظمت سعید کو ہی لانے پر کیوں مصر ہے؟ توجہ اور مقصد تو غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونا چاہئے۔جس شخصیت پر سوالات ہیں، اسی کی تقرری پر حکومتی ضد اس کی بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ   نمائندہ وکلاءتنظیمیں بھی اس تقرری کو مسترد کرچکی ہیں لیکن حکمرانوں کو قانون، قاعدے اور انصاف کے تقاضوں کی پرواہ نہیں ہے، موجودہ صورت میں یہ محض عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے جو ہمیں ہرگز قبول نہیں ہے،قومی خزانہ لوٹنے والوں کا حساب نہ ہونا حکمرانوں کے لٹیرے ہونے کا ثبوت ہے۔عمران صاحب کو معلوم ہے کہ وہ غیرجانبدارانہ تحقیقات کا خطرہ مول نہیں لے سکتے کیونکہ ان کے پر جلتے ہیں۔

براڈ شیٹ کیس کیا ہے اور نیب معاہدہ :

1999 میں جنرل پرویز مشرف نے کرپٹ سیاستدانوں  احتساب کے لیے قومی احتساب بیورو نیب  قائم کیا ۔  لہذا کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی پہلی مرتبہ سال  2000 میں نیب کے لیے  کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ نیب نے برطانوی رجسٹرڈ براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی سراغ رساں کمپنی کے ساتھ مبینہ ناجائز طور پر کمائی گئی دولت کے ذریعے خریدے گئے غیرملکی اثاثوں کا پتہ لگانے کے لئے معاہدہ کیا اور 200اہداف کے نام براڈ شیٹ کو فراہم کیے گئے ۔سال 2000 میں نیب کے   معاہدے میں یہ قرار دیا گیا  کہ کمپنی جو بھی اثاثے برآمد کرے گی اس کا 20 فیصد حصہ کمپنی کو ملے گا اور بقیہ نیب کے پاس جائے گا۔اس معاہدے میں براڈشیٹ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ نیب کی جگہ اثاثے ضبط کرنے کے لیے ضروری قانونی کارروائی یا قانونی چارہ جوئی کی کارروائی شروع کر سکتی تھی۔نیب اور براڈشیٹ نے ایک بینک اکاؤنٹ کھولنے پر بھی اتفاق کیا تھا جس کو نیب اور کمپنی کو مشترکہ طور پر کنٹرول کرنا تھا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ برآمد ہونے والی تمام اثاثوں کی رقم کو اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔

2003 میں پاکستان حکومت نے یہ کہہ کر یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کر دیا کہ فرم کی جانب سے کوئی قابل عمل اطلاعات فراہم نہیں کی گئیں۔تاہم فرم کا موقف تھا کہ اس نے لسٹ میں شامل افراد کے اثاثوں کے حوالے سے قابل ذکر معلومات فراہم کی ہیں تاہم نیب نے ان افراد سے اس معلومات کی بنا پر ڈیل کر لی ہے۔

اسی دعوے کی بنیاد پر براڈ شیٹ ایل ایل سی نے حکومت پاکستان اور نیب کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں جرمانے کا دعویٰ کر دیا۔ 2003میں معاہدے کی منسوخی پر کمپنی نے واجب الادا 2کروڑ 20لاکھ ڈالر کی وصولی کے لئے لندن ہائی کورٹ میں نیب کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس کے ساتھ 4ہزار 758ڈالر یومیہ کا اس پر سود بھی لگایا گیا تھا۔

  20 مئی 2008 میں براڈ شیٹ کیساتھ سیٹلمنٹ، 1.5 ملین ڈالرز کی ادائیگی ہوئی،2009 میں معلوم ہوا کہ  ادائیگی  ایسے شخص کو کی گئی جس کا تعلق اس کمپنی سے نہیں تھا  ۔ 2009سے 2016 تک یہ مقدمہ چلتا رہا  ، براڈشیٹ کےساتھ جنوری2016 میں لائیبلٹی کا کیس شروع ہوا،ہائیکورٹ  فیصلے پر حکومت پاکستان نے جولائی 2019 کو اپیل فائل کی ، اس کا فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آیا۔  پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد جولائی 2019 میں پاکستان نے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کی مگر فیصلہ تبدیل نہیں ہوا ۔ 31 دسمبر 2020 کو ثالثی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے براڈ شیٹ کو  2کروڑ 87لاکھ ڈالرزجرمانہ ادا کیا۔

Advertisement
پاک فوج کے خلاف مبینہ بیان بازی، عدالت نے مولانا فضل الرحمٰن کو 28 جولائی کو طلب کر لیا

پاک فوج کے خلاف مبینہ بیان بازی، عدالت نے مولانا فضل الرحمٰن کو 28 جولائی کو طلب کر لیا

  • ایک دن قبل
ملک میں آج بھی سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی

ملک میں آج بھی سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی

  • 2 دن قبل
400کلو چاندی چوری کیس میں سابق کلکٹرکسٹم سمیت 5 مزید ملزمان گرفتار

400کلو چاندی چوری کیس میں سابق کلکٹرکسٹم سمیت 5 مزید ملزمان گرفتار

  • 2 دن قبل
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے

  • 3 دن قبل
ہندو انتہا پسند رہنما کا مشہور اداکارکو قتل کرنے پر 5 کروڑ روپے انعام کا اعلان

ہندو انتہا پسند رہنما کا مشہور اداکارکو قتل کرنے پر 5 کروڑ روپے انعام کا اعلان

  • ایک دن قبل
فیلڈ مارشل عاصم منیراور ترک صدرکی ملاقات میں پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو

فیلڈ مارشل عاصم منیراور ترک صدرکی ملاقات میں پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو

  • 2 دن قبل
پنجاب میں 12 جعلی و غیر معیاری ادویات پکڑی گئیں

پنجاب میں 12 جعلی و غیر معیاری ادویات پکڑی گئیں

  • 3 دن قبل
لالی وڈ کی نئی آنیوالی فلم ’ریڈ لائن‘ کے گانے کی مقامی اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ

لالی وڈ کی نئی آنیوالی فلم ’ریڈ لائن‘ کے گانے کی مقامی اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ

  • 2 دن قبل
11واں کلر اینڈ کیم ایکسپو18  جولائ سے لاہور میں منعقد ہوگی

11واں کلر اینڈ کیم ایکسپو18 جولائ سے لاہور میں منعقد ہوگی

  • ایک دن قبل
بھارت میں پابندی کے باوجود دلجیت دوسانجھ کی فلم 'ستلج' کی نمائش جاری، عالمی سطح پر بھی تنازع شدت اختیار کر گیا

بھارت میں پابندی کے باوجود دلجیت دوسانجھ کی فلم 'ستلج' کی نمائش جاری، عالمی سطح پر بھی تنازع شدت اختیار کر گیا

  • 2 دن قبل
بہترین کارکردگی پر شیخوپورہ پولیس کے سات افسران کو اعزازات سے نوازا گیا

بہترین کارکردگی پر شیخوپورہ پولیس کے سات افسران کو اعزازات سے نوازا گیا

  • 19 گھنٹے قبل
کوہاٹ میں بارش کے باعث کچے مکان کی چھت گر گئی، 11 افراد جاں بحق، 12 زخمی

کوہاٹ میں بارش کے باعث کچے مکان کی چھت گر گئی، 11 افراد جاں بحق، 12 زخمی

  • 2 دن قبل
Advertisement