جی این این سوشل

جرم

ٹی20 ورلڈکپ؛ شرکت کرنے والی ٹیم کے ہر کھلاڑی کو کتنی رقم ملے گی؟

آسٹریلیا میں  کھیلے گئے ٹی20 ورلڈکپ 2022 کا اختتام انگلینڈ  تو ہوچکا ہے مگر اس بڑے ٹؤرنامنٹ کی انعامی رقم نے پاکستانی کھلاڑیوں کو رنر اپ ہونے پر بھی مالا مال کردیا ہے ،

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ٹی20 ورلڈکپ؛ شرکت کرنے والی ٹیم کے ہر کھلاڑی کو کتنی رقم ملے گی؟
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

  فائنل میں شکست خوردہ پاکستانی ٹیم کے ہر کھلاڑی کو کتنی رقم ملے گی  اس کا بھی ممکنہ طور پر پتہ چل گیا ہے ، اور رقم رنراپ کے طور پر ملے گی وہ بھی سامنے آگئی ہے ۔

میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ایونٹ کے فائنل میں پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں پانچ وکٹوں کی ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایونٹ کے فائنل میں پہنچنے پر قومی ٹیم کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے 8 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی روپوں میں 18 کروڑ 11 لاکھ روپے ملیں گے۔

اسی طرح پاکستانی ٹیم کو سپر 12 مرحلے میں تین میچز کی جیت کی صورت میں $120,000 ($40,000) ملیں گے، جو تمام کھلاڑیوں میں مساوی تقسیم ہوگی جبکہ ایک حصہ ٹیم مینجمنٹ کو دیا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق ہر کھلاڑی کو تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ روپے ملیں گے جبکہ محمد حسنین اور خوشدل شاہ کو بغیر میچ کھیلے بھاری معاوضہ ملے گا۔
دوسری جانب آئی سی سی نے ٹورنامنٹ کے دوران ہر کھلاڑی کو 125 آسٹریلوی ڈالر (83 امریکی ڈالر) کا یومیہ الاؤنس بھی دیا۔

پاکستان

جو بھی الیکشن کو 90 دن سے آگے لے کر جائے گا اس پر آرٹیکل 6 لگے گا:عمران خان

لاہور: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی الیکشن کو 90 دن سے آگے لے کر جائے گا اس پر آرٹیکل 6 لگے گا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جو بھی الیکشن کو 90 دن سے آگے لے کر جائے گا اس پر آرٹیکل 6 لگے گا:عمران خان

انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی آڑلے کر الیکشن میں تاخیرکرنا ملک کے ساتھ زیادتی ہو گی، گورنر کے خط سے خدشات بڑھ گئے ہیں، دہشت گردی پی ٹی آئی کے خلاف ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فواد چودھری کو گرفتار کر کے پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، نگراں حکومت ہم پر تشدد کرنے کیلئے لائی گئی ہے، کل پرویز الٰہی کے گھر پولیس بھجوا دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مجھ پر حملے کی جے آئی ٹی کا سارا ریکارڈ سیل کر دیا گیا، ان سب کے پیچھے کون ہے جو اتنا طاقتور ہے؟ جے آئی ٹی کی 16 دسمبر کی فرانزک رپورٹ میں 2 شوٹرز کا ذکر ہے، 3 جنوری کی فرانزک رپورٹ میں کہا گیا ہے 3 شوٹرز تھے، نگراں حکومت جے آئی ٹی کے معاملات میں مداخلت کررہی ہے، ان افسران کو لگایا جا رہا ہے جو اینٹی پی ٹی آئی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میرا نام ای سی ایل پر ڈال دیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے، مصدقہ اطلاعات ہیں جو افسران زرداری کے ساتھ ملے ہیں ان کے نام بھی معلوم ہیں، ایف آئی آر کروانا میرا حق ہے، مجھے دہشت گردی کے ذریعے مارنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ قیامت کی نشانی ہے کہ آصف زرداری نے مجھ پر ہتک عزت کا کیس کر دیا، عدالت آصف زرداری سے پوچھے کہ آپ کی کوئی ساکھ ہے جو متاثر ہوئی ہے؟ ساری دنیا میں آصف زرداری مسٹر 10 پرسنٹ کے نام سے مشہور ہیں، چاہتا ہوں میرے خلاف آصف زرداری ضرورعدالت جائیں، عدالت میں میرے پاس آصف زرداری کے خلاف پوری کتاب ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ مشرف نے انہیں این آراو ون اور جنرل باجوہ نے این آراوٹو دیا، حکومت میں آکرانہوں نے اپنے کرپشن کے کیسزختم کیے، اپنے 1100 ارب روپے کے کیسز معاف کروائے، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے عوام مسائل کا شکار ہو گئے ہیں، ابھی ملک میں مزیدمہنگائی آنی ہے، آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے، ہم 16 ارب ڈالرز کے ذخائر چھوڑ کر گئے تھے آج 3 ارب ڈالرز رہ گئے ہیں، ابھی پیٹرول اور ڈیزل مزید بڑھے گا، گیس اور بجلی کی قیمتیں اور اوپر جائیں گی۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے افغانستان کیلئے جنگ لڑی، 30 سال پہلے قبائلی علاقوں پر ایک کتاب لکھی، پروپیگنڈے کے ذریعے کسی کی جنگ کو اپنی جنگ بنایا گیا، یہ جنگ ہماری نہیں تھی، ہم نے اس کیلئے ڈالرز لیے، 2001 میں امریکہ افغانستان میں گیا تو سب کو پتہ تھا اس کا ردعمل آئے گا، قبائلی علاقہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں بہت پرامن تھا، قبائلی علاقے میں فوج بھیجنا بہت بڑی غلطی تھی،  میں نے اسمبلی میں کہا کہ قبائلی علاقے کی تاریخ پڑھ لیں، میری جماعت اور ایم ایم اے نے امریکی مداخلت کی بہت مخالفت کی تھی، 2002 میں پشتونوں نے ایم ایم اے کو ووٹ دیا اور بتا دیا کہ وہ امریکہ کے خلاف ہیں، ہم امریکہ کی جنگ میں پڑتے گئے تو ردعمل آتا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے پہلی بار ٹی ٹی پی کا نام سنا، مجھے طالبان خان کہا گیا، اس کے بعد ڈرون حملے شروع ہوئے جو آہستہ آہستہ بڑھتے گئے، قبائلی علاقے میں ڈرون حملوں میں بے گناہ لوگ مارے جاتے تھے، ہماری حکومت نے خیبرپختونخوا پولیس کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا، ہماری حکومت آئی تو افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں معاونت کی، ہمارا مؤقف تھا افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں امن ہو گا، ہم نے پوری کوشش کی کہ بات چیت ہو لیکن فیل ہو گئے، اشرف غنی صدر تھے تو میں خود بھی کابل گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کاافتتاع کرنا باعث فخر ہے،وزیراعظم

نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری پاکستان چین دوستی کامنہ بولتا ثبوت ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کاافتتاع کرنا باعث فخر ہے،وزیراعظم

کراچی: وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری پاکستان اور چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کاافتتاع کرنا باعث فخر ہے۔

نیوکلیئرکے تھری منصوبے نے نوازشریف دور میں حتمی شکل اختیار کی تھی، امید ہے سی پیک کے جو منصوبے ماضی میں تعطل کاشکار ہوئے دوبارہ بحال ہونگے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دیامر، بھاشا اور داسو ڈیم کی تکمیل میں 5سال لگ سکتے ہیں،پاکستان میں 60 ہزارمیگاواٹ ہائیڈل پاور کی پیداواری صلاحیت ہے،اللہ تعالی نے پاکستان کو بہت سے وسائل سے نوازا ہے۔

 امید ہے دوست ملک چین فی میگاواٹ کی قیمت کم کرے گا، توانائی کی ضرورت پوری کرنے میں پن بجلی کردار اداکر سکتی ہے، داسو ڈیم منصوبے پر کام جاری ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پشاور سانحہ، ایک ایک شہید کا بدلہ لیں گے:آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری

پشاور سانحہ کے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پشاور سانحہ، ایک ایک شہید کا بدلہ لیں گے:آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری

پشاور: آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم پشاور سانحہ کے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے،ایک ایک شہید کا بدلہ لیں گے۔
 
آئی جی خیبرپختونخوا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے،میرے بچوں کو احتجاج پر اکسانا ہماری تکالیف میں اضافہ کررہاہے، 3دن میں صرف  3گھنٹے سویا ہوں، پشاور دھماکے کے بعدافسران سمیت ہم سب  غمزدہ ہیں۔

ہم نے وردی پہنی ہے لیکن ہم بھی انسان ہیں،میں کوتاہی کا ذمہ دار اہلکاروں کو نہیں بلکہ خود کو سمجھتا ہوں، یہ جنگ خون کی جنگ ہے، محافظ ہی تحفظ کی بات کریں تو کیسے چلے گا؟

ہم دہشتگردوں کے نیٹ روک کے قریب ہیں، حملہ آور پولیس یونیفارم میں تھا چہرے پر ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll